شاعری

ہم اسے پیار کا تحفہ بھی نہیں دے سکتے

ہم اسے پیار کا تحفہ بھی نہیں دے سکتے مسئلہ یہ ہے کہ دھوکا بھی نہیں دے سکتے بیچ مجھدھار میں خود چھوڑ دی جس نے پتوار اب اسے تم کوئی تنکا بھی نہیں دے سکتے دریا دل وہ کے ہمیں سونپ دی غم کی جاگیر خود غرض ہم اسے حصہ بھی نہیں دے سکتے چاند بھی دور ادھر اور ہوا بھی ہے خلاف ہم تو اڑتا ہوا ...

مزید پڑھیے

ہے شکایت دل کو ایسا کیوں نہیں

ہے شکایت دل کو ایسا کیوں نہیں جب تو میرا ہے تو لگتا کیوں نہیں جب نظر سے مل نہیں پاتی نظر خواب سے باہر نکلتا کیوں نہیں لگ رہی ہے کیوں تھمی دنیا مجھے تو بھی موسم سا بدلتا کیوں نہیں ہے زباں چپ اور دھڑکن تیز ہے تو اشاروں کو سمجھتا کیوں نہیں جسم ٹھنڈا پڑ گیا سنتوشؔ کا آگ اپنی اس کو ...

مزید پڑھیے

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا اک ادھوری سی غزل کو یوں مکمل کر دیا کچھ تو دیوانہ تھا میں پہلے ہی اس کے عشق میں اس نے چلمن یوں ہٹائی مجھ کو پاگل کر دیا اس کے جلووں کا کرشمہ تھا کہ جس نے دوستو ساری دنیا کو مری آنکھوں سے اوجھل کر دیا میں بہت الجھا ہوا تھا زندگی کے پھیر ...

مزید پڑھیے

ہے کہاں کون ہے کیسا وہ نظر آتا ہے

ہے کہاں کون ہے کیسا وہ نظر آتا ہے خود میں کم مجھ میں زیادہ وہ نظر آتا ہے کیا تعلق ہے مرا اس سے بتاؤں کیسے ہر دعا میں مجھے چہرہ وہ نظر آتا ہے تشنگی جب مجھے دیدار کی تڑپائے تو ایسے حالات میں دریا وہ نظر آتا ہے گھیر لیتے ہیں مجھے جب بھی اندھیرے غم کے میرا ہمدرد اکیلا وہ نظر آتا ...

مزید پڑھیے

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا

اس نے بکھرے کاغذوں کو چھو کے صندل کر دیا اک ادھوری سی غزل کو یوں مکمل کر دیا کچھ تو دیوانہ تھا میں پہلے ہی اس کے عشق میں اس نے چلمن یوں ہٹائی مجھ کو پاگل کر دیا اس کے جلوؤں کا کرشمہ تھا کہ جس نے دوستو ساری دنیا کو مری آنکھوں سے اوجھل کر دیا میں بہت الجھا ہوا تھا زندگی کے پھیر ...

مزید پڑھیے

کتنی گہری یہ شناسائی لگے

کتنی گہری یہ شناسائی لگے جھوٹ وہ بولے تو سچائی لگے اتنا پاگل ہوں میں ان کے عشق میں بھیڑ میں بھی مجھ کو تنہائی لگے تم نہیں ہو ساتھ جب میرے صنم شول جیسی مجھ کو پروائی لگے باغباں تیری بدولت ہی یہاں ہر کلی گلشن کی مرجھائی لگے چاہتا ہوں اس قدر تجھ کو کہ اب ہر برائی تیری اچھائی ...

مزید پڑھیے

کوئی آ کر سکھا گیا ہے مجھے

کوئی آ کر سکھا گیا ہے مجھے زندگی جینا آ گیا ہے مجھے میری قسمت کہ اپنی محفل میں خود وہ آ کر بلا گیا ہے مجھے پاس آ کر کوئی اشاروں میں راز الفت بتا گیا ہے مجھے کوئی کم ظرف میرے جیون پر کرکے احساں جتا گیا ہے مجھے دھیرے دھیرے سہی مگر یارو صبر کرنا تو آ گیا ہے مجھے کوئی سنتوشؔ خواب ...

مزید پڑھیے

مٹ گئے نقش سبھی دل کے دکھاؤں کیسے

مٹ گئے نقش سبھی دل کے دکھاؤں کیسے ایک بھولا ہوا قصہ میں سناؤں کیسے جا چکا ہے جو سبھی توڑ کے رشتہ مجھ سے سوچتا ہوں اسے آواز لگاؤں کیسے اہمیت دل کی یہاں لوگ سمجھتے ہی نہیں ان کو اس بات کا احساس دلاؤں کیسے تشنگی اس کی بلاتی ہے اشاروں سے مجھے میں سمندر کی بھلا پیاس بجھاؤں ...

مزید پڑھیے

دریا پہ بارشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا

دریا پہ بارشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا مجھ پر بھی سازشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا دنیا نے کوششیں تو بہت کیں مگر جناب ان پر سفارشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا دل چیر کر بھی میں نے دکھایا اسے مگر ظالم پہ خواہشوں کا اثر کچھ نہیں ہوا وہ میرے ہر سوال پہ پتھر بنا رہا ناداں پہ پرسشوں کا اثر کچھ نہیں ...

مزید پڑھیے

قید میں کیسے دائرے میں ہوں

قید میں کیسے دائرے میں ہوں کون ہے جس کے سلسلے میں ہوں آپ تو میٹھی نیند سوتے ہیں اور میں صدیوں سے رت جگے میں ہوں اب نہیں کوئی فکر دنیا کی چین سے اپنے مقبرے میں ہوں مجھ کو منزل ملی نہیں اب تک ایک مدت سے راستے میں ہوں ان کی یادوں کو بھولنا ہے مجھے یوں میں سنتوشؔ میکدے میں ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 909 سے 4657