شاعری

دامن تہیں کئے ہوئے سینہ ابھار کے

دامن تہیں کئے ہوئے سینہ ابھار کے جاتا ہے کوئی قرض گلستاں اتار کے پھولوں کا ہار رکھ دو گلے سے اتار کے دن لد گئے گلوں کے اب آئے ہیں خار کے خاموش ہو گیا کوئی آنکھیں پسار کے لمحے ہوئے نہ ختم ترے انتظار کے وہ کیا گئے کہ روح گلستاں نکل گئی آئی نہیں خزاں کہ گئے دن بہار کے ہر ایک گام پر ...

مزید پڑھیے

پہلے تھا اشک بار آج بھی ہے

پہلے تھا اشک بار آج بھی ہے دل میرا سوگوار آج بھی ہے میں نہیں ہوں کسی بھی لائق پر آپ کو اعتبار آج بھی ہے جو تھا پہلے وہی ہے رشتۂ دل پیار وہ بے شمار آج بھی ہے عشق آنکھیں بچھائے بیٹھا ہے آپ کا انتظار آج بھی ہے لاکھ دنیا نے توڑنا چاہا دل سے دل کا قرار آج بھی ہے

مزید پڑھیے

زندگی سے دور کب تک جاؤ گے

زندگی سے دور کب تک جاؤ گے کس طرح سچائی کو جھٹلاؤ گے سادگی اتنی میاں اچھی نہیں زندگی میں روز دھوکا کھاؤ گے تلخ یادیں دل سے مٹتی ہی نہیں زندگی میں چین کیسے پاؤ گے تم غموں کو مات دینا سیکھ لو اشک پیکر کب تلک غم کھاؤ گے اپنی کمزوری کو ظاہر مت کرو ورنہ ہر سودے میں گھاٹا کھاؤ گے

مزید پڑھیے

گزرے وقتوں کی وہ تحریر سنبھالے ہوئے ہیں

گزرے وقتوں کی وہ تحریر سنبھالے ہوئے ہیں دل کو بہلانے کی تدبیر سنبھالے ہوئے ہیں باندھ رکھا ہے ہمیں جس نے ابھی تک جاناں ہم محبت کی وہ زنجیر سنبھالے ہوئے ہیں دیکھتے رہتے ہیں اجداد کے چہرے جس میں ہم وفاؤں کی وہ تصویر سنبھالے ہوئے ہیں جن لکیروں میں نجومی نے کہا تھا تو ہے دونوں ...

مزید پڑھیے

ہر کہی ان کہی سمجھتا ہے

ہر کہی ان کہی سمجھتا ہے دل تری خامشی سمجھتا ہے چپ یوں ہی بے سبب نہیں رہتا وہ مری شاعری سمجھتا ہے دل کو الجھا نہ یوں سوالوں میں یہ تری سادگی سمجھتا ہے ہر کسی سے نہیں کیا کرتے بات کب ہر کوئی سمجھتا ہے میں سمجھتی ہوں جو تجھے ہمدم کیا مجھے تو وہی سمجھتا ہے روٹھتا ہی نہیں کسی ...

مزید پڑھیے

نہیں چھوڑ سکتا میں روتا سمندر

نہیں چھوڑ سکتا میں روتا سمندر اگر میرا دشمن بھی ہوتا سمندر میں ہجرت جو کرتا کسی بھی جہاں میں تمام عمر آنکھوں سے ڈھوتا سمندر ترے ماتھے پر میں سجاتا ستارے تری آنکھوں میں بھی سموتا سمندر کہیں چاند تارے نہانے کو آتے کہیں بادلوں میں بھگوتا سمندر اسے جاگنے کی سزا مل رہی ہے نہیں ...

مزید پڑھیے

اس کی آنکھ میں ایسا خواب اتارا ہے

اس کی آنکھ میں ایسا خواب اتارا ہے جس کے اندر میرا جیون سارا ہے سچ پوچھو تو جیون ہم کو جیتا ہے اس جیون کو ہم نے کہاں گزارا ہے کمرے میں ہے روشنی تیرے بالوں سے بالوں میں جو پھول ہے ایک ستارا ہے لفظوں سے خوشبو سی آنے لگتی ہے ناچتے ہیں وہ لفظ کہ جنہیں پکارا ہے دھرتی سے امبر تک دوڑ ...

مزید پڑھیے

اک زمانہ گزر گیا ہے مجھے (ردیف .. ا)

اک زمانہ گزر گیا ہے مجھے اک خدا نے گلے لگایا تھا جو مرے ساتھ چلا آیا تھا تیری آواز کا ہی سایا تھا میں نے آواز دوبارہ دی ہے شاید اک بار سن نہ پایا تھا تیری پیشانی کے ستارے کو دل مرا چومنے کو آیا تھا ایک زنجیر کھولنی ہوگی ایک پاؤں اگر اٹھایا تھا ایک خوشبو مجھے بلاتی ہے اک تمنا ...

مزید پڑھیے

دیکھ لو ضد پہ اڑا ہے اب تک

دیکھ لو ضد پہ اڑا ہے اب تک دل ترے ساتھ کھڑا ہے اب تک کوئی ہے کھینچ نکالے اس کو درد سینے میں گڑا ہے اب تک خواب میں بھی نہ دکھائی دے تو ہائے کیا قحط پڑا ہے اب تک کوئی صورت ہو دکھائی تو دے تو کہ آنکھوں میں جڑا ہے اب تک وہ جہاں تو نے مجھے چھوڑا تھا اس جگہ پیڑ کھڑا ہے اب تک

مزید پڑھیے

میں تری بات چنبیلی سے کروں

میں تری بات چنبیلی سے کروں شعر کہہ دوں کہ پہیلی سے کروں ایسی طاری ہے اداسی اب کہ کب ترا ذکر سہیلی سے کروں آنکھ میں بھیگتا ہے کاجل بھی رنگ جو ماند ہتھیلی سے کروں لوٹ آتی ہے ترے نام کی گونج جوں صدا بند حویلی سے کروں دن سے کچھ دوستی نہیں میری بات میں رات اکیلی سے کروں

مزید پڑھیے
صفحہ 911 سے 4657