دنیا نے سچ کو جھوٹ کہا کچھ نہیں ہوا
دنیا نے سچ کو جھوٹ کہا کچھ نہیں ہوا اتنا لہو زمیں پہ بہا کچھ نہیں ہوا پہلے بھی کربلا میں مشیت خموش تھی اب اک چراغ اور بجھا کچھ نہیں ہوا فرعون مصلحت سر طور نظر رہے موسیٰ بھی لے کے آئے عصا کچھ نہیں ہوا میرے لہو کو چہرے پہ مل کر مری زمیں دیتی رہی فلک کو صدا کچھ نہیں ہوا تثلیث بے ...