شاعری

دنیا نے سچ کو جھوٹ کہا کچھ نہیں ہوا

دنیا نے سچ کو جھوٹ کہا کچھ نہیں ہوا اتنا لہو زمیں پہ بہا کچھ نہیں ہوا پہلے بھی کربلا میں مشیت خموش تھی اب اک چراغ اور بجھا کچھ نہیں ہوا فرعون مصلحت سر طور نظر رہے موسیٰ بھی لے کے آئے عصا کچھ نہیں ہوا میرے لہو کو چہرے پہ مل کر مری زمیں دیتی رہی فلک کو صدا کچھ نہیں ہوا تثلیث بے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کے دریچوں سے سراب اترے ہیں کتنے

آنکھوں کے دریچوں سے سراب اترے ہیں کتنے اک جاں ہے مگر اس پہ عذاب اترے ہیں کتنے شاید تمہیں کھوئی ہوئی جنت کہیں مل جائے دیکھو مری ان آنکھوں میں خواب اترے ہیں کتنے جب ساعت احساں تھی تو اک بوند نہ برسی جب اٹھ گئے پیاسے تو سحاب اترے ہیں کتنے دنیا تجھے میں دیکھوں تو کن آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

جو بھی سیکھا کتابوں سے بتاؤ اب

جو بھی سیکھا کتابوں سے بتاؤ اب چلو یہ کارواں آگے بڑھاؤ اب بھلا کب تک سہو گے ظلم چپ رہ کر بھرو ہنکار آوازیں اٹھاؤ اب محبت سے کرو چارہ گری دل کی دلوں سے نفرتیں مل کر مٹاؤ اب ترس کھاؤ نہیں بس حال پر میرے یہ لازم ہے گلے سے بھی لگاؤ اب انا کا گر نہیں ہے مسئلہ کوئی تو دو آواز اور مجھ ...

مزید پڑھیے

ٹکڑوں میں ملک جب بھی بٹتا ہے

ٹکڑوں میں ملک جب بھی بٹتا ہے جسم کا کوئی حصہ کٹتا ہے تیرا میرا جب آئے رشتوں میں پھر کئی حصوں میں گھر بٹتا ہے روز یوں جنگلوں کو کٹتا دیکھ دھرتی کا بھی کلیجہ پھٹتا ہے حوصلے اور جنوں کی دھار سے تو پروتوں کا بھی سینا کٹتا ہے یاد رہتی ہے جانے والے کی لیکن اس کا اثر تو گھٹتا ہے بات ...

مزید پڑھیے

سہولت غم ہجراں کو کم کیا جائے

سہولت غم ہجراں کو کم کیا جائے گھٹن میں تازہ اداسی کو ضم کیا جائے کتاب میں تو کئی پھول تم نے رکھے ہیں مری جبیں پہ بھی بوسا رقم کیا جائے میں پورے دن کی تھکن گھر میں لے کے آیا ہوں اداسیو مجھے پھر تازہ دم کیا جائے کئی گلاب اگانے ہیں اس جگہ مجھ کو بدن کی خشک زمینوں کو نم کیا ...

مزید پڑھیے

کبھی اس پر یوں بھی میرا اثر جائے

کبھی اس پر یوں بھی میرا اثر جائے گلی سے میری گزرے تو ٹھہر جائے وہ بھی گر بے دلی سے ٹھکرا دے مجھ کو تو پھر یہ دل کسے چاہے کدھر جائے نہیں چاہت مجھے اب گھر سجانے کی جی تو کرتا ہے اب سب کچھ بکھر جائے گزرتی ہے قیامت میرے اس دل پر کبھی جو سامنے سے وہ گزر جائے ہے جادو انگلیوں میں اس قدر ...

مزید پڑھیے

یوں بھی تو رشتہ جو تھا وہ بچا لیا جاتا

یوں بھی تو رشتہ جو تھا وہ بچا لیا جاتا بڑھا کے ہاتھ جو ان سے ملا لیا جاتا کہ اچھا تھا تبھی ماری گئی مجھے ٹھوکر برا جو ہوتا تو سر پر بٹھا لیا جاتا جو ہوتا ان کی وفا پے یقیں مرے دل کو تو ان کے در پے یہ سر بھی جھکا لیا جاتا یہ چاند پھر بھلا کس بات پے یوں اتراتا جو ان کے چہرے سے پردا ...

مزید پڑھیے

تیرے جانے کا غم کم نہیں

تیرے جانے کا غم کم نہیں چشم پھر بھی مری نم نہیں دل کہیں اب لگے کیسے جب گھر ہی میرا منظم نہیں شہر بھر میں ہیں بسمل مگر ڈھونڈھو تو کوئی مرہم نہیں یہ بھی ہے اک اثر عشق کا سب لٹا کر بھی کچھ غم نہیں سب کی پیشانی پر سلوٹیں کون ہے جو کہ برہم نہیں اس کی نظر عنایت تو ہے سلسلہ پر یہ پیہم ...

مزید پڑھیے

گلے ملتے ہیں آؤ دل لگاتے ہیں

گلے ملتے ہیں آؤ دل لگاتے ہیں نظر میں دنیا کی پاگل ہو جاتے ہیں چلو نادانیوں کے بیج بو کر ہم دلوں میں پھر وہی بچپن اگاتے ہیں کہاں محفوظ ہے دل ان کے سینہ میں وہ ہی تو دھڑکنیں دل کی بڑھاتے ہیں کئی بار اب تلک یہ داؤں ہے کھیلا کہ دل بہلانے کو دل ہی لگاتے ہیں بھلے ہم جیت بھی جائیں ...

مزید پڑھیے

مرے دونو جہاں تم شاد کرتی ہو

مرے دونو جہاں تم شاد کرتی ہو یوں اپنی زلف جب آزاد کرتی ہو حیا سے جب جھکاتی ہو نظر اپنی ہزاروں خواہشیں آباد کرتی ہو شجر غم زاد ہے اک میرے آنگن میں اسے تم مسکرا کر شاد کرتی ہو ستانے اور پھر مجھ کو منانے کے طریقے تم نئے ایجاد کرتی ہو تمہیں میں بھیڑ میں بھی یاد کرتا ہوں ہو تنہا بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 893 سے 4657