شاعری

اسیری سے تو یہ اچھا ہے مر جا

اسیری سے تو یہ اچھا ہے مر جا ہوا کے وار سے پہلے بکھر جا تجھے کھا جائے گی یہ بے پناہی سمندر آ مرے پیالے میں بھر جا تجھے شاید یہ دنیا مان جائے اسی ضد میں کبھی حد سے گزر جا بچھڑ جانے پہ آخر کیوں تلا ہے قدم کو روک لے اب بھی ٹھہر جا بہت سفاک ہیں یہ لوگ ساجدؔ انہی میں رہ انہیں حیران کر ...

مزید پڑھیے

ہے اب دشمن وہی اپنا بہت تھا

ہے اب دشمن وہی اپنا بہت تھا اسے ہم نے کبھی چاہا بہت تھا اندھیرا ہی اندھیرا دور تک تھا بچھڑ کے اس سے میں رویا بہت تھا ابھرنا چاہتے تھے اور ڈوبے سمندر پیار کا گہرا بہت تھا زمانے کو بھلا دینے کی خاطر تصور میں ترا چہرہ بہت تھا ہمارے ساتھ ساجدؔ نبھ نہ پائی مگر وہ دوست تو اچھا بہت ...

مزید پڑھیے

جب جب وہ سر طور تمنا نظر آیا

جب جب وہ سر طور تمنا نظر آیا میں کیسے کہوں وہ مجھے کیا کیا نظر آیا ہستی کے در و بست کا مارا نظر آیا ہر شخص تماشہ ہی تماشا نظر آیا دیکھا جو زمانہ کو کبھی اچھی نظر سے جو بھی نظر آیا ہمیں اچھا نظر آیا کعبہ میں جو دیکھا وہی بت خانے میں پایا جیسا وہ مرے دل میں تھا ویسا نظر آیا کیا یہ ...

مزید پڑھیے

بے کیف جوانی ہے بے درد زمانہ ہے (ردیف .. ')

بے کیف جوانی ہے بے درد زمانہ ہے ناکام محبت کا اتنا ہی فسانہ ہے ساون کا مہینہ ہے موسم بھی سہانا ہے آ جاؤ جو آنا ہے آ جاؤ جو آنا ہے اے کاش کوئی کہہ دے اس چشم فسوں گر سے نظروں کا چرانا ہی نظروں کا ملانا ہے آغاز محبت سے انجام محبت تک ''اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے''

مزید پڑھیے

صبح کو چین نہ ہو شام کو آرام نہ ہو

صبح کو چین نہ ہو شام کو آرام نہ ہو اس سے بہتر ہے مری صبح نہ ہو شام نہ ہو محفل دور غزل صرف مے و جام نہ ہو زندگی میری بھلا کیسے بد انجام نہ ہو ہر گھڑی سامنے ہے سلسلۂ دار و رسن تجھ سا ظالم کوئی اے گردش ایام نہ ہو نا مرادی کی شکایت ذرا یہ تو سوچیں نا مرادی ہی کہیں عشق کا انعام نہ ...

مزید پڑھیے

کیا تماشا دیکھیے تحصیل لا حاصل میں ہے

کیا تماشا دیکھیے تحصیل لا حاصل میں ہے ایک دنیا کا مزا دنیائے آب و گل میں ہے دیکھ یہ جذب محبت کا کرشمہ تو نہیں کل جو تیرے دل میں تھا وہ آج میرے دل میں ہے میں بھلا کس سے کہوں کیا کیا کہوں کیسے کہوں موت سے پہلے ہی مر جانے کی خواہش دل میں ہے موج و شورش انقلاب و اضطراب و رست و خیز ہے ...

مزید پڑھیے

چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے

چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو اندھیری رات طوفانی ہوا ٹوٹی ہوئی کشتی یہی اسباب کیا کم تھے کہ اس پر ناخدا تم ہو زمانہ دیکھتا ہوں کیا کرے گا مدعی ہو کر نہیں بھی ہو تو بسم اللہ میرے مدعا تم ہو ہمارا پیار رسوائے زمانہ ہو نہیں ...

مزید پڑھیے

خوں رلاتی رہی اک عمر شب تار مجھے

خوں رلاتی رہی اک عمر شب تار مجھے تب کہیں جا کے ملے صبح کے آثار مجھے میں نہ یوسف ہوں نہ یہ شہر زلیخا یارو کیوں چلے آئے ہو لے کر سر بازار مجھے گھر میں لائی تو ہے بیتابیٔ دل دیکھ ذرا کہیں پہچان نہ لیں یہ در و دیوار مجھے میں تو ہوں سرحد امکاں سے گزرنے والا پا سکے گی نہ کبھی وقت کی ...

مزید پڑھیے

سروں پہ دھوپ تو آنکھوں میں خواب پتھر کے

سروں پہ دھوپ تو آنکھوں میں خواب پتھر کے وہ سنگ دل تھے سو اترے عذاب پتھر کے ہوائے کوچۂ جاناں سے حال پوچھا تھا اسی خطا پہ ملے ہیں جواب پتھر کے یہ کون سنگ صفت پانیوں میں اترا ہے اٹھے ہیں آب رواں سے حباب پتھر کے ہوائیں بانجھ زمیں بے ثمر نظر ویراں کہ اب کے برسے ہوں جیسے سحاب پتھر ...

مزید پڑھیے

وہ جو سب کچھ ہے اسے دور بٹھا رکھا ہے

وہ جو سب کچھ ہے اسے دور بٹھا رکھا ہے خواہشیں ہیں جنہیں معبود بنا رکھا ہے کچھ تو ہے تیرگیٔ دل میں اجالے کے لیے تو نہیں ہے تری یادوں کو بلا رکھا ہے ہر کوئی اپنے ہی پرتو میں ہے سرگرم سفر میں نے ماحول کو آئینہ دکھا رکھا ہے اس کا باطن بھی ہے خورشید قیامت کی طرح یہ جو اک طاق میں چھوٹا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 892 سے 4657