شاعری

زمانوں سے در امکان پر رکھے ہوئے ہیں

زمانوں سے در امکان پر رکھے ہوئے ہیں چراغوں کی طرح طوفان پر رکھے ہوئے ہیں فضاؤں میں مہک جلنے کی بو پھیلی ہوئی ہے کسی نے پھول آتش دان پر رکھے ہوئے ہیں ذرا سا بھی گماں تیری شباہت کا تھا جن پر وہ سب چہرے مری پہچان پر رکھے ہوئے ہیں خوشی کو ڈھونڈھنا ممکن نہیں اس کیفیت میں کچھ ایسے ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں میں کئی سپنے کئی ارمان تھے لیکن

ان آنکھوں میں کئی سپنے کئی ارمان تھے لیکن سکوت لب کی تہہ میں کس قدر طوفان تھے لیکن عقیدت کب تھی اسناد شعور و فہم کی قائل ہجوم شہر کا کچھ پارسا ایمان تھے لیکن رسائی منزل مقصود تک ممکن سی لگتی تھی بظاہر آگہی کے مرحلے آسان تھے لیکن لگا کر ان کو دل سے میں سفر کرتا رہا برسوں وہ کچھ ...

مزید پڑھیے

ترے خیال سے ذرا خوشی ہوئی

ترے خیال سے ذرا خوشی ہوئی اداسی تھوڑی دیر ملتوی ہوئی درخت شب چراغ اور تیرگی تمہارے بعد سب سے دوستی ہوئی ترے بدن کو چھو رہی تھیں انگلیاں ہتھیلیوں میں تیز روشنی ہوئی اسے لگا مجھے یقین ہو گیا وہ خوش بہت ہے جھوٹ بولتی ہوئی بنا دی اس نے چھو کے زندگی مری چلا دی اس نے ریل اک رکی ...

مزید پڑھیے

یہ کسی جسم کی اداسی ہے

یہ کسی جسم کی اداسی ہے جو مسلسل مجھے بلاتی ہے منزلیں ٹھیک ہے الگ ہوں گی بات تو یار راستے کی ہے روتے روتے کسی سہارے کو پیٹھ دیوار سے لگا لی ہے نیند بھی آ چکی ہے آنکھوں تک رات بھی ختم ہونے والی ہے زندگی نے بہت اجاڑا مجھے میں نے تب زندگی اجاڑی ہے

مزید پڑھیے

سیکڑوں دل یہاں کچلتے ہوئے

سیکڑوں دل یہاں کچلتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے اس کو چلتے ہوئے کتنی حسرت سے مجھ کو تکتا ہے رات بھر اک چراغ جلتے ہوئے بارہا کوششوں کے بعد آنسو گر پڑا آنکھ سے سنبھلتے ہوئے اس نے نظروں کو میری دیکھ لیا اپنے رخسار پر ٹہلتے ہوئے وصل کے بعد کی وہ خاموشی صبح کو پیرہن بدلتے ہوئے

مزید پڑھیے

اداس ہونٹوں سے اتنی ہنسی نکلتی ہے

اداس ہونٹوں سے اتنی ہنسی نکلتی ہے کہ تپتی ریت سے جتنی نمی نکلتی ہے وہ جب بھی رات کو چھت پر ٹہلنے جاتا ہے بہت جھجھکتے ہوئے چاندنی نکلتی ہے مجھے سکوں نہیں دیتی ہیں اب تری یادیں اب ان دیوں سے بہت تیرگی نکلتی ہے ہماری آنکھ میں خوشیاں تلاشنے والے کبھی بھی ریت سے کیا جل پری نکلتی ...

مزید پڑھیے

قربتیں نہ بن پائے فاصلے سمٹ کر بھی

قربتیں نہ بن پائے فاصلے سمٹ کر بھی ہم کہ اجنبی ٹھہرے آپ سے لپٹ کر بھی حادثوں نے ہر صورت اپنی زد میں رکھنا تھا ہم نے چل کے دیکھا ہے راستے سے ہٹ کر بھی آگہی کی منزل سے لوٹ جائیں ہم کیسے اس جگہ نہیں جائز دیکھنا پلٹ کر بھی ہم نے لاکھ سمجھایا دل مگر نہیں مانا مطمئن سا لگتا ہے کرچیوں ...

مزید پڑھیے

سحر و شام میں تنظیم کہاں ہوتی ہے

سحر و شام میں تنظیم کہاں ہوتی ہے خواہش صبح کی تجسیم کہاں ہوتی ہے لوٹ لے جاتا ہے بس چلتا ہے جس کا جتنا روشنی شہر میں تقسیم کہاں ہوتی ہے ان محلوں میں جہاں ہم نے گزاری ہے حیات مدرسے ہوتے ہیں تعلیم کہاں ہوتی ہے شہریاروں نے اجاڑا ہو جسے ہاتھوں سے پھر سے آباد وہ اقلیم کہاں ہوتی ...

مزید پڑھیے

روشنی سے تیرگی تعبیر کر دی جائے گی

روشنی سے تیرگی تعبیر کر دی جائے گی رنگ سے محروم ہر تصویر کر دی جائے گی عدل کے معیار میں آ جائیں گی تبدیلیاں بے گناہی لائق تعزیر کر دی جائے گی ہر نظر کو آرزوؤں کا سمندر بخش کر ہر زباں پر تشنگی تحریر کر دی جائے گی دب کے رہ جائیں گے جذبوں کے اجالے ایک دن ظلمت افلاس عالمگیر کر دی ...

مزید پڑھیے

شب تاریک چپ تھی در و دیوار چپ تھے

شب تاریک چپ تھی در و دیوار چپ تھے نمود صبح نو کے سبھی آثار چپ تھے تماشا دیکھتے تھے ہمارے ضبط غم کا مسلط ایک ڈر تھا لب اظہار چپ تھے ہوائیں چیختی تھیں فضائیں گونجتی تھیں قبیلہ بٹ رہا تھا مگر سردار چپ تھے گراتا کون بڑھ کر بھلا دیوار ظلمت اجالوں کے پیمبر پس دیوار چپ تھے متاع آبرو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 894 سے 4657