زمانوں سے در امکان پر رکھے ہوئے ہیں
زمانوں سے در امکان پر رکھے ہوئے ہیں چراغوں کی طرح طوفان پر رکھے ہوئے ہیں فضاؤں میں مہک جلنے کی بو پھیلی ہوئی ہے کسی نے پھول آتش دان پر رکھے ہوئے ہیں ذرا سا بھی گماں تیری شباہت کا تھا جن پر وہ سب چہرے مری پہچان پر رکھے ہوئے ہیں خوشی کو ڈھونڈھنا ممکن نہیں اس کیفیت میں کچھ ایسے ...