شاعری

حسن فانی پر ہم اپنا دل فدا کرتے رہے

حسن فانی پر ہم اپنا دل فدا کرتے رہے اب پشیماں ہیں کہ ساری عمر کیا کرتے ہیں ہم سمجھتے ہیں جناب شیخ کیا کرتے رہے حور و غلماں کے لئے یاد خدا کرتے رہے ضبط گریہ ضبط نالہ ضبط فریاد و فغاں عشق میں جو کچھ بھی ہم سے ہو سکا کرتے رہے کس طرح سوئے پڑے ہیں چین سے زیر مزار جو زمیں پر ہر گھڑی ...

مزید پڑھیے

مزا جب ہے اسے برق تجلیٰ دیکھنے والے

مزا جب ہے اسے برق تجلیٰ دیکھنے والے جمال یار میں تحلیل ہو جا دیکھنے والے نظر آتی تجھے ہر خاک کے ذرہ میں اک دنیا نگاہ غور سے تو نے نہ دیکھا دیکھنے والے تجھے نزدیک سے بھی ایک دن وہ دیکھ ہی لیں گے تصور میں ترا حسن دل آرا دیکھنے والے خبر بھی ہے تجھے کچھ یہ تماشہ گاہ عالم ہے تماشہ ...

مزید پڑھیے

میں توڑوں عہد و پیمان وفا یہ ہو نہیں سکتا

میں توڑوں عہد و پیمان وفا یہ ہو نہیں سکتا وہ ہوتے ہیں تو ہو جائیں جدا یہ ہو نہیں سکتا پلا ساقی کہ شغل مے کشی کا وقت جاتا ہے یوں ہی چھائی رہے کالی گھٹا یہ ہو نہیں سکتا وہ چشم سرمگیں جب تک مسیحائی نہ فرمائے مریض غم کو ہو جائے شفا یہ ہو نہیں سکتا نہ دیکھے شیخ تو جب تک بتوں کو میری ...

مزید پڑھیے

مجبور ہوں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

مجبور ہوں گناہ کئے جا رہا ہوں میں فرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میں گو جانتا بھی ہوں ترا ملنا محال ہے اس پر بھی تیری چاہ کئے جا رہا ہوں میں تیرا فریب وعدہ بہت کامیاب ہے آنکھوں کو فرش راہ کئے جا رہا ہوں میں تقسیم ہو رہی ہے مری وسعت نظر ذروں کو مہر و ماہ کئے جا رہا ہوں میں تیرا کرم ...

مزید پڑھیے

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے راہیں کسی کے نام تھیں چلنا پڑا مجھے تاریک شب نے سارے ستارے بجھا دیے میں صبح کا چراغ تھا جلنا پڑا مجھے یاران دشت رونق بازار بن گئے سنسان راستوں پہ نکلنا پڑا مجھے ہر اہل انجمن کی ضرورت تھی روشنی میں شمع انجمن تھا پگھلنا پڑا مجھے ظالم بہت ہے شدت ...

مزید پڑھیے

ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائے

ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائے اک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائے دل میں وہ شورش جذبات وہ گرمی نہ رہی اب یہ شاید نگہ دوست کے قابل ہو جائے جانتا ہوں کہ وفا جی سے گزرنا ہے مگر یوں نہ دے طعن کہ جینا مجھے مشکل ہو جائے دو جہاں ترک محبت میں کئے تیرے لئے اور بیزار جو تجھ سے بھی مرا ...

مزید پڑھیے

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں لگاؤ ہے مری تنہائیوں سے فطرت کو تمام رات ستارے لگائے جاتے ہیں سمائی جاتی ہیں دل میں وہ کفر بار آنکھیں یہ بت کدے مرے کعبے پہ چھائے جاتے ہیں سمجھ حقیر نہ ان زندگی کے لمحوں کو ارے انہیں سے زمانے بنائے ...

مزید پڑھیے

زندان کائنات میں محصور کر دیا

زندان کائنات میں محصور کر دیا محفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیا آتے ہو دینے دعوت دار و رسن ہمیں جب ہم نے ترک شیوۂ منصور کر دیا فطرت یہی ازل سے ہے برق جمال کی اس نے جسے تباہ کیا طور کر دیا تم نے ہمارے ظرف نظر پر نہ کی نگاہ سارے جہاں کو حسن سے معمور کر دیا سیمابؔ کوئی مرتبہ منصور ...

مزید پڑھیے

بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے

بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے مکمل قید غربت ہو رہی ہے میں خود ترک تعلق پر ہوں مجبور کچھ ایسی ہی طبیعت ہو رہی ہے جفا ان کی دل زود آشنا پر بہ مقدار محبت ہو رہی ہے خدا سے مل گیا ہے حسن کافر خدائی پر حکومت ہو رہی ہے نہیں تنہائی زنداں مکمل مجھے سایہ سے وحشت ہو رہی ہے یہ تم ہنس ہنس کے ...

مزید پڑھیے

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے

دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے یہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے مدت سے یہی پردہ یہی پردہ دری ہے ہو کوئی تو پردہ سے نمودار نہ ہو جائے مجھ سے مرا افسانۂ ماضی نہ سنو تم افسانہ نیا پھر کوئی تیار نہ ہو جائے اے مستئ الفت سبق کفر دیئے جا جب تک مجھے ہر چیز سے انکار نہ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 857 سے 4657