شاعری

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے

بینائی کو پلکوں سے ہٹانے کی پڑی ہے شہکار پہ جو گرد زمانے کی پڑی ہے آساں ہوا سچ کہنا تو بولے گا مورخ فی الحال اسے جان بچانے کی پڑی ہے چھوٹا سا پرندہ ہے مگر سعی تو دیکھو جنگل سے بڑی آگ بجھانے کی پڑی ہے چھلنی ہوا جاتا ہے ادھر اپنا کلیجا یاروں کو ادھر ٹھیک نشانے کی پڑی ہے حالات ...

مزید پڑھیے

تا بام فلک خاک بسر آنے لگا ہوں

تا بام فلک خاک بسر آنے لگا ہوں جس سمت اشارہ تھا ادھر آنے لگا ہوں جب تک تری آنکھوں میں نہیں تھا تو نہیں تھا اب دیکھنے والوں کو نظر آنے لگا ہوں مت کاٹنا رستہ مرا بن کر خط امکاں اے در بدری لوٹ کے گھر آنے لگا ہوں اک وہم سہی پھر بھی مری نفی ہے دشوار اے دوست ہر آہٹ پر اگر آنے لگا ...

مزید پڑھیے

منظر کئی بارش سے زمیں پر اتر آئے

منظر کئی بارش سے زمیں پر اتر آئے پیڑوں کی طرح لوگوں کے چہرے نکھر آئے محکم نہ زمیں سے ہو تعلق ہی جڑوں کا اس پیڑ پہ آئے بھی تو کیسے ثمر آئے پسپائی نہیں ہے تو ہے پچھتاوا یقیناً ہم لوگ جو منزل سے بھی آگے گزر آئے شاید کسی محرومی کا اظہار ہوا ہے مضمون محبت کے جو شعروں میں دھر ...

مزید پڑھیے

شام آئی تو بہر سمت نمودار ہوا

شام آئی تو بہر سمت نمودار ہوا تجھ سے اچھا تو ترا سایۂ دیوار ہوا اک تری یاد کہ مانند سحر روشن ہے اک ترا نام کہ مجھ کو ابد آثار ہوا جب میں سویا تو رکھا اس نے مرے ہاتھ پہ ہاتھ بخت کم بخت بھی کس وقت پہ بیدار ہوا ایک سائل ہے ترے در کا سبھی جانتے ہیں ہاں وہی شخص کہ جو گاؤں کا سردار ...

مزید پڑھیے

یہ جور دست زمانہ کہا کہا نہ کہا

یہ جور دست زمانہ کہا کہا نہ کہا کہ دل کا حال کبھی آپ نے سنا نہ کہا جو بات تم سے تھی کہنی فقط تمہی سے کہی ہر ایک بزم میں یہ دل کا ماجرا نہ کہا یہ لوگ رائی کا پربت بنا رہے یوں ہی ترے رویے کو ہم نے تو ناروا نہ کہا خدا کا شکر ستم ناگوار بھی نہ لگے خدا کا شکر کبھی تم کو بے وفا نہ کہا اسے ...

مزید پڑھیے

اور کیا عمر کی کہانی ہے

اور کیا عمر کی کہانی ہے رائیگانی ہی رائیگانی ہے ایک خاکے میں رنگ بھرنا ہے اک کہانی مگر چھپانی ہے مجھ کو تقلید سے بھی بچنا ہے شمع سے شمع بھی جلانی ہے شہر میں اوڑھنی بھی ہے تہذیب دشت میں خاک بھی اڑانی ہے حسن قائم زمیں کا رکھتے ہوئے ایک بستی نئی بسانی ہے ایک بوڑھا یہ کہتا پھرتا ...

مزید پڑھیے

غزل جب تازہ کہتا ہوں پرانی بھول جاتا ہوں

غزل جب تازہ کہتا ہوں پرانی بھول جاتا ہوں فسانہ لکھنے بیٹھوں تو کہانی بھول جاتا ہوں مری رفتار دنیا سے بہت ہی تیز ہوتی ہے رگوں میں خون کی اکثر روانی بھول جاتا ہوں مرے ہاتھوں میں جب بھی وہ حنائی ہاتھ رکھتی ہے میں باتیں سب زمینی اور زمانی بھول جاتا ہوں میں نور آگہی کے قرمزی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی میان دود دکھائی نہیں دیا

کچھ بھی میان دود دکھائی نہیں دیا حاکم تجھے جمود دکھائی نہیں دیا آیا خیال میرؔ تقیؔ میرؔ کا مجھے اپنا کہیں وجود دکھائی نہیں دیا تحریک میرے جذبوں کو اس سے ملے سدا کیوں جلوۂ حسود دکھائی نہیں دیا بدلا سبھی نے رنگ تو یہ بھی بدل گیا چرخ کہن کبود دکھائی نہیں دیا سب فاصلے عبور ...

مزید پڑھیے

تیری گرہ میں مال فقط چار دن کا ہے

تیری گرہ میں مال فقط چار دن کا ہے جذبوں میں اشتعال فقط چار دن کا ہے بام عروج پر بھی کبھی آؤں گا ضرور ہم دم مرا زوال فقط چار دن کا ہے کس کو خبر سحاب کہاں جا کے روئے گا موسم یہ برشگال فقط چار دن کا ہے تیری سماعتوں کے ہنر کو ملے دوام میرا سخن کمال فقط چار دن کا ہے ہم عشق لازوال کے ...

مزید پڑھیے

رستے رہتے ہیں زخم سینے میں

رستے رہتے ہیں زخم سینے میں لطف آنے لگا ہے جینے میں دل پگھلتا ہے اشک ڈھلتے ہیں آگ سی لگ گئی ہے سینے میں تیری یادوں کی دھوپ ہوتی ہے ڈوب جاتے ہیں ہم پسینے میں اشک بہتے ہیں یاد میں تیری عکس تیرا ہے ہر نگینے میں لوٹ لیتے جو ہوش میں رہتے مال تھا دفن جو دفینے میں اب یہ عالم ہے حضرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 783 سے 4657