سوچا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا
سوچا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا دیمک کی طرح مجھ کو محبت نے کھا لیا ہم کو کہاں تھی تاب کسی انحراف کی تیرے کہے کو زیست کا عنواں بنا لیا پلکوں پہ تیری یاد کا تارا سجا لیا مٹھی میں اپنی جیسے کہ جگنو چھپا لیا
سوچا جو میں نے آج تو یہ راز پا لیا دیمک کی طرح مجھ کو محبت نے کھا لیا ہم کو کہاں تھی تاب کسی انحراف کی تیرے کہے کو زیست کا عنواں بنا لیا پلکوں پہ تیری یاد کا تارا سجا لیا مٹھی میں اپنی جیسے کہ جگنو چھپا لیا
اب تجھ سے اپنے دل کو لگانے کا فائدہ یادوں کو تیری دل میں بسانے کا فائدہ ہنس ہنس کے آنسو اپنے چھپانے کا فائدہ اہل جہاں کے دل کو جلانے کا فائدہ کہہ تو دیا ہے میں نہیں آؤں گی پھر کبھی آنکھوں کو راستے میں بچھانے کا فائدہ تجھ کو پسند محفل عیش و نشاط ہے غم کے فسانے تجھ کو سنانے کا ...
تھا بام فلک خاک بسر آنے لگا ہوں جس سمت اشارہ تھا ادھر آنے لگا ہوں جب تک تری آنکھوں میں نہیں تھا تو نہیں تھا اب دیکھنے والوں کو نظر آنے لگا ہوں مت کاٹنا رستہ مرا بن کر خط امکاں اے دربدری لوٹ کے گھر آنے لگا ہوں اک وہم سہی پھر بھی مری نفی ہے دشوار اے دوست ہر آہٹ پر اگر آنے لگا ...
ساعت آسودگی دیکھے ہوئے عرصہ ہوا مفلسی کو میرے گھر ٹھہرے ہوئے عرصہ ہوا لمحۂ راحت رسا دیکھے ہوئے عرصہ ہوا ماں ترے شانے پہ سر رکھے ہوئے عرصہ ہوا ہجر کی تاریکیوں کا سلسلہ ہے دور تک چاندنی کو چاند سے بچھڑے ہوئے عرصہ ہوا زندگی بے خواب لمحوں میں سمٹ کر رہ گئی ہجر میں تیرے پلک جھپکے ...
گرمی پہلوئے دلدار نے سونے نہ دیا مجھ کو رنگینی افکار نے سونے نہ دیا یوں ہی تکتا رہا تاروں کو سحر ہونے تک رات بھر دیدۂ بیدار نے سونے نہ دیا رات بھر لذت قربت سے رہا محو کلام رات بھر مجھ کو مرے یار نے سونے نہ دیا رات بھر جاگا کئے پلکیں نہ جھپکیں ہم نے رات بھر عشق کے آزار نے سونے نہ ...
دیار شام نہ برج سحر میں روشن ہوں میں ایک عمر سے اپنے ہی گھر میں روشن ہوں ہجوم شب زدگاں سے فرار ہو کر آج جمال شعلۂ شمع سحر میں روشن ہوں میں منتظر ہوں تو پھر منتظر بھی آئے گا چراغ جاں کی طرح رہگزر میں روشن ہوں نہ جانے کب مری ہستی دھواں دھواں ہو جائے میں ایک ساعت نا معتبر میں روشن ...
مچلتے رہتے ہیں بستر پہ خواب میرے لیے اتارے جاتے ہیں شب بھر عذاب میرے لیے میں جب سفر کے ارادے سے گھر کو چھوڑتا ہوں سلگتا رہتا ہے اک آفتاب میرے لیے میں تیرا قرض چکاؤں گا وصل کی رت میں تو اپنے اشکوں کا رکھنا حساب میرے لیے رفاقتوں کی شگفتہ بشارتیں تیری تعلقات کے سارے عذاب میرے ...
موت ٹلتی ہے تو دل دکھتا ہے جاں سنبھلتی ہے تو دل دکھتا ہے خواب جھڑ جاتے ہیں پتوں کی طرح رت بدلتی ہے تو دل دکھتا ہے خاک ہونے کا صلہ خاک نہیں شمع جلتی ہے تو دل دکھتا ہے چل چلاؤ کی ہیں زد پر سارے سانس چلتی ہے تو دل دکھتا ہے چاند اک ماند ہوا جب سے شہابؔ رات ڈھلتی ہے تو دل دکھتا ہے
جب بھی کشتی کے مقابل بھنور آتا ہے کوئی جگمگاتا سر ساحل نظر آتا ہے کوئی بے رخی اس کی دلاتی ہے جہاں کا احساس لیے دنیا کی خبر بے خبر آتا ہے کوئی شدت یاس میں چپکے سے اجالوں کی طرح میرے تاریک خیالوں میں در آتا ہے کوئی تن تنہا تو سفر دل پہ گراں گزرے گا منتظر ہوں کہ مرے ساتھ اگر آتا ہے ...
مسمار ہوں کہ خود کو اٹھانے لگا تھا میں مٹی سے آسمان بنانے لگا تھا میں بے اختیار آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تصویر سے غبار ہٹانے لگا تھا میں آواز دے کے روک لیا اس نے جس گھڑی مایوس ہو کے لوٹ کے جانے لگا تھا میں بھٹکا ذرا جو دھیان مرے ہاتھ جل گئے بوسیدہ کاغذات جلانے لگا تھا میں افسوس ...