اڑا کر امن کے پرچم ستم والوں کی تدبیریں
اڑا کر امن کے پرچم ستم والوں کی تدبیریں خرد کے پاؤں میں ڈالی گئیں سونے کی زنجیریں جہان شور و شر کا نام ہی ہے گرچہ آزادی قفس ہی اس سے اچھا تھا بہت اچھی تھیں زنجیریں سکون و امن کے خوگر بنے ہیں خار راہوں کے اندھیرے رقص فرما ہیں اجالوں کی ہیں تاثیریں ثمر یہ ٹوٹ جائے گا خرد کے ...