شاعری

اڑا کر امن کے پرچم ستم والوں کی تدبیریں

اڑا کر امن کے پرچم ستم والوں کی تدبیریں خرد کے پاؤں میں ڈالی گئیں سونے کی زنجیریں جہان شور و شر کا نام ہی ہے گرچہ آزادی قفس ہی اس سے اچھا تھا بہت اچھی تھیں زنجیریں سکون و امن کے خوگر بنے ہیں خار راہوں کے اندھیرے رقص فرما ہیں اجالوں کی ہیں تاثیریں ثمر یہ ٹوٹ جائے گا خرد کے ...

مزید پڑھیے

زندگی ہونے لگی درہم کہیں برہم کہیں

زندگی ہونے لگی درہم کہیں برہم کہیں ناچتے ہیں مل کے باہم شعلہ و شبنم کہیں ہر طرف غارت گری ہے خون کا دریا رواں خون سے ڈھالی گئی ہے فطرت آدم کہیں اے خداوند جہاں دنیا میں کیا اندھیر ہے ہے کہیں ساون یہاں پت جھڑ کا ہے موسم کہیں چاندنی راتوں میں گم ہے کاروان زندگی کون جانے کب ملیں گے ...

مزید پڑھیے

جب بھی پرایا تیل جلایا چراغ میں

جب بھی پرایا تیل جلایا چراغ میں پیوند تیرگی کا لگایا چراغ میں ہے مشترک نظارہ و نظارگی کا وصف اک آنکھ میں تو دوجا بنایا چراغ میں چلنے لگی ہے عمر گزشتہ کی جیسے فلم یادوں نے کیسا رنگ جمایا چراغ میں تجھ کو بشر کے روپ میں آیا نہیں نظر میں تو خدا کو دیکھ کے آیا چراغ میں ایجاد اپنی ...

مزید پڑھیے

مٹھی بھر لوگ تو یکسو بھی نظر آئے ہیں

مٹھی بھر لوگ تو یکسو بھی نظر آئے ہیں عشق میں حرص کے پہلو بھی نظر آئے ہیں اس کا مطلب ہے پلٹ آئیں بہاریں پھر سے موسمی پنکھ پکھیرو بھی نظر آئے ہیں مسکراہٹ تو اسے صاف دکھائی دی ہے کیا مری آنکھ میں آنسو بھی نظر آئے ہیں آپ کے جانے سے ممتاز ہوئے دوسرے لوگ چاند ڈوبا ہے تو جگنو بھی نظر ...

مزید پڑھیے

امکان کی حدوں سے نکل کر بھی دیکھ لو (ردیف .. گ)

امکان کی حدوں سے نکل کر بھی دیکھ لو میں کر رہا ہوں اپنی فضا کے امس سے جنگ میں ہوں انا کے کوہ فلک بوس کا رقیب مجھ کو روا نہیں ہے کسی خار و خس سے جنگ ہر ایک پنکھڑی سے غذا چوس لی گئی پھولوں کی دیر تک رہی جاری مگس سے جنگ جب بھی کرو گے حق کو مٹانے کی جستجو میناروں مسجدوں کی رہے گی کلس ...

مزید پڑھیے

خون میں ڈوبے سورج کی کرنوں میں یہی سنگیت ہے یارو

خون میں ڈوبے سورج کی کرنوں میں یہی سنگیت ہے یارو سب کچھ دینا کچھ بھی نہ لینا فطرت کی یہ ریت ہے یارو کھیل نہ جانے کتنے ہم نے بنتے اور بگڑتے دیکھے ہار کے بازی کیا روتے ہو دنیا کی یہ ریت ہے یارو تتلی کی پھولوں پر تھرکن اور مگس کی محنت پیہم یہ محنت اور تھرکن مل کر جیون کا سنگیت ہے ...

مزید پڑھیے

ذرے چمک اٹھے ہیں جدھر سے گزر گئے

ذرے چمک اٹھے ہیں جدھر سے گزر گئے دنیا ٹھہر گئی ہے جہاں تم ٹھہر گئے کل ہی ملے تھے آج یہ ہونے لگا خیال دیکھے ہوئے کسی کو مہینے گزر گئے اے اضطراب شوق برا ہو ترا کہ ہم جاتے بھلا کسی کی گلی میں مگر گئے تیرا بھلا ہو تیری محبت کے چار دن دنیا کسی غریب کی برباد کر گئے اے رات کیا تجھے بھی ...

مزید پڑھیے

رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئی

رو کر نصیب عشق کو برسات بھی گئی بھڑکا کے آگ بھیگی ہوئی رات بھی گئی لے خود نگر چلے تری محفل سے اٹھ کے ہم تجھ سے تو مل کے عشق کی اوقات بھی گئی کچھ آپ مست ناز تھے کچھ ہم غیور تھے تھوڑی بہت جو تھی وہ ملاقات بھی گئی کیا جانے کس امید پہ ہے انتظار اب حالانکہ وہ امید ملاقات بھی ...

مزید پڑھیے

عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو

عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو عیش‌ و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہو عقل کے مدرسے سے ہو عشق کے مے کدہ میں آ جام فنا و بے خودی اب تو پیا جو ہو سو ہو لاگ کی آگ لگ اٹھی پنبہ طرح سا جل گیا رخت و جود جان و تن کچھ نہ بچا جو ہو سو ہو ہجر کی سب مصیبتیں عرض کیں اس کے روبرو ناز و ...

مزید پڑھیے

ہم کو یاں در در پھرایا یار نے

ہم کو یاں در در پھرایا یار نے لا مکاں میں گھر بنایا یار نے آپ اپنے دیکھنے کے واسطے ہم کو آئینہ بنایا یار نے اپنے اک ادنیٰ تماشے کے لئے ہم کو سولی پر چڑھایا یار نے آپ چھپ کے ہم کو کر کے روبرو خوب ہی رسوا کرایا یار نے آپ تو بت بن کے کی جلوہ گری اور ہمیں کافر بنایا یار نے

مزید پڑھیے
صفحہ 784 سے 4657