شاعری

بربادیوں سے شاد ہوں ان کی خوشی بھی ہے

بربادیوں سے شاد ہوں ان کی خوشی بھی ہے وجہ بہار غم مری دیوانگی بھی ہے پیہم تڑپ سے درد میں کچھ تازگی بھی ہے تکمیل اضطراب مری زندگی بھی ہے ذکر شراب و جام کیا اور بہک گیا واعظ مجھے بتا کہ کبھی تو نے پی بھی ہے تنہا مرا جنوں ہی نہیں باعث الم بندہ نواز کچھ تو نظر آپ کی بھی ہے روح امید ...

مزید پڑھیے

ساز دل ساز جنوں ساز وفا کچھ بھی نہیں

ساز دل ساز جنوں ساز وفا کچھ بھی نہیں وہ نہ ہوں پاس تو جینے کا مزہ کچھ بھی نہیں جینے والوں کے لیے اس کی بڑی قیمت ہے مرنے والوں کے لیے آب بقا کچھ بھی نہیں مصلحت کہتی ہے لوگوں سے کہ میرے گھر میں اس طرح آگ لگی ہے کہ جلا کچھ بھی نہیں ان کے ہاتھوں میں ہے تقدیر جہاں دیوانے تیرے ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

عکس جمال یار سے جلوہ نما ہیں ہم

عکس جمال یار سے جلوہ نما ہیں ہم کرنوں کی طرح پھیلے ہوئے جا بہ جا ہیں ہم ہم سے نظر ملاؤ کہ درد آشنا ہیں ہم اس دور بے وفا میں سراپا وفا ہیں ہم ہاتھوں کی ان لکیروں کا قصہ عجیب ہے پڑھنے کے بعد بھی نہ سمجھ پائے کیا ہیں ہم کس کو خبر ہے نیت واعظ کی مے کشو کہنے کو اس نے کہہ تو دیا پارسا ...

مزید پڑھیے

اے اشتیاق دید بتا آج کیا کریں

اے اشتیاق دید بتا آج کیا کریں ان سے نظر چرائیں کہ ہم سامنا کریں ان سے کہو کہ فرض رفاقت ادا کریں میرے جنوں پہ اہل خرد تبصرا کریں ان دوستوں کی ہم پہ عنایت نہ پوچھئے وہ وقت آ پڑا ہے کہ دشمن دعا کریں فیض جنوں سے دار کی منزل تک آ گئے اب اپنے قافلے کا کسے رہنما کریں اہل طلب بہ ذوق طلب ...

مزید پڑھیے

منتظر بیٹھا ہوں یوں جیسے کوئی آنے کو ہے

منتظر بیٹھا ہوں یوں جیسے کوئی آنے کو ہے جلوۂ رنگیں کا عالم روح پر چھانے کو ہے ایسا لگتا ہے کہ پھر اک انقلاب آنے کو ہے وہ نگاہ مست کیف حسن برسانے کو ہے کچھ نہ کچھ تو اس زمانے کو میں سمجھا ہوں ضرور کچھ نہ کچھ تو یہ زمانہ مجھ کو سمجھانے کو ہے چھا رہی ہے ذہن پر خوشبو جمال یار کی پھر ...

مزید پڑھیے

سورج کی طرح ڈوب چکے اور ابھر چکے

سورج کی طرح ڈوب چکے اور ابھر چکے اس زندگی میں ہم تو کئی بار مر چکے خوشیوں کا اب ہجوم سہی میرے آس پاس سینے میں غربتوں کے تو نشتر اتر چکے اب اور لوگ آئیں سنواریں صلیب و دار ہم تو صلیب و دار کی حد سے گزر چکے دلداریاں فضول ہیں اے چارہ ساز غم زخموں کا اب علاج نہ کر زخم بھر چکے کیا ذکر ...

مزید پڑھیے

دل میں جو گھٹن رہتی تھی کم ہو تو گئی ہے

دل میں جو گھٹن رہتی تھی کم ہو تو گئی ہے ہر آرزو ممنون کرم ہو تو گئی ہے پہچان نہ پاؤ گے کسی شخص کی آواز ہر ایک صدا ضرب ستم ہو تو گئی ہے اب کیوں یہ ہوا دیتے ہیں افکار پریشاں چنگاری ہر اک شعلۂ غم ہو تو گئی ہے کس کس کی طرف اپنی نگاہوں کو جمائیں ہر شکل ہی تصویر صنم ہو تو گئی ہے جس آنکھ ...

مزید پڑھیے

تمہاری یادوں کو الزام دیتے رہتے ہیں

تمہاری یادوں کو الزام دیتے رہتے ہیں قلم کے ہاتھ میں کچھ کام دیتے رہتے ہیں جگر کو داغ نظر کو سراب دل کو فریب ہم اپنے پیاروں کو انعام دیتے رہتے ہیں جو کام کر نہ سکے اس کے رو بہ رو جا کر غزل کے شعر میں انجام دیتے رہتے ہیں دیار دل کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں اکثر گزرنے والوں کو الزام دیتے ...

مزید پڑھیے

مرض اک طرف اور دوا اک طرف

مرض اک طرف اور دوا اک طرف خدایا ہے میری صدا اک طرف مگر میری آنکھوں میں دونوں چراغ دوا اک طرف اور دعا اک طرف خدا ان کے حصے میں منزل اتار سفر اک طرف راستہ اک طرف مقدر پہ دونوں کے پہرے ہیں کیا محن اک طرف اور صلہ اک طرف نیا میکدہ ہے چلن بھی نیا شراب اک طرف ہے نشہ اک طرف خدا میرے ...

مزید پڑھیے

وقت سب خرچ مرا غم کو کھپانے میں ہوا

وقت سب خرچ مرا غم کو کھپانے میں ہوا کام اک پل کا تھا پر ایک زمانے میں ہوا اس گزر گاہ پہ چلنے کی خوشی اور ہی تھی غم تھا وہ اور جو منزل کے نہ آنے میں ہوا محو تھا کون سے محور پہ تعلق کا طلسم واقعہ میرا تھا ذکر اس کے فسانے میں ہوا دل کی جو ساکھ تھی جذبات کے خطے میں رہی درد مشہور مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 748 سے 4657