شاعری

زندگی پانے کی حسرت ہے تو مرتا کیوں ہے

زندگی پانے کی حسرت ہے تو مرتا کیوں ہے شہر ممنوعہ سے ہو کر وہ گزرتا کیوں ہے جب بھی امرت کی کوئی بوند زباں پر ٹپکی اک عجب زہر سا رگ رگ میں اترتا کیوں ہے چھو کے ہر شے کو گزر جاتا ہے وہ سیل بلا میرے بے نام جزیرے میں ٹھہرتا کیوں ہے ہم کو معلوم ہے لمحات کا حاصل بھی شعیبؔ دل مگر ڈوب کے ...

مزید پڑھیے

اے نگار غم و آلام تری عمر دراز

اے نگار غم و آلام تری عمر دراز تو نے بخشے بہت آرام تری عمر دراز شہر میں دشت میں صحرا میں جہاں بھی دیکھا اب ہے مشہور مرا نام تری عمر دراز سرخ رو اب بھی تو ہر کوچہ و بازار میں ہے اپنے سر ہیں سبھی الزام تری عمر دراز فصل گل آئی تھی لے لے کے ترا نام گئی تو کہاں پھرتا تھا نا کام تری عمر ...

مزید پڑھیے

اے نگار غم و آلام تری عمر دراز

اے نگار غم و آلام تری عمر دراز تو نے بخشے بہت آرام تری عمر دراز شہر میں دشت میں صحرا میں جہاں بھی دیکھا اب ہے ہر سمت مرا نام تری عمر دراز صبح نے پھر مرے زخموں سے اجالا مانگا ایک زخم اور مرے نام تری عمر دراز میرے تاریک خرابے میں ترے درد کا نور آج آیہ ہے بڑا کام تری عمر دراز کوئی ...

مزید پڑھیے

یہ عشق کیا ہے رحمت پروردگار ہے

یہ عشق کیا ہے رحمت پروردگار ہے وہ غم عطا ہوا ہے جو دل کا قرار ہے دنیائے غم تصور دل پر نثار ہے یعنی کہ بے نیاز خزاں یہ بہار ہے اے حسن دوست قید مقامات جلوہ کیوں اب طور سے بھی ہٹ کے ترا انتظار ہے کیا پوچھتے ہو عشق کی نازک مزاجیاں دل کے لئے اب ان کو تمنا بھی بار ہے وعدے کے ساتھ ساتھ ...

مزید پڑھیے

جانے نہ دیں گے برق کو اب آشیاں سے ہم

جانے نہ دیں گے برق کو اب آشیاں سے ہم نظارۂ بہار کریں گے یہاں سے ہم سب جانتے ہیں اس کو کہیں کیا زباں سے ہم جو ربط خاص رکھتے ہیں ہندوستاں سے ہم روداد عشق تم نے وہیں سے سنائی ہے جس داستاں کو بھول گئے تھے جہاں سے ہم اک بات پوچھتے ہیں کہ باقی رہے گا کیا اٹھ کر چلے گئے جو ترے آستاں سے ...

مزید پڑھیے

محبت مجھ سے کہتی تھی ذرا ہشیار دامن سے

محبت مجھ سے کہتی تھی ذرا ہشیار دامن سے جنوں آواز دیتا تھا وہ الجھے خار دامن سے مرے اشک مسلسل رائیگاں ہونے نہیں دیتا بہت نزدیک رہتا ہے خیال یار دامن سے سنبھل و رہرو راہ طلب منزل نہ کھو جائے لپٹتا ہے غبار راہ نا ہموار دامن سے جبیں سائی کہاں کی کس کا سجدہ کچھ جو قابو ہو چھپا کر ...

مزید پڑھیے

بڑھتے بڑھتے یہ اندھیرے روشنی تک آ گئے

بڑھتے بڑھتے یہ اندھیرے روشنی تک آ گئے یاس کے لمحے ہماری زندگی تک آ گئے کل نہ جانے کیا مذاق منزل مقصود ہو آج کے رہبر فروغ گمرہی تک آ گئے کس کو کیا حاصل ہوا ہے اس جہان شوق میں ہوش والے بے سبب دیوانگی تک آ گئے آج تک سلجھے ہوئے تھے جو ہمارے سامنے مسئلے ایسے بھی کچھ پیچیدگی تک آ ...

مزید پڑھیے

قربت حسن سے یہ حال ہوا دیکھو تو

قربت حسن سے یہ حال ہوا دیکھو تو روشنی دے اٹھا سایہ بھی مرا دیکھو تو کچھ نہ کہہ پائے یہ تسلیم و رضا دیکھو تو کتنے پابند ہیں ارباب وفا دیکھو تو رند پینے کے لئے جام بکف بیٹھے ہیں ظرف بھی ہے کہ نہیں ان میں ذرا دیکھو تو وقت جو میرے اشاروں پہ چلا کرتا تھا کس قدر جلد مجھے بھول گیا ...

مزید پڑھیے

حوصلہ لائے کہاں سے کوئی دیوانے کا

حوصلہ لائے کہاں سے کوئی دیوانے کا منزل غم میں ارادہ ہے ٹھہر جانے کا سلسلہ چھڑ گیا جب طور کے افسانے کا اک بہانہ تو ملا تیرے قریب آنے کا ایک مدت سے یہ پیغام ہے دیوانے کا وقت ہے دار و رسن سے بھی گزر جانے کا پرسش غم کو وہ آئے ہیں پشیماں ہو کر زندگی کا مجھے موقع ہے نہ مر جانے کا دشمن ...

مزید پڑھیے

جنون شوق کی راہوں میں جب اپنے قدم نکلے

جنون شوق کی راہوں میں جب اپنے قدم نکلے نگار حسن کی زلفوں کے سارے پیچ و خم نکلے یہ بے نوری مرے گھر کے اجالوں کی معاذ اللہ اگر دیکھیں اندھیرے تو اندھیروں کا بھی دم نکلے ابھارے جائیے جب تک نہ ابھرے نقش کاغذ پر تراشے جائیے جب تک نہ پتھر سے صنم نکلے نہیں دیکھا تھا جب تک خود کو سمجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 747 سے 4657