زرد پتوں کے تصور سے ڈری رہتی ہے
زرد پتوں کے تصور سے ڈری رہتی ہے دل کے گلشن میں کوئی سبز پری رہتی ہے موسم درد میں ہر پیڑ بکھر جاتا ہے ایک امید کی وہ شاخ ہری رہتی ہے وقت کی دھوپ تپش لاکھ اگا لے دل پر ایک گوشے میں مگر تھوڑی تری رہتی ہے دل وہ پتھر ہے جو ہر موج سہا کرتا ہے غم وہ ندی ہے جو ہر وقت بھری رہتی ہے فکر ...