شاعری

زرد پتوں کے تصور سے ڈری رہتی ہے

زرد پتوں کے تصور سے ڈری رہتی ہے دل کے گلشن میں کوئی سبز پری رہتی ہے موسم درد میں ہر پیڑ بکھر جاتا ہے ایک امید کی وہ شاخ ہری رہتی ہے وقت کی دھوپ تپش لاکھ اگا لے دل پر ایک گوشے میں مگر تھوڑی تری رہتی ہے دل وہ پتھر ہے جو ہر موج سہا کرتا ہے غم وہ ندی ہے جو ہر وقت بھری رہتی ہے فکر ...

مزید پڑھیے

جو بھید اصل تھا وہ تو کبھی کھلا ہی نہیں

جو بھید اصل تھا وہ تو کبھی کھلا ہی نہیں میں جس کا عکس ہوں وہ میرا آئنہ ہی نہیں اداس بیٹھا ہے آئینہ بیچنے والا کہ اس محل میں کوئی خود کو جانتا ہی نہیں ہم اپنی دستکیں محفوظ رکھ کے کیا کرتے کسی مکان میں دروازہ کوئی تھا ہی نہیں بھٹکتی پھرتی ہیں یادوں کی کشتیاں کیا کیا عجب ہے دل کا ...

مزید پڑھیے

اس کا قصہ چھڑا نقابیں کھینچ

اس کا قصہ چھڑا نقابیں کھینچ خیمۂ خواب کی طنابیں کھینچ ہے عدو کو پڑھائی کا چسکا وار کرنا ہے تو کتابیں کھینچ ریک پر رینگتی ہے خاموشی کوئی کہرام اٹھا شرابیں کھینچ بے حسی کی سڑک سلامت ہے چل یہ جذبات کی جرابیں کھینچ

مزید پڑھیے

مرے رتجگوں کو ظفر یاب کر دے

مرے رتجگوں کو ظفر یاب کر دے خدایا اسے اتنا بے خواب کر دے وہ غنچہ بدن اب کے پتھرا گیا ہے مرے آنسوؤں کو بھی تیزاب کر دے اسے اتنا خوش کر کہ لب سوکھ جائیں اسے اتنا غم دے کہ سیراب کر دے اگر مضطرب ہے تو اس کو سکوں دے اگر پر سکوں ہے تو بیتاب کر دے یہ مخلوق اپنے لیے مسئلہ ہے وفا کرنے ...

مزید پڑھیے

ہوس کے رنگ سبھی آسمان والے ہیں

ہوس کے رنگ سبھی آسمان والے ہیں ملال ہجر نے کیا بال و پر نکالے ہیں میں آسمان سے تاروں کی وجہ کیا پوچھوں تمہاری یاد نے آنسو بہت اچھالے ہیں لہو کی بوند کا قصہ تو صرف اتنا ہے کہ تیری یاد نے سب اشک رنگ ڈالے ہیں تجھے بھلانے کے سب راستے سجا دوں گا انا کی شاخ پہ پھر پھول آنے والے ہیں

مزید پڑھیے

ہزاروں سائٹیں ایسی کہ ہر سائٹ پہ دم نکلے

ہزاروں سائٹیں ایسی کہ ہر سائٹ پہ دم نکلے نہ پوچھو کس طرح پھر سائبر کیفے سے ہم نکلے سب عاشق تھک گئے اپلوڈ کر کے اپنی سائٹ پر وصال یار کی سی ڈی میں سو سو پیچ و خم نکلے وہاں اب ہر طرف کمپیوٹروں کے چوہے پھرتے ہیں مرے لکھنے کے کمرے سے سبھی کاغذ قلم نکلے عدو کا پاسورڈ اف کس بلا کا ...

مزید پڑھیے

محبت ہے مگر دھوکا نہیں ہے

محبت ہے مگر دھوکا نہیں ہے یہ اس سیارے کا قصہ نہیں ہے کہیں دریا کہیں صحرا نہیں ہے ہر اک رستے میں اک رستہ نہیں ہے اسے میں کیوں پکارے جا رہا ہوں وہی تو ہے جو کچھ سنتا نہیں ہے جسے چاہے جہاں پہنچا کے رکھ دے مقدر پر کوئی پہرہ نہیں ہے یہاں ہیں سینکڑوں ہم نام میرے مگر کوئی مرے جیسا ...

مزید پڑھیے

نہیں کہ کشتیٔ وحشت میں بادبان نہیں

نہیں کہ کشتیٔ وحشت میں بادبان نہیں ملال یہ ہے کہ ساحل پہ وہ مکان نہیں کہیں پہ ہوگا کوئی چاند ہم کو کیا معلوم ہمارے کمرے کی کھڑکی میں آسمان نہیں ہوا کے رخ پہ لویں متحد نہیں ورنہ ابھی چراغوں میں ایسا نہیں کہ جان نہیں یہ کیسا شہر ہے کس شہریار سے پوچھوں یہ کیسی میز پہ ہوں جس پہ ...

مزید پڑھیے

مری نظر کہ طرح دل پرند اوجھل ہے

مری نظر کہ طرح دل پرند اوجھل ہے ہر ایک خواب کا حاصل پرند اوجھل ہے شجر جو کہہ نہ سکے آسماں وہی سن لے یقیں ہے وہم کی منزل پرند اوجھل ہے شفق شفق وہی سرخی اڑان کی تعبیر افق افق وہی محفل پرند اوجھل ہے صدا میں سمت نہیں بازگشت لا محدود سفر کی شرط میں شامل پرند اوجھل ہے بھنور کا کام ...

مزید پڑھیے

ہر طرح ہم ہی ترے ساتھ ہوئے جاتے ہیں

ہر طرح ہم ہی ترے ساتھ ہوئے جاتے ہیں پھر بھی ہم ہی سے سوالات ہوئے جاتے ہیں کس کو فرصت ہے یہاں جو تجھے سوچے دن رات ایک ہم ہیں ترے دن رات ہوئے جاتے ہیں ایک تو ہم نے ہی کم کر دیا ملنا جلنا اور کچھ لوگ بھی محتاط ہوئے جاتے ہیں ہجر نے اب کے برس طے کیے لمحے کیا کیا فاصلے بزم ملاقات ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 749 سے 4657