شاعری

کتاب محبت ہے خواہش گزیدہ

کتاب محبت ہے خواہش گزیدہ ورق زندگی کے دریدہ دریدہ مری داستاں لفظ لفظ آتشیں ہے فسانہ فسانہ تپیدہ تپیدہ یہاں لمحہ لمحہ بڑا سنگ دل ہے رتیں راحتوں کی کشیدہ کشیدہ کہیں چہرہ چہرہ ہے تصویر حیرت کہیں شہر ہے نقش نقش آب دیدہ مکاں ہیں کہ جنگل کے سائے سراسر مکیں ہیں کہ آہو رمیدہ ...

مزید پڑھیے

باہر تو کر رہا ہوں میں آرائشیں بہت

باہر تو کر رہا ہوں میں آرائشیں بہت اندر ہیں پر مکان کے آلائشیں بہت تو ہے کہ تیرے ساتھ ہیں آسائشیں بہت میں ہوں کہ میرے ساتھ مریں خواہشیں بہت نقش و نگار کیا یہاں دیوار و در نہیں شاید کہ اس مکاں پہ رہیں بارشیں بہت ہم تھے کہ اپنی ذات کے جنگل میں گم رہے تھیں عرصۂ حیات میں گنجائشیں ...

مزید پڑھیے

نظر پکار رہی ہے تمہی چلے آؤ

نظر پکار رہی ہے تمہی چلے آؤ مری حیات مری زندگی چلے آؤ یہ سونا سونا سا آنگن پکارتا ہے تمہیں بہت گھنیری ہے یہ تیرگی چلے آؤ غرور ظلمت شب تم ہی توڑ سکتے ہو بنوں چراغ کی تم روشنی چلے آؤ یہ ہونٹ سوکھ نہ جائیں تمہیں صدا دے کر بچھڑ نہ جائے کہیں ہر خوشی چلے آؤ ان آشناؤں میں نا آشنا ہیں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ہے پر آنکھ نے دیکھا نہیں ابھی

آنکھوں میں ہے پر آنکھ نے دیکھا نہیں ابھی وہ بت جسے کہ میں نے تراشا نہیں ابھی لفظوں کے پتھروں میں صنم بے شمار ہیں میرے ہی پاس سوچ کا تیشا نہیں ابھی صدیوں سے نقش ہے جو تصور پہ شاہکار کاغذ پہ اس کا عکس اتارا نہیں ابھی برسوں سے میرے سر پہ ہے ٹکڑا اک ابر کا جل بجھ چکا ہے جسم وہ برسا ...

مزید پڑھیے

پہنا لباس نے ہے اک اک انگ دیکھنا

پہنا لباس نے ہے اک اک انگ دیکھنا جسم حسیں پہ پیرہن تنگ دیکھنا ندی چڑھی کہ گاؤں کی گوری جواں ہوئی پانی میں گھل گئے ہیں کئی رنگ دیکھنا پربت کی شام ڈوبتا سورج شفق کا رنگ سونا اگل رہی ہے رگ سنگ دیکھنا جاتی رتوں کی صورت ارژنگ بھول کر آتے سمے کا پیکر صد رنگ دیکھنا آہٹ سنو ہواؤں کی ...

مزید پڑھیے

سینے کی مثال آگ ہے چاندی سا دھواں ہے

سینے کی مثال آگ ہے چاندی سا دھواں ہے کیا خوب مرے گھر کی تباہی کا سماں ہے دیکھوں تو مرے غم میں شریک ایک زمانہ سوچوں تو یہاں کوئی مکیں ہے نہ مکاں ہے کس درجہ طلسمی ہے مرے گاؤں کا منظر سوکھے ہوئے ہر کھیت پہ سبزے کا گماں ہے ایسا بھی کوئی شہر تمنا ہے زمیں پر لٹنے کا جہاں خوف نہ اندیشۂ ...

مزید پڑھیے

جلتی ہوئی زمیں کی نگاہیں ترس گئیں

جلتی ہوئی زمیں کی نگاہیں ترس گئیں جا کر سمندروں پہ گھٹائیں برس گئیں ٹھہرے نہ پگ ہواؤں کے تپتی زمین پر شبنم صفت جو آئیں تو شعلہ نفس گئیں شاداب وادیاں تھیں جہاں اب وہاں ہیں دشت سرسر کی ناگنیں گھنے پیڑوں کو ڈس گئیں پھیلا ہوا ہے پیاس کا صحرا نگاہ میں امرت بھری گھٹاؤں کو آنکھیں ...

مزید پڑھیے

جن دنوں لفظوں میں عکس سرخیٔ رخسار تھا

جن دنوں لفظوں میں عکس سرخیٔ رخسار تھا میری تخلیقات کا ہر نقش اک شہکار تھا دل تجھے پا کر بھی تیری جستجو کرتا رہا تیرے دیوانے کو جانے تجھ سے کیسا پیار تھا کیوں سمجھتا خود کو تنہا زندگی کے دشت میں آپ ہی میں کارواں تھا آپ ہی سالار تھا جذبہ و احساس میرے ہم سفر تھے دوستو زندگی کا ...

مزید پڑھیے

کام کرودھ سے ناواقف ہے سدھ بدھ سے بیگانہ بھی

کام کرودھ سے ناواقف ہے سدھ بدھ سے بیگانہ بھی ورنہ شاہد شیدائیؔ کو کون کہے دیوانہ بھی سندر ناری اپنی سندرتا پر کیوں اٹھلاتی ہو آج کھلا جو غنچہ ہے کل کو ہے اسے کمہلانا بھی ہم نے تو بیگانوں کو بھی اپنے پاس بٹھایا ہے ان کی سبھا میں جائز ہوگا اپنوں کو ٹھکرانا بھی تمرے دھیان کی بنسی ...

مزید پڑھیے

کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن

کوئی دریا ہے نہ دیوار کھڑی ہے لیکن بیچ میں ایک صدی آن پڑی ہے لیکن آنکھ صحرا کی طرح خشک سہی اندر سے سات ساون سے مسلسل ہی جھڑی ہے لیکن وہ جو کہتا ہے مجھے ہجر نہیں ہے لاحق بات کچھ بھی یہ نہیں بات بڑی ہے لیکن تین دیواروں پہ گزرے ہوئے موسم کے نشاں چوتھی دیوار پہ آویزاں گھڑی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 743 سے 4657