شاعری

کوئی پنچھی اڑان میں بھی نہیں

کوئی پنچھی اڑان میں بھی نہیں تیر اس کی کمان میں بھی نہیں ضبط کرنے کی خو نہیں اس میں حوصلہ اس کے مان میں بھی نہیں دھوپ اتنی ہے غم کے صحرا میں سایہ اس سائبان میں بھی نہیں نقش بر آب ہو گیا ہر عکس کوئی پیکر چٹان میں بھی نہیں ایک دن اجنبی ملیں گے ہم حادثہ یہ گمان میں بھی نہیں جتنا ...

مزید پڑھیے

افق کے پار اتر جاؤں میں ارادہ ہے

افق کے پار اتر جاؤں میں ارادہ ہے مگر یہ عمر ہے کم اور سفر زیادہ ہے طلب کے پھول بچھا دوں میں اس کے رستے میں وہ ایک شخص جو صحرا میں پا پیادہ ہے کسی کا نام نہ تحریر اور نہ نقش کوئی ورق کتاب تمنا کا کتنا سادہ ہے خود اپنے فیصلے کرنے ہیں زندگی میں مجھے میں زندگی سے نہ پوچھوں گی کیا ...

مزید پڑھیے

میں تجھ کو سوچنے بیٹھی تو یہ خیال آیا

میں تجھ کو سوچنے بیٹھی تو یہ خیال آیا کہ آفتاب محبت کو کیوں زوال آیا ہماری حالت دل دیکھنے کے قابل تھی تری جدائی کا جب سامنے سوال آیا خدا کے فضل سے حاصل سدا عروج رہا ہماری سوچ کے سورج کو کب زوال آیا ہوس پرست اندھیروں نے اس کو گھیر لیا افق پہ جب بھی کسی کا مہ جمال آیا ہنر کی دولت ...

مزید پڑھیے

رواجوں میں رواداری بہت ہے

رواجوں میں رواداری بہت ہے یہاں رشتوں کی بیماری بہت ہے بہت ہی ٹوٹ کر ملتی ہے دنیا مگر اس میں اداکاری بہت ہے کہیں پہچان میں دھوکہ نہ کھانا کہ چہروں پر ریا کاری بہت ہے اٹھا لیں گے کرن کا بوجھ کل ہم ابھی یہ رات ہی بھاری بہت ہے مگر ہے شرط سانسوں کی ضمانت سفر کی یوں تو تیاری بہت ہے

مزید پڑھیے

سبھی کو دیکھ رہی ہے نظر تمہارے سوا

سبھی کو دیکھ رہی ہے نظر تمہارے سوا بجھا بجھا سا ہے دل کا نگر تمہارے سوا یہ ساحلوں کے کنارے یہ کشتیاں یہ ہوا فقط ہے منظر خاموش تر تمہارے سوا نہیں ہو تم تو کوئی منظر بہار نہیں ہزار گل ہوں معطر اگر تمہارے سوا یہ بستیاں بڑی گنجان ہیں مگر ان میں کسی گلی میں نہیں کوئی گھر تمہارے ...

مزید پڑھیے

عجب عجیب غم احتمال رکھتے ہوئے

عجب عجیب غم احتمال رکھتے ہوئے کسی کا خواب کسی کا خیال رکھتے ہوئے انا بھی کوہ گراں کی طرح ہے پھر درپیش ترے حضور طلب کا سوال رکھتے ہوئے کوئی خزینۂ راحت نہ اپنے کام آیا دراز دل میں ذرا سا ملال رکھتے ہوئے میں آفتاب ہوں لیکن اک اعتماد کے ساتھ چمک رہی ہوں میں رنج زوال رکھتے ...

مزید پڑھیے

اپنے دشمن کو کبھی پیار نہیں دے سکتے

اپنے دشمن کو کبھی پیار نہیں دے سکتے دست قاتل میں تو تلوار نہیں دے سکتے ان ثمر دار درختوں سے ہمیں کیا حاصل جو ہمیں سایۂ اشجار نہیں دے سکتے ان کی شائستگیٔ شوق ہے تکمیل طلب اپنے جذبوں کو جو معیار نہیں دے سکتے کیوں تعلق سے پگھل جاتا ہے دل کا پتھر راز یہ صاحب اسرار نہیں دے ...

مزید پڑھیے

سفر ہے دھوپ کا اور ساتھ سائے رکھتی ہوں

سفر ہے دھوپ کا اور ساتھ سائے رکھتی ہوں کسی کی یاد کو دل میں چھپائے رکھتی ہوں مرا خیال تو کوئی بدل نہیں سکتا جو رائے رکھتی ہوں بس ایک رائے رکھتی ہوں ہوا ہو کتنی ہی سرکش فضا ہو یخ بستہ میں اپنے دل کا الاؤ جلائے رکھتی ہوں اداس میں کبھی تنہائیوں میں بھی نہ رہی ترے خیال کی محفل ...

مزید پڑھیے

موج آئے کوئی حلقۂ گرداب کی صورت

موج آئے کوئی حلقۂ گرداب کی صورت میں ریت پہ ہوں ماہیٔ بے آب کی صورت صدیوں سے سرابوں میں گھرا سوچ رہا ہوں بن جائے کہیں سبزۂ شاداب کی صورت آثار نہیں کوئی مگر دل کو یقیں ہے گھر ہوگا کبھی وادیٔ مہتاب کی صورت ہے سوچ کا تیشہ تو نکل آئے گی اک دن پتھر کے حصاروں میں کوئی باب کی ...

مزید پڑھیے

جانے کیا جرم ہوا ہے مجھ سے

جانے کیا جرم ہوا ہے مجھ سے میرا سایہ بھی جدا ہے مجھ سے جسم کا بوجھ لیے جاؤں کہاں خلقت شہر خفا ہے مجھ سے یوں کیا بے سر و ساماں اس نے مجھ کو بھی چھین لیا ہے مجھ سے میری ہستی ہے یہاں کتنی حقیر میرا سایہ بھی بڑا ہے مجھ سے پھر تباہی کی نوید آئی ہے پھر وہی شخص ملا ہے مجھ سے حادثہ کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 742 سے 4657