دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا
دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا یک طرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا صدیوں ہوئی تہذیب سزا اور جزا کی اک سجدۂ سرمست نے دیں کا نہیں چھوڑا تصویر لگی رہ گئی دیوار کھنڈر پر جو رشتہ مکاں سے تھا مکیں کا نہیں چھوڑا سو روپ تھے وحدت میں بھی اس پارہ صفت کے پر ہم کو بت دل نے یقیں کا نہیں ...