شاعری

دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا

دریا کی مسافت نے زمیں کا نہیں چھوڑا یک طرفہ محبت نے کہیں کا نہیں چھوڑا صدیوں ہوئی تہذیب سزا اور جزا کی اک سجدۂ سرمست نے دیں کا نہیں چھوڑا تصویر لگی رہ گئی دیوار کھنڈر پر جو رشتہ مکاں سے تھا مکیں کا نہیں چھوڑا سو روپ تھے وحدت میں بھی اس پارہ صفت کے پر ہم کو بت دل نے یقیں کا نہیں ...

مزید پڑھیے

اس کے ہونے کی خبر شہر میں دل نے پائی

اس کے ہونے کی خبر شہر میں دل نے پائی کوئی ساعت کی بھی فرصت نہیں ملنے پائی ہاتھ پہ رکھوں ترے نقش ابھر آتے ہیں کیا صفت دیکھ تو اس شہر کی گل نے پائی عشق نے مجھ کو جلا ڈالا ہے شعلہ بن کر میں ردا درد کی سوزن سے نہ سلنے پائی ہم کو تنہائی نے توڑا کیا ریزہ ریزہ زخم دل ہجر کی بارش تو نہ ...

مزید پڑھیے

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں

خوابوں سا کوئی خواب بنانے میں لگی ہوں اک دشت میں ہوں پیاس بجھانے میں لگی ہوں بتلاؤ کوئی اسم مجھے رد بلا کا میں آخری کردار نبھانے میں لگی ہوں وہ صحن میں افلاک لیے کب سے کھڑا ہے میں چھت پہ ہوں بادل کو اڑانے میں لگی ہوں اک عمر ہوئی پیڑ پہ دو نام لکھے تھے اک عمر سے وہ نام مٹانے میں ...

مزید پڑھیے

تاروں بھرا فلک ہے بچھونا تو ہے نہیں

تاروں بھرا فلک ہے بچھونا تو ہے نہیں اس چاندنی کے تخت پہ سونا تو ہے نہیں آنسو گریں جو سنگ پہ رستہ بنائیں گے پتھر کی آنکھ نے کبھی رونا تو ہے نہیں چاروں طرف میں اس کے قدم ڈھونڈھتی رہی اس گھر میں کوئی پانچواں کونا تو ہے نہیں

مزید پڑھیے

یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا

یہ آنکھیں کھلیں جب سے کیا کیا نہ دیکھا مگر دیکھنا جس کو چاہا نہ دیکھا یہ تنہائ دشت غربت کی حد ہے کبھی دھوپ میں اپنا سایا نہ دیکھا بتوں کی جگہ اور عاشق کے دل میں یہی سنگ و شیشہ میں یارا نہ دیکھا اگر دید سے کام ہی کچھ نہ نکلا تو کیا فائدہ جیسے دیکھا نہ دیکھا لہو سے بھری اپنی چٹکی ...

مزید پڑھیے

دن میں اشکوں کے نگیں دشت میں ہارے کتنے

دن میں اشکوں کے نگیں دشت میں ہارے کتنے رات ہم راہ لیے آ گئی تارے کتنے خواب آنکھوں کے سلا آئے گھروں کے اندر لوگ سڑکوں پہ لیے آ گئے نعرے کتنے خود کو نیلام کیا مصر کے بازاروں میں قرض یوسف نے محبت کے اتارے کتنے سب ہی مصروف عبادت ہیں گنے کون یہاں مسجدیں شہر میں کتنی ہیں منارے ...

مزید پڑھیے

ہر مرحلے سے یوں تو گزر جائے گی یہ شام

ہر مرحلے سے یوں تو گزر جائے گی یہ شام لے کر بلائے درد کدھر جائے گی یہ شام پھیلیں گی چار سمت سنہری اداسیاں ٹکرا کے کوہ شب سے بکھر جائے گی یہ شام رگ رگ میں پھیل جائے گا تنہائیوں کا زہر چپکے سے میرے دل میں اتر جائے گی یہ شام ٹوٹا یقین زخمی امیدیں سیاہ خواب کیا لے کے آج سوئے سحر جائے ...

مزید پڑھیے

سانسوں میں رگ و پے میں سمایا ہے کوئی اور

سانسوں میں رگ و پے میں سمایا ہے کوئی اور ہے زیست کسی اور کی جیتا ہے کوئی اور آنکھوں نے بسائی ہے کوئی اور ہی صورت اس دل کے نہاں خانے میں ٹھہرا ہے کوئی اور کیا طرفہ تماشا ہے کہ اس دل کی صدا کو سنتا ہے کوئی اور سمجھتا ہے کوئی اور اک آگ ہے جو دل میں بجھی جاتی ہے ہر پل خرمن سے جو اٹھتا ...

مزید پڑھیے

بھٹک رہی ہے اندھیروں میں آنکھ دیکھے کیا

بھٹک رہی ہے اندھیروں میں آنکھ دیکھے کیا رکی ہے سوچ کہ اب اور آگے سوچے کیا ہر ایک راہ ہے سنسان ہر گلی خاموش یہ شہر شہر خموشاں ہے کوئی بولے کیا بجھی بجھی سی تمنا تھکی تھکی سی امید اب اور یاس کے صحرا میں کوئی چاہے کیا ہوئی ہے صبح سے کس طرح شام شام سے صبح جو میری جان پہ گزری ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

کشتی رواں دواں تھی سمندر کھلا ہوا

کشتی رواں دواں تھی سمندر کھلا ہوا آنکھوں میں بس گیا ہے وہ منظر کھلا ہوا بستر تھا ایک جسم تھے دو خواہشیں ہزار دونوں کے درمیان تھا خنجر کھلا ہوا الجھا ہی جا رہا ہوں میں گلیوں کے جال میں کب سے ہے انتظار میں اک گھر کھلا ہوا صحرا نورد شہر کی سڑکوں پہ آ گئے چہرے پہ گرد آبلہ پا سر کھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 744 سے 4657