شاعری

لذت گریہ سے بھی دل کی خلش کم تو نہیں

لذت گریہ سے بھی دل کی خلش کم تو نہیں اشک گوہر ہی سہی زخم کا مرہم تو نہیں یہ بھی ممکن ہے غم ہجر غم دہر بنے مشکلیں عشق کی سنگ رہ آدم تو نہیں غم عطا کرکے نہ سمجھو کہ مجھے شاد کیا دل میں سب کچھ ہے مگر حوصلۂ غم تو نہیں کارواں اور چلے اور چلے اور چلے رہنما صاحب منزل ہے مگر ہم تو ...

مزید پڑھیے

مری آرزو نئے روپ بھر کے ہزار پھول کھلائے گی

مری آرزو نئے روپ بھر کے ہزار پھول کھلائے گی مجھے اپنے باغ سے عشق ہے تو کبھی بہار بھی آئے گی مرے ساتھیوں نے قدم قدم پہ دئے بجھا بھی دئے تو کیا نئے راستوں میں نئی امنگ نئے چراغ جلائے گی مرے غم پہ طعنہ زنی نہ کر میں نہیں ہوں منکر سر خوشی ابھی سوگوار ہے زندگی کبھی گا سکے گی تو گائے ...

مزید پڑھیے

زمیں تشکیل دے لیتے فلک تعمیر کر لیتے

زمیں تشکیل دے لیتے فلک تعمیر کر لیتے ہم اپنے آپ میں ہوتے تو سب تقدیر کر لیتے انہی راہوں پہ چلنے کی کوئی تدبیر کر لیتے اگرچہ خاک اڑتی، خاک کو اکسیر کر لیتے نہیں تھا سر میں سودا بام و در کا اس قدر ورنہ زمانہ دیکھتا کیا کیا نہ ہم تعمیر کر لیتے یہ مہلت بھی بڑی شے تھی ہمیں اے کاش مل ...

مزید پڑھیے

روز کھلنے کی ادا بھی تو نہیں آتی ہے

روز کھلنے کی ادا بھی تو نہیں آتی ہے اس طرف باد صبا بھی تو نہیں آتی ہے سوچتا ہوں کہ ملاقاتوں کو محدود کروں ان دریچوں سے ہوا بھی تو نہیں آتی ہے اب طریقہ ہے یہی موند لیں اپنی آنکھیں ورنہ دنیا کو حیا بھی تو نہیں آتی ہے اس کی قسمت میں ہیں برسات کے سارے تیور اپنے حصے میں گھٹا بھی تو ...

مزید پڑھیے

مرے رخسار پر آنسو کا قطرہ رک گیا ہوگا

مرے رخسار پر آنسو کا قطرہ رک گیا ہوگا کسی کا اک حسیں چہرہ بہت دھندلا گیا ہوگا نہ جانے کس طرح سے کر لیا اپنا اسیر اس نے ہمارے ساتھ چل کر دور تک وہ آ گیا ہوگا سمندر کی حسیں لہریں کنارے پر رکیں جیسے وہ ایسے ہی میری دہلیز پر آ کر رکا ہوگا مرے اشعار کے لفظوں کو کوئی چھو نہ پائے گا کہ ...

مزید پڑھیے

ہم موند کے پلکیں کبھی رویا نہیں کرتے

ہم موند کے پلکیں کبھی رویا نہیں کرتے آنکھوں میں جو آنسو ہو تو سویا نہیں کرتے ہر تلخ حقیقت کو اڑاتے ہیں ہنسی میں ہم لوگ کسی بات پہ رویا نہیں کرتے اک عمر گزاری ہے تو معلوم ہوا ہے کشتی کو کنارے پہ ڈبویا نہیں کرتے آنکھوں سے جو جھڑتے ہیں وہ آنسو ہی بہت ہیں کلیوں کا تو ہم ہار پرویا ...

مزید پڑھیے

ظرف اس کا مری امید سے بڑھ کر نکلا

ظرف اس کا مری امید سے بڑھ کر نکلا میں نے دریا جسے سمجھا وہ سمندر نکلا میں جسے دھوپ سمجھ کر کبھی گھبراتی تھی وہ میرے اپنے خیالات کا منظر نکلا ہم نے جانا تھا جسے ساری دنیا سے الگ وہ بھی دنیا کے رواجوں ہی کا خوگر نکلا کھو دیا جب تو احساس ہوا شدت سے میں جسے خار سمجھتی تھی گل تر ...

مزید پڑھیے

ایسا نہیں کسی سے محبت نہیں ہمیں

ایسا نہیں کسی سے محبت نہیں ہمیں پر کیا کریں کہ شوق وضاحت نہیں ہمیں اس طرح کھو گئے ہیں غم زندگی میں ہم پھولوں کو دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہمیں کتنے مکان ہم نے تو تعمیر کر لیے اور ان کو گھر بنانے کی چاہت نہیں ہمیں یوں بند ہو گئے ہیں دریچے بھی سوچ کے اب تو کسی سے کوئی شکایت نہیں ...

مزید پڑھیے

دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے

دور صحرا میں جہاں دھوپ شجر رکھتی ہے آنکھ کیا شے ہے کہاں جا کے نظر رکھتی ہے اور کچھ روز ابھی صور نہ پھونکا جائے اس کے دربار میں دنیا ابھی سر رکھتی ہے لوگ منزل پہ بہت خوش ہیں مگر منزل بھی لمحہ لمحہ پس امکان سفر رکھتی ہے آؤ اس شخص کی روداد سنیں غور کریں سرخ روئی بھی جسے خاک بسر ...

مزید پڑھیے

لوگ حیران ہیں ہم کیوں یہ کیا کرتے ہیں

لوگ حیران ہیں ہم کیوں یہ کیا کرتے ہیں زخم کو بھول کے مرہم کا گلا کرتے ہیں کبھی خوشبو کبھی جگنو کبھی سبزہ کبھی چاند ایک تیرے لئے کس کس کو خفا کرتے ہیں ہم تو ڈوبے بھی نکل آئے بھی پھر ڈوبے بھی لوگ دریا کو کنارے سے تکا کرتے ہیں ہیں تو میرے ہی قبیلے کے یہ سب لوگ مگر میری ہی راہ کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 729 سے 4657