شاعری

امتیاز غم و خوشی نہ رہا

امتیاز غم و خوشی نہ رہا کوئی احساس زندگی نہ رہا ہم نے اے دل تجھے بھی دیکھ لیا اب ترا اعتبار بھی نہ رہا ان سے کہتے خرد کا افسانہ کیا کہیں ہم کو ہوش ہی نہ رہا جستجو میں تری طلب میں تری مجھ کو تیرا خیال بھی نہ رہا خود سے رہتا ہوں بے خبر لیکن آپ سے بے خبر کبھی نہ رہا آپ کے بعد زندگی ...

مزید پڑھیے

کرنی ہے راہ زیست جو ہموار دوستو

کرنی ہے راہ زیست جو ہموار دوستو کیوں ڈھونڈتے ہو سایۂ دیوار دوستو ارزاں کچھ اتنی ہو گئی جنس وفا کہ اب ملتا نہیں ہے کوئی خریدار دوستو مدت ہوئی متاع دل و جاں لٹے ہوئے اب بھی وہی ہے گرمئ بازار دوستو خون جگر سے لکھتے چلو نقش پا کے ساتھ کیا کہہ رہی ہے وقت کی رفتار دوستو نشترؔ بتائے ...

مزید پڑھیے

منزل پہ پہنچتے ہی ستم ٹوٹ رہے ہیں

منزل پہ پہنچتے ہی ستم ٹوٹ رہے ہیں اے ضبط فغاں دیکھ کہ ہم ٹوٹ رہے ہیں کیوں زیست کو الفاظ و معانی نہیں ملتے کیوں صفحۂ ہستی پہ قلم ٹوٹ رہے ہیں اس دور پر آشوب میں اب اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی تراشیدہ صنم ٹوٹ رہے ہیں کر دیکھیں کچھ اپنی ہی وفاؤں میں اضافہ ہم ان کی جفاؤں سے تو کم ٹوٹ رہے ...

مزید پڑھیے

کس کی یادوں کا فیض جاری ہے

کس کی یادوں کا فیض جاری ہے کس لئے اتنی آہ و زاری ہے سی لئے ہونٹ پی لئے آنسو یہ ہی تہذیب انکساری ہے کس کی یادوں میں جاگتے ہو تم کس کے خوابوں کی ذمہ داری ہے صرف عنواں بدل دیا تم نے ورنہ یہ داستاں ہماری ہے جتنے احسان ہیں تمہارے ہیں جو خطا ہے فقط ہماری ہے میرؔ صاحب بھی خوب کہتے ...

مزید پڑھیے

تیری یادیں ہلاک کر دیں گی

تیری یادیں ہلاک کر دیں گی قصۂ زیست پاک کر دیں گی خواہشیں خنجروں کی ہیں مانند یہ مرے دل کو چاک کر دیں گی شہرتوں پر غرور مت کرنا یہ تجھے مثل خاک کر دیں گی یہ ہمارے لہو کی چھیٹیں ہیں تیرے دامن کو پاک کر دیں گی غم کی تاریکیاں بھی ممکن ہے زندگی تابناک کر دیں گی شاکرؔ آ جاؤ اب مری ...

مزید پڑھیے

کوئی جھوٹا قیاس رہنے دو

کوئی جھوٹا قیاس رہنے دو مجھ سے ملنے کی آس رہنے دو جشن گریہ کا اہتمام کرو زندگی ہے اداس رہنے دو زخم دل کے ہرے دکھائی دیں اس حویلی میں گھاس رہنے دو چاندنی چھپ گئی ہے بادل میں چاند کو بد حواس رہنے دو شمع جگنو چراغ بے چینی رات کے آس پاس رہنے دو ملتمس ہو کے کیا ملا شاکرؔ مت کرو ...

مزید پڑھیے

مرے جنوں کے فسانے بدلتے رہتے ہیں

مرے جنوں کے فسانے بدلتے رہتے ہیں کہ خواب لمحے سہانے بدلتے رہتے ہیں نہ بدلا آج بھی مفہوم حق و باطل کا یہ اور بات زمانے بدلتے رہتے ہیں میں ان کے تیر کا ہنس کر جواب دیتا ہوں مرے عزیز نشانے بدلتے رہتے ہیں فقیر کچے مکانوں میں مست ہیں لیکن امیر لوگ ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں پتہ میں ...

مزید پڑھیے

خواہش قتل عام کرنے لگے

خواہش قتل عام کرنے لگے اپنا جینا حرام کرنے لگے منزلیں دور ہی رہیں ان سے جو مسافر قیام کرنے لگے وہ یہ سمجھے کہ کچھ ضرورت ہے ہم انہیں جب سلام کرنے لگے ان اندھیروں کے حوصلے دیکھو روشنی زیر دام کرنے لگے عشق چھوٹا تو ہوش میں آئے ہم بھی اب کام دھام کرنے لگے ہوش اڑنے لگے ہیں خاروں ...

مزید پڑھیے

بزدلی سی کہاں یہ مرتی ہیں

بزدلی سی کہاں یہ مرتی ہیں مشکلیں حوصلوں سے ڈرتی ہیں اشک آتے ہیں جب ندامت کے میری آنکھیں بہت نکھرتی ہیں کاٹ دو ہاتھ ان ہواؤں کے جو چراغوں کا قتل کرتی ہیں کرنی پڑتی ہیں پہلے تدبیریں پھر کہیں قسمتیں سنورتی ہیں خواہشیں مفلسوں کے سینے میں روز جیتی ہیں روز مرتی ہیں صبر کی حد میں ...

مزید پڑھیے

تلخ لہجے میں بولنے والے

تلخ لہجے میں بولنے والے ہم ہیں لفظوں کو تولنے والے اب خسارے میں ہیں سیاست کے اپنے پتوں کو کھولنے والے طنز کرتے ہیں آسمانوں پر جو ہیں شاخوں پہ ڈولنے والے بہہ گئے نفرتوں کے دریا میں رنگ نفرت کا گھولنے والے اب کہاں لہجے زعفرانی سے رس بھی باتوں سے گھولنے والے میرا سودا نہ کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 662 سے 4657