شاعری

مجھے پڑھو تو پڑھو میری داستاں سے الگ

مجھے پڑھو تو پڑھو میری داستاں سے الگ میں گلستاں میں بھی یوں ہوں کہ گلستاں سے الگ ہو کوئی وصل کا لمحہ کہ ہجر کا عالم حجاب شوق ہوا ہے نہ درمیاں سے الگ نقوش سجدہ زمانہ کہاں تلاش کرے مری جبیں سے جدا تیرے آستاں سے الگ یہ جاں نواز بہت ہے وہ کم سے کم جاں سوز بہار سے ہے شکایت جدا خزاں سے ...

مزید پڑھیے

سکوں کسی کو میسر نہیں چمن میں ابھی

سکوں کسی کو میسر نہیں چمن میں ابھی بہت سے خار ہیں پھولوں کے پیرہن میں ابھی نسیم صبح نے گل تو بہت کھلائے ہیں مگر بہار نہ آئی مرے چمن میں ابھی مجھے یہ ناز کہ اشکوں کو پی رہا ہوں میں انہیں یہ غم کی اندھیرا ہے انجمن میں ابھی چمن پہ ہے یہ کرم بوئے غنچہ و گل کا کہ ارتباط ہے باقی لب و ...

مزید پڑھیے

ڈر رہا ہوں کہ ڈر کی بات بھی ہے

ڈر رہا ہوں کہ ڈر کی بات بھی ہے بے رخی وجہ التفات بھی ہے دوستی ان دنوں خلوص کے ساتھ وجہ ترک تعلقات بھی ہے تیرا غم حاصل خوشی ہی نہیں تیرا غم حاصل حیات بھی ہے ہر نفس اک تصور غم نو کوئی حد تصورات بھی ہے ہنس کے پوچھا کلی سے اک گل نے مسکرانے کی کوئی بات بھی ہے دوستوں سے گریز نشترؔ ...

مزید پڑھیے

سنا ہے آج صبا مشک بار آئی ہے

سنا ہے آج صبا مشک بار آئی ہے بہت دنوں میں شب انتظار آئی ہے کلی کلی کے تبسم سے خندۂ گل تک فضا چمن کی کسے سازگار آئی ہے یہ کیا کہ خندۂ گل کا طلسم ٹوٹ گیا ہنسی لبوں پہ جو بے اختیار آئی ہے چٹک رہی ہیں یہ کس کے خیال کی کلیاں کہ دھڑکنوں کی صدا بار بار آئی ہے نگاہ شوق اگر جلوہ گاہ تک ...

مزید پڑھیے

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا بھی ہے

دیکھنے والوں نے کچھ دیکھا بھی ہے چشم نرگس دیدۂ بینا بھی ہے ان دنوں عالم ہے کچھ دل کا عجب حشر بھی برپا ہے سناٹا بھی ہے اک ہجوم دوستاں ہے اور میں دہر میں مجھ سا کوئی تنہا بھی ہے ہر طرف تعمیر دیواریں ہوئیں سوچتا یہ ہوں کہیں سایا بھی ہے کیوں نہ ہو فکر و خیال تشنگاں بند مجھ میں پیاس ...

مزید پڑھیے

واقف حال نسیم سحری ہے کہ نہیں

واقف حال نسیم سحری ہے کہ نہیں گود پھولوں سے گلستاں کی بھری ہے کہ نہیں بعد میں سوچنا کس در سے ہوئے تھے داخل پہلے دیکھو یہ وہی بارہ دری ہے کہ نہیں قافلہ لٹ بھی چکا راہنما سوچ میں ہے مجھ پہ الزام غلط راہبری ہے کہ نہیں میرا دل توڑنے والو یہ بتاؤ دنیا آج بھی کار گہہ شیشہ گری ہے کہ ...

مزید پڑھیے

فصل گل آئی مگر چاک گریباں نہ ہوئے

فصل گل آئی مگر چاک گریباں نہ ہوئے لوگ تھے اتنے پریشاں کہ پریشاں نہ ہوئے بس یوں ہی بڑھتی رہی بڑھتی رہی تاریکی اور کچھ صبح کے آثار نمایاں نہ ہوئے ہم بھی آوارہ ہی پھرتے ہیں صبا کی مانند ہم بھی منت‌‌ کش ارباب گلستاں نہ ہوئے تیری آواز کسی نے نہ سنی ہو جیسے ہم تری بزم میں جس دن سے ...

مزید پڑھیے

ہو کے وارفتہ کہیں خود کو پکارا تو نہیں

ہو کے وارفتہ کہیں خود کو پکارا تو نہیں نام جو لب پہ ہمارے ہے تمہارا تو نہیں عالم تیرہ شبی مجھ کو گوارا تو نہیں میں کہ اشک سر مژگاں ہوں ستارا تو نہیں وقت کہتے ہیں کہ ہر زخم کو بھر دیتا ہے وقت نے میرا کوئی قرض اتارا تو نہیں روشنی بن کے ابھرنا نہیں آساں پھر بھی ڈوب کیا جاؤں کہ میں ...

مزید پڑھیے

درد ہی درد تھی منت کش درماں تو نہ تھی

درد ہی درد تھی منت کش درماں تو نہ تھی زندگی خواب تو تھی خواب پریشاں تو نہ تھی جب ہوا لے کے چلی تھی ترے کوچے کی طرف مری جانب نگراں گردش دوراں تو نہ تھی زندگی شہر غزالاں میں بگولوں کی طرح مجھ سے پہلے مری آواز پہ رقصاں تو نہ تھی ہر نفس ساتھ رہی ہے مرے سائے کی طرح آپ کی یاد مری عمر ...

مزید پڑھیے

بجھے بجھے ہوئے داغ جگر کی بات نہ کر

بجھے بجھے ہوئے داغ جگر کی بات نہ کر بھڑک اٹھے گا یہ شعلہ سحر کی بات نہ کر بس ایک بار محبت سے دیکھنے والے یہ وہ کرم ہے کہ بار دگر کی بات نہ کر ترس نہ جائیں کہیں رنگ و بو کو اہل چمن گلوں کو دیکھ کے زخم جگر کی بات نہ کر متاع درد بڑھا اور مسکرائے جا شب فراق نمود سحر کی بات نہ کر نیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 660 سے 4657