شاعری

ریگ زار حیات سے گزرے

ریگ زار حیات سے گزرے ہر قدم حادثات سے گزرے خار‌‌ و خاشاک کا غبار لئے گلشن کائنات سے گزرے تجھ کو پانے کی جستجو یا رب ہم حد کائنات سے گزرے سب کو ہے دعویٰٔ ہمہ دانی کتنے عرفان ذات سے گزرے تیرے گھر کا طواف کرتے ہوئے عالم شش جہات سے گزرے عرش ہلنے لگا تھا آل رسول تشنہ لب جب فرات سے ...

مزید پڑھیے

چادر کو کھینچتے ہیں جگاتے ہیں رات میں

چادر کو کھینچتے ہیں جگاتے ہیں رات میں بے چہرہ لوگ مجھ کو ڈراتے ہیں رات میں دن بھر خموش رہتے ہیں جو طائران درد کمرے میں آ کے شور مچاتے ہیں رات میں دروازہ بند کر کے بھی سونا محال ہے کس راہ سے نہ جانے در آتے ہیں رات میں مجھ سے وہ دن میں ملتے ہیں بے اعتنائی سے خوابوں میں آ کے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

جب بھی تمہاری یاد کی آہٹ مجھے ملی

جب بھی تمہاری یاد کی آہٹ مجھے ملی تنہائی کانپتی ہوئی مجھ سے جدا ہوئی آواز دے کے کس کو بلاؤں میں اپنے پاس ظلمت کی چار سو مرے دیوار اٹھ گئی وہ لوگ اتنی دیر میں کس سمت کو گئے ساحل پہ آ چکا تھا سفینہ ابھی ابھی ہیں شعلہ بار تاروں کی آنکھیں نہ جانے کیوں جھلسا رہی ہے جسم کو کیوں آج ...

مزید پڑھیے

گلشن بے بہار ہیں ہم لوگ

گلشن بے بہار ہیں ہم لوگ دامن خار زار ہیں ہم لوگ چشم کوتاہ بیں کو کیا ہے خبر خود ہی اپنے شکار ہیں ہم لوگ آئنہ بھی یقیں نہ کر پائے ایسے بے اعتبار ہیں ہم لوگ کس قدر پر سکون ہے دنیا کس قدر بے قرار ہیں ہم لوگ وقت کے ناتمام صحرا میں زندگی کا مزار ہیں ہم لوگ آپ اپنی تلاش میں گم ہیں آپ ...

مزید پڑھیے

شہر بدری کے دن گزر جاتے

شہر بدری کے دن گزر جاتے کتنا اچھا تھا لوگ گھر جاتے آن دے کر کے جان لائے ہو کیا یہ لازم نہیں تھا مر جاتے حکم نافذ تھا اپنے گھر میں رہو بے گھری ہم بتا کدھر جاتے محتسب نے بڑی ہی جلدی کی عین ممکن تھا ہم سدھر جاتے عمر جیسی گزار دی ہم نے تم کو ملتی تو کب کے مر جاتے ہائے رے التفات چارہ ...

مزید پڑھیے

جس کی جو ہے طلب تماشہ ہے

جس کی جو ہے طلب تماشہ ہے یہ بھی کتنا عجب تماشہ ہے آنکھ ایمان لائی منظر پر دل یہ کہتا ہے سب تماشہ ہے میں نے دنیا کے رنگ دیکھے ہیں میرے آگے یہ سب تماشہ ہے دیکھتے ہیں جو ہم کسی کی طرف دیکھنے کا سبب تماشہ ہے وہ بھی دکھلائے جو کہ ہے ہی نہیں تیری دنیا عجب تماشہ ہے لا مکاں سے یہ دہر تک ...

مزید پڑھیے

غموں کے پھول سر شاخ مسکراتے ہیں

غموں کے پھول سر شاخ مسکراتے ہیں اداسیوں کے یہ موسم کہاں سے آتے ہیں بچھڑنے والوں کو الزام کیوں دیا جائے دلوں کا کیا ہے بنا بات ٹوٹ جاتے ہیں ترا خیال جو بدلا جنوں میں ہوش آیا یہ راستے تو کہیں اور لے کے جاتے ہیں پھر ایک شام ترے سنگ خود کو بھول آئے سنانے والے کئی داستاں سناتے ...

مزید پڑھیے

یہ ابتدا ہے ابھی باب اختتام کہاں

یہ ابتدا ہے ابھی باب اختتام کہاں لہو ترنگ کا قصہ ہوا تمام کہاں لکھی ہے خون سے ہم نے حکایت ہستی مگر کتاب میں ہوگا ہمارا نام کہاں ہمارا نام نہ پوچھو نہ کچھ پتا پوچھو ہماری صبح کہاں ہے ہماری شام کہاں ہمیں تو کچھ بھی نہیں ہے خبر کہ اب کے ہم اگر اٹھیں گے یہاں سے تو پھر قیام ...

مزید پڑھیے

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے

دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے کسی کے ہجر میں جینا گوارا کر لیا میں نے بت پیماں شکن سے انتقاماً ہی سہی لیکن ستم ہے وعدۂ ترک تمنا کر لیا میں نے نیاز عشق کو صورت نہ جب کوئی نظر آئی جنون بندگی میں خود کو سجدہ کر لیا میں نے وفا نا آشنا اس سادگی کی داد دے مجھ کو سمجھ کر تیری ...

مزید پڑھیے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے

بروز حشر مرے ساتھ دل لگی ہی تو ہے کہ جیسے بات کوئی آپ سے چھپی ہی تو ہے نہ چھیڑو بادہ کشو میکدے میں واعظ کو بہک کے آ گیا بیچارہ آدمی ہی تو ہے قصور ہو گیا قدموں پہ لوٹ جانے کا برا نہ مانیے سرکار بے خودی ہی تو ہے ریاض خلد کا اتنا بڑھا چڑھا کے بیاں کہ جیسے وہ مرے محبوب کی گلی ہی تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 653 سے 4657