شیشوں کی بات اور ہے ساغر کی بات اور
شیشوں کی بات اور ہے ساغر کی بات اور ساقی ہے تیری چشم فسوں گر کی بات اور فانوس نے فروغ دیا شمع حسن کو پردے سے بڑھ گئی رخ انور کی بات اور عشرت سرائے خلد کا منکر تو میں نہیں لیکن تمہارے دم سے ہے اس گھر کی بات اور دل نازکی میں فرد خرد سختیوں میں طاق شیشے کی بات اور ہے پتھر کی بات ...