شاعری

پڑی وہ زد کہ نگاہوں کا حوصلہ ٹوٹا

پڑی وہ زد کہ نگاہوں کا حوصلہ ٹوٹا تمہارے عکس کی جھلمل سے آئنہ ٹوٹا زمین شق ہوئی آنکھوں میں بھر گیا سورج ہمارے سر پہ اچانک وہ حادثہ ٹوٹا گجر کا شور اذاں کی پکار کیا کہئے خدا سے میرے تکلم کا سلسلہ ٹوٹا ہماری فکر حد آسماں سے آگے تھی مگر کبھی نہ روایت سے واسطہ ٹوٹا تغیرات کی رو کب ...

مزید پڑھیے

جس طرح بھی برسر پیکار ہونا تھا ہوئے

جس طرح بھی برسر پیکار ہونا تھا ہوئے زندگی کا ہم کو دعوے دار ہونا تھا ہوئے تیرے جلوؤں تک رسائی کے لئے آنکھیں نہ تھیں پھر بھی تیرا طالب دیدار ہونا تھا ہوئے دشمنی کے نام پر تو ہو چکا میدان صاف دوستوں کو بیچ کی دیوار ہونا تھا ہوئے یوں تو سب کو اعتماد اپنے پروں پر تھا مگر جن پرندوں ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں

میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں کہ خواب آنکھ میں ہو آنکھ سو نہ جائے کہیں میں جانتا ہوں بہت روز وہ نہ ٹھہرے گا مگر اس عرصے میں وہ زہر بو نہ جائے کہیں جو ایک عکس بنایا تھا پچھلی بارش نے وہ شکل اب کے سے برسات دھو نہ جائے کہیں اسے یہ شکوہ کہ میں نے نہ پوچھا حال اس کا مجھے یہ ...

مزید پڑھیے

اپنا گھر بھی کوئی آسیب کا گھر لگتا ہے

اپنا گھر بھی کوئی آسیب کا گھر لگتا ہے بند دروازہ جو کھل جائے تو ڈر لگتا ہے بعد مدت کے ملاقات ہوئی ہے اس سے فرق اتنا ہے کہ اب اہل نظر لگتا ہے اس زمانے میں بھی کچھ لوگ ہیں فن کے استاد کام کوئی بھی کریں دست ہنر لگتا ہے جس نے جی چاہا اسے لوٹ کے پامال کیا اپنا دل بھی ہمیں دلی سا نگر ...

مزید پڑھیے

جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو

جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو تو اپنا ذہن بھی اس کے لیے کشادہ ہو وہ یاد آئے تو اپنا وجود ہی نہ ملے نہ یاد آئے تو مجھ کو تھکن زیادہ ہو پہاڑ کاٹ دوں سورج کو ہاتھ پر رکھ لوں ذرا خیال میں شامل اگر ارادہ ہو سمجھ سکو جو زمانے کے تم نشیب و فراز تو اپنے عہد کے بچوں سے استفادہ ہو یہ ...

مزید پڑھیے

کسی کی چاہ میں دل کو جلانا ٹھیک ہے کیا

کسی کی چاہ میں دل کو جلانا ٹھیک ہے کیا خود اپنے آپ کو یوں آزمانا ٹھیک ہے کیا شکار کرتے ہیں اب لوگ ایک تیر سے دو کہیں نگاہ کہیں پر نشانہ ٹھیک ہے کیا بہت سی باتوں کو دل میں بھی رکھنا پڑتا ہے ہر ایک بات ہر اک کو بتانا ٹھیک ہے کیا گلاب لب تو بدن چاند آتشیں رخسار نظر کے سامنے اتنا ...

مزید پڑھیے

یوں بظاہر دیکھے تو یار سب

یوں بظاہر دیکھے تو یار سب وقت پڑنے پر یہی بیکار سب مصلحت ہے حق نظر انداز کر حق کہا جس نے چڑھے وہ دار سب ہم انا کی پوٹلی تھامے رہے ہاتھ خالی تھے ہوئے وہ پار سب اے خدا تو نے بنائی تھیں وہ کیا جس کی آنکھوں سے ہوئے سرشار سب کچھ سکوں شاید میسر آئے گا چھوڑ کے دیکھا تھا یہ گھر بار ...

مزید پڑھیے

اجنبی بن کے تو گزرا مت کر

اجنبی بن کے تو گزرا مت کر دوستی کا یوں تماشا مت کر تیری آنکھیں نہیں دو جگنو ہیں بے سبب ان کو بھگویا مت کر اس کے آنے کا گماں ہوتا ہے اے ہوا پردا ہلایا مت کر میں مسافر ہوں سفر قسمت ہے میرے بارے میں تو سوچا مت کر زندگی ہو کہ محبت ہو شمسؔ ایسی چیزوں پہ بھروسہ مت کر

مزید پڑھیے

زندگی دشت بے حدود میں ہے

زندگی دشت بے حدود میں ہے اک عدم سا مرے وجود میں ہے شاعری عاشقی و مے نوشی ہر خرابی مری نمود میں ہے ایک دل میں ہیں تہ بہ تہ سو غم ایک جاں کتنی ہی قیود میں ہے شہر و صحرا میں ہو رہی ہے تمیز اب جنوں ہوش کی حدود میں ہے وہ نہیں ہے جو آ رہا ہے نظر اک وجود اور ہر وجود میں ہے

مزید پڑھیے

دامن شب میں ستارے چمکے

دامن شب میں ستارے چمکے ناامیدی میں سہارے چمکے جو کبھی باعث رسوائی تھے اب وہی داغ ہمارے چمکے ایک خورشید ڈھلا سینے میں سر مژگاں کئی تارے چمکے بحر کس شان سے پایاب ہوا ہم جو ڈوبے تو کنارے چمکے مہر ابھرا تو سبھی روشن تھے کون سے آپ ہی نیارے چمکے عاشقی در بدری نغمہ گری ہم سے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 639 سے 4657