ان کو کہاں ہے فکر کسی بھی عذاب کی

ان کو کہاں ہے فکر کسی بھی عذاب کی
کیوں بات کر رہے ہو گناہ و ثواب کی


دنیا بنائی اس نے کچھ اپنے حساب کی
تصویر کھینچ ڈالی حقیقت کی خواب کی


تنقید کرتے کرتے وہ نقاد بن گئے
اب آ گئی ہے باری خود ان کے حساب کی


جاتی ہوئی بہار کے منظر کو دیکھ کر
ان کو پڑی ہے فکر اب اپنے شباب کی


آسودگی مزے سے سلاتی ہے رات بھر
محرومیاں قبائیں بناتی ہیں خواب کی


جو لوگ خود فریبی میں رہتے ہیں مبتلا
ان کی نظر میں قدر کہاں آفتاب کی


شمشادؔ کو حقیقت کردار کا ہے علم
حاجت اسے کہاں ہے کسی بھی نصاب کی