شور و غل آہیں کراہیں اور الم پیہم تھا شادؔ
شور و غل آہیں کراہیں اور الم پیہم تھا شادؔ
رات میرے دل کی بستی کا عجب موسم تھا شادؔ
برق و باراں کی نظر مجھ پر رہی آٹھوں پہر
کیوں مرے ہی آشیاں پر آسماں برہم تھا شادؔ
سانس لینا بھی گراں تھا ناتوانی پر مری
ہجر کا عالم بھی جیسے نزع کا عالم تھا شادؔ
بادلوں کی آڑ سے کوئی مخاطب تھا مگر
لفظ بے معنی تھے اور لہجہ بھی کچھ مبہم تھا شادؔ
میرے دل پر تھی مسلط وحشتوں کی تیرگی
پر عنایت کا چراغاں بھی ذرا کم کم تھا شادؔ
آنسوؤں سے تر ملا ہر شخص کا دامن وہاں
ہر کسی کے دل میں پنہاں جیسے کوئی غم تھا شادؔ
اپنی بخشش کے لئے تھا ہر کوئی کوشاں وہاں
میں بھی صف میں تھا مگر با دیدۂ پر نم تھا شادؔ