بہانے ڈھونڈ نہ یوں ہم سے دور جانے کے
بہانے ڈھونڈ نہ یوں ہم سے دور جانے کے گئے جو دور تو پھر پاس ہم نہ آنے کے نظر ملا کے یکایک نظر جھکا لینا طریقے خوب نکالے ہیں ہوش اڑانے کے گلوں پہ رنگ چڑھا ہے مہک رہی ہے فضا کہ موسم آ گئے کلیوں کے ناز اٹھانے کے نمک لئے ہوئے پھرتے ہیں لوگ مٹھی میں جگر کے زخم کسی کو نہ ہم دکھانے ...