شاعری

بہانے ڈھونڈ نہ یوں ہم سے دور جانے کے

بہانے ڈھونڈ نہ یوں ہم سے دور جانے کے گئے جو دور تو پھر پاس ہم نہ آنے کے نظر ملا کے یکایک نظر جھکا لینا طریقے خوب نکالے ہیں ہوش اڑانے کے گلوں پہ رنگ چڑھا ہے مہک رہی ہے فضا کہ موسم آ گئے کلیوں کے ناز اٹھانے کے نمک لئے ہوئے پھرتے ہیں لوگ مٹھی میں جگر کے زخم کسی کو نہ ہم دکھانے ...

مزید پڑھیے

زندہ رہے تو ہم کو نہ پہچان دی گئی

زندہ رہے تو ہم کو نہ پہچان دی گئی مرنے کے بعد خوب پذیرائی کی گئی کیا کیا ستم ہوئے ہیں میرے ساتھ بارہا دھوکے سے کتنی بار مری جان لی گئی سینے سے میرے نوچ لی تصویر یار بھی شریان زندگی ہی مری کاٹ دی گئی تنہائیوں میں میں تیری یادوں کے ساتھ تھا محفل سجی تو یادوں سے وابستگی گئی اس لا ...

مزید پڑھیے

کسی کے نام رتبہ اور نہ خد و خال سے مطلب

کسی کے نام رتبہ اور نہ خد و خال سے مطلب کراماً کاتبیں کو خلق کے اعمال سے مطلب یہ بس سانسوں کی لے پر نام اس کا جپتے رہتے ہیں فقیروں کو نہیں ہوتا میاں سر تال سے مطلب میسر آئیں ان کو زندگی کی ساری سوغاتیں جنہیں ہے اس جہاں میں شوکت و اقبال سے مطلب اگر اس دور میں اٹھنا ہے تو اٹھ جانے ...

مزید پڑھیے

حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا

حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا صبح کا رات پہ تنقید سے آغاز کیا شعر گوئی کے سفر کا میاں ناصح ہم نے اپنے افکار کی تجدید سے آغاز کیا جو پس و پیش کہ سوچوں تو لرز جاتا ہوں اس کی ترجیح نے تردید سے آغاز کیا دیکھتا کیا ہے مرا شوق جنوں میں نے تو اپنے ہر دن کا تری دید سے آغاز کیا عرض‌ ...

مزید پڑھیے

صدا بام وفا سے ہر کسی کو دی گئی لیکن (ردیف .. د)

صدا بام وفا سے ہر کسی کو دی گئی لیکن کسی میں بھی یہاں ذوق وفاداری نہیں شاید خلوص و مہر کے شعلوں میں جو تبدیل ہو جائے تمہارے دل میں چاہت کی وہ چنگاری نہیں شاید مسلسل گامزن ہے اپنی دھن میں جانب منزل بدن کا بوجھ میری روح پر بھاری نہیں شاید غم الفت کو دنیا سے چھپا کر میں کہاں ...

مزید پڑھیے

بدلنے والی ہے فضا اے دل کچھ اور دیر رک

بدلنے والی ہے فضا اے دل کچھ اور دیر رک ہے شب کا آخری پہر اندھیرے ہوں گے زیر رک جہان دل پہ روشنی بکھیرنے کے واسطے وہ ماہتاب آئے گا ابھی نظر نہ پھیر رک ابھی ابھی ہوا ہے عشق ابھی سے کیوں ہے مضطرب لگے گا تیری زندگی میں بھی غموں کا ڈھیر رک بہت دنوں کے بعد آئے ہیں وہ خواب میں انہیں میں ...

مزید پڑھیے

کوشش بھی یہ خلاف طبیعت کبھی نہ کی

کوشش بھی یہ خلاف طبیعت کبھی نہ کی آسان راستوں کی سیاحت کبھی نہ کی ہم نے دلوں کو جیتا ہے حسن سلوک سے تیغ و تبر کے بل پہ حکومت کبھی نہ کی ہم پاسبان امن و اماں ہی رہے سدا غارت گری کی ہم نے وکالت کبھی نہ بے جا نوازشوں کے نہ قائل کبھی تھے ہم مال و متاع کی کوئی چاہت کبھی نہ کی گزرے ہیں ...

مزید پڑھیے

شر آج ظفر یاب ہے معلوم نہیں کیوں

شر آج ظفر یاب ہے معلوم نہیں کیوں اچھائی تہہ آب ہے معلوم نہیں کیوں اک چیز وفا جس کو کہا کرتی تھی دنیا وہ ان دنوں کم یاب ہے معلوم نہیں کیوں دنیا تو مرے ساتھ نہیں جائے گی پھر بھی دنیا ہی مرا خواب ہے معلوم نہیں کیوں رہتا ہے نکلنے کے لئے ہر گھڑی بیتاب آنکھوں میں جو سیلاب ہے معلوم ...

مزید پڑھیے

کسی شب اس کو بے پردہ تو آنا چاہیے تھا

کسی شب اس کو بے پردہ تو آنا چاہیے تھا ہمارے ظرف کو بھی آزمانا چاہیے تھا خیالوں میں نہ آنے کی اسے تاکید کی ہے مگر پھر بھی شکایت ہے کہ آنا چاہئے تھا ہم آخر کار شیشے میں اتر جاتے کسی دن تمہیں اک اور نسخہ آزمانا چاہیے تھے سبھی سے دل لگی کرنا جو ہے فطرت تمہاری تو یہ سب کچھ تمہیں پہلے ...

مزید پڑھیے

نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے

نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے اس پہ میرا فن پرواز گراں گزرا ہے یہ الگ بات نتیجہ جو نکلتا لیکن اتنا مایوس کن آغاز گراں گزرا ہے اک نہ اک روز تو کھلنی ہی تھی سچائی مگر فاش اچانک جو ہوا راز گراں گزرا ہے جن میں جرأت نہیں اڑنے کی انہیں کو میرا ہونا یوں مائل پرواز گراں گزرا ہے آتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 542 سے 4657