ہوں کس مقام پہ دل میں ترے خبر نہ لگے
ہوں کس مقام پہ دل میں ترے خبر نہ لگے ترے سلیقۂ گفتار کو نظر نہ لگے گھرا ہوا تھا تو کچھ ناگوار لوگوں میں ملال یہ ہے کہ اس وقت ہم کو پر نہ لگے اسیر قریۂ وحشت ہوں ایک مدت سے خرد کی راہ کسی طور معتبر نہ لگے مکاں وہی ہے پر اس کا مکین کیا اٹھا سحر بھی ہو تو وہ پہلی سی اب سحر نہ ...