شاعری

ہوں کس مقام پہ دل میں ترے خبر نہ لگے

ہوں کس مقام پہ دل میں ترے خبر نہ لگے ترے سلیقۂ گفتار کو نظر نہ لگے گھرا ہوا تھا تو کچھ ناگوار لوگوں میں ملال یہ ہے کہ اس وقت ہم کو پر نہ لگے اسیر قریۂ وحشت ہوں ایک مدت سے خرد کی راہ کسی طور معتبر نہ لگے مکاں وہی ہے پر اس کا مکین کیا اٹھا سحر بھی ہو تو وہ پہلی سی اب سحر نہ ...

مزید پڑھیے

فغان روح کوئی کس طرح سنائے اسے

فغان روح کوئی کس طرح سنائے اسے کہ زخم زخم بدن تو نظر نہ آئے اسے نہ دیکھنے کی سزا وار جس کو آنکھ ہوئی کوئی پیاسا بھلا ہاتھ کیا لگائے اسے سرور لذت حاصل کا کچھ سوا ہوگا چلن عطا کا اگر خسروانہ آئے اسے مرے لہو میں اتر آئیں گے نئے موسم چنی ہے دل میں جو دیوار سی وہ ڈھائے اسے کھلا نہ اس ...

مزید پڑھیے

ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے

ضبط کی حد سے بھی جس وقت گزر جاتا ہے درد ہونٹوں پہ ہنسی بن کے بکھر جاتا ہے رنگ بھر جاتا ہے پھر عشق کے افسانے میں اشک بن بن کے اگر خون جگر جاتا ہے آج تک عالم وحشت میں پئے جاتے ہیں کتنی مدت میں گھٹاؤں کا اثر جاتا ہے جام پی لیتے ہیں سب دیکھنا ہے ظرف مگر کون کس وقت اٹھا اور کدھر جاتا ...

مزید پڑھیے

جہاں کھنچ رہے ہیں کسی کے اثر میں

جہاں کھنچ رہے ہیں کسی کے اثر میں نہ جانے ہے کتنا فسوں اس نظر میں تری جستجو ہی مری زندگی ہے مرے نقش پا میں ہر اک رہ گزر میں مری راہ منزل نے کیوں روک لی ہے ابھی لطف آنے لگا تھا سفر میں زمیں بن گئی آسماں بن گئے ہیں خدا جانے کیا خوبیاں ہیں بشر میں اسے دہر فانی سے پھر کیا تعلق مقدر ...

مزید پڑھیے

رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے

رقص کرتے جھومتے اور جلتے پروانے ملے مسکراتے موت کے سائے میں دیوانے ملے اہل دل چلنے لگے جب بھی سوئے دیر و حرم منتظر اس راہ میں ہر بار میخانے ملے دور ماضی جب چراغ یاد سے روشن ہوا وقت کی کھلتی ہوئی ہر تہ میں افسانے ملے بھول کر آزار دل حیرت میں پتھر ہو گئے دشمنوں کے بھیس میں جب ...

مزید پڑھیے

وہ پاس آئے تو دل بے قرار ہونے لگا

وہ پاس آئے تو دل بے قرار ہونے لگا سکون دل کا مرے انتشار ہونے لگا ہے راز کیا اے محبت بتا دے ہم کو ذرا قریب آنے پہ کیوں انتظار ہونے لگا ذرا سمجھنے دے ساقی یہ ماجرا کیا ہے کہ جام پینے سے پہلے خمار ہونے لگا پھر آسمان مقدر پہ کوئی ہلچل ہے کہ ناگہاں مرے دل پہ غبار ہونے لگا کبھی وہ آ ...

مزید پڑھیے

ہجوم یاس میں لینے وہ کب خبر آیا

ہجوم یاس میں لینے وہ کب خبر آیا اجل نہ آئی تو غش کس امید پر آیا بچھے ہیں کوئے ستم گر میں جا بجا خنجر رگ گلو کا لہو پاؤں میں اتر آیا دکھائی مرگ نے کیا کیا بلندی و پستی چلے زمیں کے تلے آسماں نظر آیا ہمیشہ عفو ترا ہے گناہ کا حامی ہمیشہ رحم تجھے میرے حال پر آیا بتوں میں کوئی بھلائی ...

مزید پڑھیے

ہے سوز دل سے ساماں روشنی کا

ہے سوز دل سے ساماں روشنی کا یہ حاصل کم نہیں دل کی لگی کا وہی راہیں اکیلی آج پھر میں بھرم سب مٹ گیا ہے دوستی کا یہ تنہائی یہ آزادی کا عالم مزہ آنے لگا ہے زندگی کا جہاں دل میں سمٹتے جا رہے ہیں تماشہ ہو رہا ہے بے خودی کا ہزاروں ساز دل میں بج رہے ہیں اثر ہونے لگا ہے بندگی کا ہماری ...

مزید پڑھیے

گہرائیوں میں دل کی اترتا چلا گیا

گہرائیوں میں دل کی اترتا چلا گیا غم تا دم حیات نکھرتا چلا گیا یادوں کی وادیوں میں جہاں رکھ دئے قدم ہر نقش زندگی کا ابھرتا چلا گیا لطف و کرم کا دور بھی آیا تو اس طرح جھونکا ہوا کا جیسے گزرتا چلا گیا سن لی اگر کسی کی کبھی آہ دل خراش نشتر سا ایک دل میں اترتا چلا گیا آغاز عشق کی فقط ...

مزید پڑھیے

فائدہ کچھ نہیں اشاروں سے

فائدہ کچھ نہیں اشاروں سے ہم بہت دور ہیں کناروں سے دل منور ہوا شراروں سے ہم کو نسبت ہے چاند تاروں سے خوب مہکے خزاں کے موسم میں زخم کھائے تھے جو بہاروں سے گلستاں آپ کو مبارک ہو اپنی عظمت سے ریگ زاروں سے پھول برسے ہیں بعد مرگ ان پر شغل کرتے رہے جو خاروں سے یاد پھر رنگ میں نظر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 537 سے 4657