بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے
بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے مقام اور نہیں دوستی سے بھی آگے مریں تو ملیں زندگی کے اشارے مگر موت پھر زندگی سے بھی آگے بہت دور تک دب چلے روشنی میں اندھیرے ملے روشنی سے بھی آگے نہ اپنا پتہ ہے نہ ان کی خبر ہے کہاں آ گئے بے خودی سے بھی آگے نہ احساس مالک نہ احساس خدمت مقام آ گیا بندگی ...