شاعری

بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے

بہت راز ہیں زندگی سے بھی آگے مقام اور نہیں دوستی سے بھی آگے مریں تو ملیں زندگی کے اشارے مگر موت پھر زندگی سے بھی آگے بہت دور تک دب چلے روشنی میں اندھیرے ملے روشنی سے بھی آگے نہ اپنا پتہ ہے نہ ان کی خبر ہے کہاں آ گئے بے خودی سے بھی آگے نہ احساس مالک نہ احساس خدمت مقام آ گیا بندگی ...

مزید پڑھیے

نہ خون دل ہے نہ مے کا خمار آنکھوں میں

نہ خون دل ہے نہ مے کا خمار آنکھوں میں بسی ہوئی ہے تمہاری بہار آنکھوں میں پھری ہیں پتلیاں بیگانہ وار آنکھوں میں چھپا ہوا ہے کوئی پردہ دار آنکھوں میں امید جلوۂ دیدار بعد مرگ کہاں بھری ہے یاس نے خاک مزار آنکھوں میں دیے بغیر ترے باغ میں گلوں نے داغ چبھوئے نرگس شہلا نے خار آنکھوں ...

مزید پڑھیے

ضبط فغاں سے آ گئی ہونٹوں پہ جاں تلک

ضبط فغاں سے آ گئی ہونٹوں پہ جاں تلک دیکھو گے میرے صبر کی طاقت کہاں تلک غفلت شعارہا کے تغافل کہاں تلک جیتا رہے گا کون ترے امتحاں تلک وہ میری آرزو تھی جو گھٹ گھٹ کے رہ گئی وہ دل کی بات تھی جو نہ آئی زباں تلک گلشن میں آ کے تم تو عجب حال کر گئے بھولے ہوئے ہیں مرغ چمن آشیاں تلک پامال ...

مزید پڑھیے

دل کی بساط کیا تھی جو صرف فغاں رہا

دل کی بساط کیا تھی جو صرف فغاں رہا گھر میں ذرا سی آگ کا کتنا دھواں رہا شب بھر خیال گیسوئے عنبر فشاں رہا مہکا ہوا شمیم سے سارا مکاں رہا کیا کیا نہ کاوشوں پہ مری آسماں رہا بجلی گرائی مجھ پہ نہ جب آشیاں رہا محشر بھی کوئی درد ہے جو اٹھ کے رہ گیا شکوہ بھی کوئی غم ہے جو دل میں نہاں ...

مزید پڑھیے

منہ سے ترے سو بار کے شرمائے ہوئے ہیں

منہ سے ترے سو بار کے شرمائے ہوئے ہیں کیا ظرف ہے غنچوں کا جو اترائے ہوئے ہیں کہتے ہیں گنو مجھ پہ جو دل آئے ہوئے ہیں کچھ چھینے ہوئے ہیں مرے کچھ پائے ہوئے ہیں خنجر پہ نظر ہے کبھی دامن پہ نظر ہے کون آتا ہے محشر میں وہ گھبرائے ہوئے ہیں لب پر ہے اگر آہ تو آنکھوں میں ہیں آنسو بادل یہ ...

مزید پڑھیے

میں جبہہ سا ہوں اس در عالی مقام کا

میں جبہہ سا ہوں اس در عالی مقام کا کعبہ جہاں جواب نہ پائے سلام کا سکہ رواں ہے کس بت محشر خرام کا نقش قدم نگیں ہے قیامت کے نام کا کیا پاس غیر قصد ہے گر قتل عام کا اک مردہ دور رکھ دو مسیحا کے نام کا اے رہروان منزل مقصود مرحبا چمکا کلس وہ روضۂ دار السلام کا خنجر سنبھالیے پئے تسلیم ...

مزید پڑھیے

بھول بھی جائیں تجھے زخم پرانا بھی تو ہو

بھول بھی جائیں تجھے زخم پرانا بھی تو ہو جی بھی لیں جینے کو جینے کا بہانہ بھی تو ہو ہم نے سیکھا ہی نہیں ترک مروت کا سبق بات بڑھتی ہے مگر بات بڑھانا بھی تو ہو اب کے مقتل کو کسی میلے کی زینت کر دو پھر تماشہ جو سجے ساتھ زمانہ بھی تو ہو دشت در دشت سہی آبلہ پائی ہی سہی اور مسافت ہی سہی ...

مزید پڑھیے

وارفتگیٔ عشق ہے یا بے خودی ہے یہ

وارفتگیٔ عشق ہے یا بے خودی ہے یہ مجھ سے جو پوچھئے تو مری زندگی ہے یہ دل ان کے غم سے خوش ہے عجب دل لگی ہے یہ یعنی کہ دکھ کا دکھ ہے ہنسی کی ہنسی ہے یہ دل بھی مرا شریک نہیں بیکسی ہے یہ ہے موت کس کا نام اگر زندگی ہے یہ کب چاہتا ہوں میں کہ خوشی ہو مجھے نصیب میں بھی اسی میں خوش ہوں جو ان ...

مزید پڑھیے

زندگی دو گھڑی کی مستی ہے

زندگی دو گھڑی کی مستی ہے موت تعبیر خواب ہستی ہے ہر نفس صرف غم پرستی ہے میری ہستی عجیب ہستی ہے فصل گل ہے ہوا میں مستی ہے آج کل لطف مے پرستی ہے آسماں پر دماغ ہستی ہے یہ بلندی نہیں ہے پستی ہے یہ جوانی تری معاذ اللہ لاکھ مستی کی ایک مستی ہے تیرے کوچے سے بیٹھ کر اٹھنا کسر شان وفا ...

مزید پڑھیے

نالۂ دل کی صدا دیوار میں ہے در میں ہے

نالۂ دل کی صدا دیوار میں ہے در میں ہے صور یا محشر میں ہوگا یا ہمارے گھر میں ہے یوں تو مرنے کو مروں گا میں مگر مٹی مری یا فلک کے ہاتھ میں یا آپ کی ٹھوکر میں ہے میں پریشاں ہو کے نکلوں گا تو ان کی بزم سے میری بربادی کا ساماں ہے تو ان کے گھر میں ہے وہ اگر دیکھیں تو اب حالت سنبھلتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 538 سے 4657