نہ دیکھا جامۂ خود رفتگی اتار کے بھی
نہ دیکھا جامۂ خود رفتگی اتار کے بھی چلی گئیں تری یادیں مجھے پکار کے بھی یہ زندگی ہے اسے تلخ ترش ہونا ہے صعوبتوں کے ذرا دیکھ دن گزار کے بھی حباب زیست نہ دست قضا سے ٹوٹ سکا حیات باقی رہی قبر میں اتار کے بھی ترے غرور کے ہے روبرو یہ خوش شکنی جھکا کے سر نہ ہوئے پیش شہریار کے بھی بدی ...