شاعری

درد غم فراق سے آنکھیں ہیں اشک بار کیا

درد غم فراق سے آنکھیں ہیں اشک بار کیا رونے سے ہوگی مختصر زحمت انتظار کیا زخموں سے چور جو نہ ہو سینۂ داغدار کیا جس میں نہ ہو ہجوم گل کہئے اسے بہار کیا جس نے جلا کے دل مرا ہجر کی شب مٹا دیا شمعیں جلانے آیا ہے اب وہ سر مزار کیا اٹھ گئی جس طرف نظر حشر سا اک بپا ہوا ان کی نگاہ ناز ہے ...

مزید پڑھیے

تار نگاہ لطف سے پہلے رفو کریں

تار نگاہ لطف سے پہلے رفو کریں پھر میرے زخم دل کی دوا چارہ جو کریں کب تک تلاش یار میں پانی لہو کریں ملنا ہے جب محال تو کیا جستجو کریں پھر ان سے عرض حال کی کچھ آرزو کریں پہلے دل و جگر کو جب اپنے لہو کریں جس نے کبھی کیا نہ ہو کعبہ کی سمت رخ مرنے پہ کیا ضرور اسے قبلہ رو کریں پہلے وہ ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر چل دیا غربت میں وہی دل مجھ کو

چھوڑ کر چل دیا غربت میں وہی دل مجھ کو ایک ہمدرد ملا تھا جو بہ مشکل مجھ کو اب سوا غم نہیں کچھ زیست کا حاصل مجھ کو خوف گرداب نہ درکار ہے ساحل مجھ کو دل بھی قسام ازل نے وہ دیا قسمت سے جس نے دنیا میں نہ رکھا کسی قابل مجھ کو مجھ کو کیا غم جو ہیں تاریک عدم کے رستے داغ دل ہوں گے چراغ رہ ...

مزید پڑھیے

یاد تیری فلک پیر لئے بیٹھے ہیں

یاد تیری فلک پیر لئے بیٹھے ہیں شکوۂ گردش تقدیر لئے بیٹھے ہیں بے اثر نالۂ شب گیر لئے بیٹھے ہیں ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر لئے بیٹھے ہیں مصحف حسن کی تفسیر لئے بیٹھے ہیں دل میں ہم آپ کی تصویر لئے بیٹھے ہیں جانے کب منہدم ارکان عناصر ہو جائیں ریت پر جسم کی تعمیر لئے بیٹھے ہیں اس نے ...

مزید پڑھیے

ہوائے فصل گل کے ساتھ برق شعلہؔ بار آئی

ہوائے فصل گل کے ساتھ برق شعلہؔ بار آئی نشیمن میں لگی ہے آگ گلشن میں بہار آئی گلوں پر تازگی آئی نہ باد‌‌ عطر بار آئی جہان رنگ و بو میں نام کو فصل بہار آئی کھلا غنچہ نہ دل کا گرچہ گلشن میں بہار آئی ہوائے موسم گل بھی نہ اس کو سازگار آئی گلوں پر ایسی غفلت تھی نہ چونکے صحن‌ گلشن ...

مزید پڑھیے

پہلے تو درد دل کا خلاصہ کرے کوئی

پہلے تو درد دل کا خلاصہ کرے کوئی تب ان سے شرح حال تمنا کرے کوئی درد جگر کا پہلے مداوا کرے کوئی جب تو مسیح ہونے کا دعویٰ کرے کوئی ممکن نہیں کہ صفحۂ ہستی پہ مل سکے میرے نشان قبر کو ڈھونڈھا کرے کوئی بدلے نہ کروٹیں بھی کوئی فرش خواب پر غم سے تڑپ تڑپ کے سویرا کرے کوئی سننا ہے درد دل ...

مزید پڑھیے

شعور فطرت‌ انساں کا ہے بیدار ہو جانا

شعور فطرت‌ انساں کا ہے بیدار ہو جانا کہیں مجبور بن جانا کہیں مختار ہو جانا دکھا کر اک جھلک اس کا پس دیوار ہو جانا یہی تو عاشقوں کے حق میں ہے تلوار ہو جانا مرے سوئے ہوئے جذبات کا بیدار ہو جانا کسی بے ہوش کا ہے خود بخود ہشیار ہو جانا کروں میں خون کا دعویٰ تو پیش داور محشر قیامت ...

مزید پڑھیے

رباب حسن ہے یا کوئی ساز الفت ہے

رباب حسن ہے یا کوئی ساز الفت ہے سمجھ میں آ نہ سکی دل کی جو حقیقت ہے کدورتوں سے یہ اہل جہاں کی حالت ہے نہ اب دلوں میں صفائی نہ رسم الفت ہے مریض ہجر کی اب کچھ عجیب حالت ہے نہ ہوش ہی میں ہے اپنے نہ خواب غفلت ہے بنے جو اور بگڑ جائے ہے مری تقدیر بگڑ بگڑ کے بنے جو عدو کی قسمت ہے قدم قدم ...

مزید پڑھیے

یہاں تک کام آیا جذبۂ ضبط فغاں اپنا

یہاں تک کام آیا جذبۂ ضبط فغاں اپنا کھڑے دیکھا کئے جلتے ہوئے ہم آشیاں اپنا حقیقت میں وہی ہے حاصل عمر رواں اپنا جسے سب موت کہتے ہیں وہ ہے خواب گراں اپنا بہت کچھ ہو چکا طے جادۂ عمر رواں اپنا پہنچ جائے گا منزل پر کسی دن کارواں اپنا جہاں میں موت نے الٹی نقاب زندگی جس دم یقیں سے خود ...

مزید پڑھیے

خامشی التفات ہے شاید

خامشی التفات ہے شاید ایک مہمل سی بات ہے شاید درد دل ہی برات ہے شاید حسن کی یہ زکوٰۃ ہے شاید زندگی دو عدم کی برزخ ہے اس لئے بے ثبات ہے شاید زندگی موت سے عبارت ہے موت شرح حیات ہے شاید کتنے ویرانے ہو گئے آباد آپ کا التفات ہے شاید کچھ نہیں سوچتا جوانی میں یہ بھی تاریک رات ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 526 سے 4657