درد غم فراق سے آنکھیں ہیں اشک بار کیا
درد غم فراق سے آنکھیں ہیں اشک بار کیا رونے سے ہوگی مختصر زحمت انتظار کیا زخموں سے چور جو نہ ہو سینۂ داغدار کیا جس میں نہ ہو ہجوم گل کہئے اسے بہار کیا جس نے جلا کے دل مرا ہجر کی شب مٹا دیا شمعیں جلانے آیا ہے اب وہ سر مزار کیا اٹھ گئی جس طرف نظر حشر سا اک بپا ہوا ان کی نگاہ ناز ہے ...