اب کسے یارا ہے ضبط نالہ و فریاد کا
اب کسے یارا ہے ضبط نالہ و فریاد کا بھر گیا ہے غم سے پیمانہ دل ناشاد کا جل رہا تھا آشیانہ بس نہ تھا کرتے ہی کیا دور سے دیکھا کئے ہم یہ ستم صیاد کا قلب سوزاں مٹ کے بھی ہنگامہ آرا ہی رہا بن گیا بجلی ہر اک ذرہ دل ناشاد کا موسم گل کی ہوا آئی نہ جس کو ساز وار دل ہے وہ پژمردہ غنچہ عالم ...