شاعری

اب کسے یارا ہے ضبط نالہ و فریاد کا

اب کسے یارا ہے ضبط نالہ و فریاد کا بھر گیا ہے غم سے پیمانہ دل ناشاد کا جل رہا تھا آشیانہ بس نہ تھا کرتے ہی کیا دور سے دیکھا کئے ہم یہ ستم صیاد کا قلب سوزاں مٹ کے بھی ہنگامہ آرا ہی رہا بن گیا بجلی ہر اک ذرہ دل ناشاد کا موسم گل کی ہوا آئی نہ جس کو ساز وار دل ہے وہ پژمردہ غنچہ عالم ...

مزید پڑھیے

مانگی مل جل کر جو رندوں نے دعا برسات کی

مانگی مل جل کر جو رندوں نے دعا برسات کی جھوم کر آ ہی گئی کالی گھٹا برسات کی کیوں نہ ہوں کالی گھٹائیں برق زا برسات کی آگ پانی میں لگاتی ہے ہوا برسات کی اپنی امیدوں کی کھیتی ہے ہوا برسات کی سال بھر تک مانگتے ہیں ہم دعا برسات کی روح پرور ہے بہار جاں فزا برسات کی کتنی فرحت بخش ہے ...

مزید پڑھیے

ارتباط باہمی شیخ و برہمن میں نہیں

ارتباط باہمی شیخ و برہمن میں نہیں جو مزہ ہے مل کے رہنے میں وہ ان بن میں نہیں نالہ سنجئ عنادل سے یہ چلتا ہے پتہ نام کو بوئے وفا ارباب گلشن میں نہیں دیر و کعبہ کی پرستش پھر بھلا کس کام کی جب خلوص بندگی شیخ و برہمن میں نہیں پھر کھٹکتے ہیں نگاہ باغباں میں کس لئے خیر سے اب چار تنکے ...

مزید پڑھیے

سیر گلشن سے جو فرصت ہو ادھر بھی دیکھو

سیر گلشن سے جو فرصت ہو ادھر بھی دیکھو رنگ گل دیکھ چکے داغ جگر بھی دیکھو میری میت پہ اسے خاک بسر بھی دیکھو زندگی بھر کی ریاضت کا ثمر بھی دیکھو نقطۂ حسن بہ انداز دگر بھی دیکھو عشق کا زاویۂ حسن نظر بھی دیکھو ایک ہی حسن کے جلوے نظر آئیں گے تمام آئنہ خانۂ دنیا میں جدھر بھی ...

مزید پڑھیے

ہم کسے کرتے بھلا رہبر منزل اپنا

ہم کسے کرتے بھلا رہبر منزل اپنا راہ الفت میں نہ تھا کوئی بجز دل اپنا چین دیتا نہیں دم بھر دل بسمل اپنا مختصر یہ ہے کہ قابو میں نہیں دل اپنا کیوں نہ آسان ہو تاریکئ شب میں بھی سفر داغ دل جب ہے چراغ رہ منزل اپنا لاکھ چاہا کہ نہ فریاد کریں ہم لیکن درد فرقت نہ رہا ضبط کے قابل ...

مزید پڑھیے

عجب طلسم ہے نیرنگ جاودانی کا

عجب طلسم ہے نیرنگ جاودانی کا کہ ٹوٹتا ہی نہیں نشہ خود گمانی کا سفر تمام ہوا جب سراب کا تو کھلا عجیب ذائقہ ہوتا ہے ٹھنڈے پانی کا جہاں پہ ختم وہیں سے شروع ہوتی ہے تبھی تو ذکر مسلسل ہے اس کہانی کا کدھر ڈبو کے کہاں پر ابھارتا ہے تو یہ کیسا رنگ ہے دریا تری روانی کا وہ مجھ میں اب بھی ...

مزید پڑھیے

یہ دھند یہ غبار چھٹے تو پتا چلے

یہ دھند یہ غبار چھٹے تو پتا چلے سورج کا حال رات کٹے تو پتا چلے چہروں کے خد و خال سلامت ہیں یا نہیں اب آئینوں سے گرد ہٹے تو پتا چلے ظلمت کے کاروبار میں اس کا بھی ایک دن چہرہ غبار شب سے اٹے تو پتا چلے امید کی یہ ننھی کرن واہمہ نہ ہو اب چادر سیاہ پھٹے تو پتا چلے بکھرا ہوا ہے میرا ...

مزید پڑھیے

بس اپنی خاک پر اب خود ہی سلطانی کریں گے ہم

بس اپنی خاک پر اب خود ہی سلطانی کریں گے ہم اسی مٹی پہ رنگوں کی فراوانی کریں گے ہم اسے رونے دو مت روکو کہ رونا بھی ضروری ہے کبھی اس آتش سیال کو پانی کریں گے ہم تمہارے خواب لوٹانے پہ شرمندہ تو ہیں لیکن کہاں تک اتنے خوابوں کی نگہبانی کریں گے ہم محبت میں یہ شرطیں تو تجارت بنتی جاتی ...

مزید پڑھیے

میرے قدموں پر نگوں میرا ہی سر ہے بھی تو کیا

میرے قدموں پر نگوں میرا ہی سر ہے بھی تو کیا میرے سائے کی یہ سازش کارگر ہے بھی تو کیا تیری خوش فہمی کے اس آئینۂ صد رنگ میں عکس چہرے سے سوا جاذب نظر ہے بھی تو کیا اپنے مرکز سے جدا ہو کر اگر یہ فکر نو دائرہ در دائرہ گرم سفر ہے بھی تو کیا زہر کی کہنہ روایت ہی کا ڈر ڈس جائے گا جسم سے ...

مزید پڑھیے

ابر کا ٹکڑا کوئی بالائے بام آتا ہوا

ابر کا ٹکڑا کوئی بالائے بام آتا ہوا میرے گھر بھی سبز موسم کا پیام آتا ہوا دھوپ کی بجھتی تمازت کی سپر لیتا چلوں پھر افق سے دھیرے دھیرے وقت شام آتا ہوا پھر در دل پر ہوئی ہیں روشنی کی دستکیں پھر ستارہ سا کوئی بالائے بام آتا ہوا ایک مبہم سا تصور ایک بے چہرہ سا نام میری تنہائی میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 527 سے 4657