درد الفت کے بیاں کی نہ ضرورت ہوگی
درد الفت کے بیاں کی نہ ضرورت ہوگی میرے چہرے سے عیاں دل کی حقیقت ہوگی کون فریاد کرے گا کسے جرأت ہوگی حشر میں پیش نظر جب تری صورت ہوگی داستان شب ہجراں کی کروں کیا تشریح مختصر بھی جو کہوں گا تو طوالت ہوگی پیش داور تو کروں خون کا دعویٰ لیکن میرے قاتل کو سر حشر ندامت ہوگی درد ہجراں ...