شاعری

درد الفت کے بیاں کی نہ ضرورت ہوگی

درد الفت کے بیاں کی نہ ضرورت ہوگی میرے چہرے سے عیاں دل کی حقیقت ہوگی کون فریاد کرے گا کسے جرأت ہوگی حشر میں پیش نظر جب تری صورت ہوگی داستان شب ہجراں کی کروں کیا تشریح مختصر بھی جو کہوں گا تو طوالت ہوگی پیش داور تو کروں خون کا دعویٰ لیکن میرے قاتل کو سر حشر ندامت ہوگی درد ہجراں ...

مزید پڑھیے

شغل بھی اشک خوں فشانی کا

شغل بھی اشک خوں فشانی کا کھیل ہے آگ اور پانی کا جل گیا طور غش ہوئے موسیٰ کھل گیا حال لن ترانی کا جان دے کر رہ محبت میں مل گیا لطف زندگانی کا آہ دل نے دیا سہارا کچھ جب بڑھا زور ناتوانی کا جب سے تصویر تیری دیکھی ہے رنگ رخ اڑ گیا ہے مانی کا کچھ سمجھ میں نہ آج تک آیا فلسفہ موت و ...

مزید پڑھیے

نہیں نکلے زباں سے ان کے دھوکے میں جو ہاں ہو کر

نہیں نکلے زباں سے ان کے دھوکے میں جو ہاں ہو کر گماں بدلے یقیں ہو کر یقیں بدلے گماں ہو کر کھٹکتا ہوں زمانے کی نظر میں نیم جاں ہو کر محبت میں ہوا کانٹا ضعیف و ناتواں ہو کر دیا درس عمل دنیا کو سرگرم‌ فغاں ہو کر جگایا میرے نالوں نے زمانے کو اذاں ہو کر چھپائے سے کہیں چھپتا ہے جلوہ ...

مزید پڑھیے

تقدیر سے کریں کہ گلہ باغباں سے ہم

تقدیر سے کریں کہ گلہ باغباں سے ہم چھوڑا ہے کب چھڑائے گئے آشیاں سے ہم فرقت میں کام لیتے تو ضبط فغاں سے ہم لاتے مگر یہ دل یہ کلیجہ کہاں سے ہم تفصیل بزم حسن سنائیں کہاں سے ہم جب آئے درمیاں میں اٹھے درمیاں سے ہم منزل پہ پہنچے قافلہ والے مگر ہنوز کھیلا کئے غبار پس کارواں سے ہم کٹ ...

مزید پڑھیے

کرنا ہے زندگی جو قفس میں بسر مجھے

کرنا ہے زندگی جو قفس میں بسر مجھے پھر کیوں نہ ہوں وبال مرے بال و پر مجھے اللہ رے شوق دید جدھر دیکھتا ہوں میں جز حسن دوست کچھ نہیں آتا نظر مجھے ہوتا ہے کوئی دم میں چراغ‌‌ حیات گل شام فراق کیا ہو امید سحر مجھے راہ طلب میں دورئ منزل کا غم نہیں معلوم ہو چکا ہے مآل سفر مجھے تقدیر ...

مزید پڑھیے

درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی

درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی آہ منت‌ کش اثر نہ ہوئی اپنی تقدیر راہ پر نہ ہوئی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی جرم الفت سے جھک گئیں آنکھیں چار ان سے مری نظر نہ ہوئی نزع میں وہ نہ آئے بالیں پر موت بھی میری معتبر نہ ہوئی دیکھتے ہیں سبھی نظر ان کی اور اپنی نظر نظر نہ ہوئی یوں تمنا کے پھول ...

مزید پڑھیے

رنج و ملال و غم سے کسی کو مفر نہیں

رنج و ملال و غم سے کسی کو مفر نہیں آزاد قید فکر سے کوئی بشر نہیں دل میں لگی ہے آگ جگر پر اثر نہیں یہ درد اور ہے جو ادھر ہے ادھر نہیں ذرے میں کیسے وسعت کونین آ گئی خود اپنی مردمک پہ ہماری نظر نہیں کھنکے نہ ان کی بزم کا ساغر کوئی مگر اپنی شکست شیشۂ دل کی خبر نہیں دم بھر کا فاصلہ ہے ...

مزید پڑھیے

ہے گزر عرش بریں تک نالۂ شبگیر کا

ہے گزر عرش بریں تک نالۂ شبگیر کا دیکھیے تو سلسلہ ٹوٹی ہوئی زنجیر کا بار سر سے مجھ کو اے قاتل سبک دوشی ہوئی ہے مری گردن پہ یہ احساں تری شمشیر کا دیکھ کر ان کو مجھے سکتہ ہے وہ خاموش ہیں سامنا ہے آج اک تصویر سے تصویر کا ساتھ میں اس کے نکل آیا ہے کیا میرا جگر دیکھتے ہیں کس لئے پیکاں ...

مزید پڑھیے

ماسوا سے کہیں بیگانہ بنایا ہوتا

ماسوا سے کہیں بیگانہ بنایا ہوتا اپنے ہی حسن کا دیوانہ بنایا ہوتا جام ساغر سبو خم خانہ بنایا ہوتا ظرف دل دیکھ کے پیمانہ بنایا ہوتا لو لگاتا نہ کسی غیر سے اے شمع حسن تم نے گر اپنا ہی پروانہ بنایا ہوتا میری محرومیٔ قسمت کو جو سن پاتا رقیب اتنی ہی بات کا افسانہ بنایا ہوتا پہلے ...

مزید پڑھیے

رنج دنیا فکر عقبیٰ جانے کیا کیا دل میں ہے

رنج دنیا فکر عقبیٰ جانے کیا کیا دل میں ہے زندگی دو دن کی اپنی سیکڑوں مشکل میں ہے راہ الفت میں بہت کچھ خاک بھی چھانی مگر میری جانب سے غبار اب تک کسی کے دل میں ہے وہ جفا پیشہ جفا جو ہے جفا اس کی سرشت جس کو کہتے ہیں وفا وہ میرے آب و گل میں ہے تہہ نشیں ہو کر ملی موج حوادث سے نجات کشتئ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 525 سے 4657