شاعری

دیر میں سو کر اٹھنے والے

دیر میں سو کر اٹھنے والے پڑے ہیں بستر اٹھنے والے چائے کی برکت سے خالی ہیں دیر میں اکثر اٹھنے والے شور نہیں اس چپ کی تلافی دل میں بونڈر اٹھنے والے ہائے وہ دیوانوں کے سر ہیں آہ وہ پتھر اٹھنے والے ختم ہوئے خوابوں کے تماشے آنکھ سے منظر اٹھنے والے چہروں کی بیمار لطافت ہاتھ میں ...

مزید پڑھیے

احوال پریشاں پر کچھ تبصرہ اس کا بھی

احوال پریشاں پر کچھ تبصرہ اس کا بھی حالات کے سرہانے کچھ دیر وہ رویا بھی تجدید تعلق پر کیا حرف کہ جب اس نے رشتوں کی عبارت کو لکھ لکھ کے مٹایا بھی صدیوں کی مسافت تھی اب قصۂ ماضی ہے امید کے دریا بھی احساس کے صحرا بھی کچھ دیر کو دم لینے ٹھہرے تھے یہاں ساتھی پیروں سے لپٹنے کو تیار ...

مزید پڑھیے

کچھ دن ہوائے بے سر و ساماں کے ساتھ بھی

کچھ دن ہوائے بے سر و ساماں کے ساتھ بھی سانسوں کا کارواں لیے طوفاں کے ساتھ بھی آرائش وصال پہ کیوں اتنا شاد ہوا یہ جھوٹ تو ہے شورش ہجراں کے ساتھ بھی دل ہے تو دل کے ساتھ ہیں سب کاروبار درد جی ہی تو لیں گے حسرت ویراں کے ساتھ بھی ہم وہ مسافران ازل ہیں کہ ہر گھڑی دریا کے ساتھ بھی ہیں ...

مزید پڑھیے

بھیس بنائے گھوم رہا ہے دیوانہ گلیوں گلیوں

بھیس بنائے گھوم رہا ہے دیوانہ گلیوں گلیوں کون ملے گا دیکھیں اپنا بیگانہ گلیوں گلیوں سڑکوں پر پہرہ دیتی آنکھوں سے الجھے کون بھلا تم کو آنا ہو تو اب کے آ جانا گلیوں گلیوں دیکھو اک دن تھک جائیں گے تھک کے رک جائیں گے قدم وہی صبح سے شام تمہارا بھٹکانا گلیوں گلیوں دل کی منزل تھی کہ ...

مزید پڑھیے

غافل دل اور عشق کی رسمیں

غافل دل اور عشق کی رسمیں عشق کہاں پھر دل کے بس میں کہاں گئے پھولوں سے گھروندے جن کے لیے روتے تھے قفس میں آہ وہی مطلوب نہ نکلا جس کی طلب رقصاں تھی نفس میں امیدوں کی اپنی گھٹن تھی عمر گزاری ہم نے امس میں لو کے پیالے کیا چھلکائیں برف گھلی ہے دھوپ کے رس میں حسرت بن جاتی ہے ...

مزید پڑھیے

خود اپنی محفل میں تھا پرایا

خود اپنی محفل میں تھا پرایا کہ ایک میں ہی تھا بن بلایا وہ جس کی خاطر میں جی رہا تھا وہ پل بھی آخر گزار آیا عجب تھا یہ اشتراک باہم میں ایک وحشت وہ ایک سایا نگارش جاں ترے لیے میں ہزار مرگ و حیات لایا بدن سے اب ہو رہا ہوں رخصت ادا نہیں کر سکا کرایہ سراب نکلا ترا تعاقب میں زندگی کو ...

مزید پڑھیے

جانے آزادؔ وہ دن پھر کبھی آئے کہ نہیں

جانے آزادؔ وہ دن پھر کبھی آئے کہ نہیں وہ ہمیں اتنی محبت سے بلائے کہ نہیں پھر میں دیوانہ بنوں وہ مرا دامن تھامے یاد تیری مرے یوں ناز اٹھائے کہ نہیں پھر ہوا تازہ نہ کر دے میرے بھولے ہوئے غم مجھ کو پلکوں پہ تری یاد بٹھائے کہ نہیں بارہا گردش دوراں میں الجھ کر وہ بھی سوچتا ہے کہ ...

مزید پڑھیے

کوئی دن اور باد فنا ہم یہاں

کوئی دن اور باد فنا ہم یہاں کاٹتے جیسے کوئی سزا ہم یہاں سانس کی ڈور کمزور ہوتی ہوئی تو کہاں ہے بتا اے ہوا ہم یہاں اپنی پہچان خود سے چھپائے ہوئے پوچھتے پھر رہے ہیں پتا ہم یہاں رہ گئے خواب اور ان کی ہلکی کسک دیکھتے رہ گئے رتجگا ہم یہاں عشق نے بارہا ہم کو رسوا کیا دل کے ہاتھوں لٹے ...

مزید پڑھیے

کم نہ تھا اس گلی کے بھلانے کا غم

کم نہ تھا اس گلی کے بھلانے کا غم اس پہ بھاری رہا یاد آنے کا غم عارضی تھی زمانے کی اک اک خوشی دائمی تھا مگر اس کے جانے کا غم ایک امید لاغر سی بے روح سی آس کی ڈور کے ٹوٹ جانے کا غم روز بس ایک ہی غم سے بوجھل ہے دل شام ڈھلنے کا غم رات چھانے کا غم ایک عرصہ ہوا پھر بھی تازہ رہا آج بھی اس ...

مزید پڑھیے

دنیا اپنی چھوٹی سی

دنیا اپنی چھوٹی سی سر پر گٹھری چھوٹی سی اگلی سڑک کا آخری گھر گھر میں کھڑکی چھوٹی سی کیسے اجڑی کسے خبر دل کی نگری چھوٹی سی کس صحرا کی نذر ہوئی ایک ندی تھی چھوٹی سی کاندھوں پر جگ بھر کا دکھ سر پر گگری چھوٹی سی اس کے ہونٹوں پر آباد ایک دعا تھی چھوٹی سی ہاتھ میں اک بھاری بستہ اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 481 سے 4657