دیر میں سو کر اٹھنے والے
دیر میں سو کر اٹھنے والے پڑے ہیں بستر اٹھنے والے چائے کی برکت سے خالی ہیں دیر میں اکثر اٹھنے والے شور نہیں اس چپ کی تلافی دل میں بونڈر اٹھنے والے ہائے وہ دیوانوں کے سر ہیں آہ وہ پتھر اٹھنے والے ختم ہوئے خوابوں کے تماشے آنکھ سے منظر اٹھنے والے چہروں کی بیمار لطافت ہاتھ میں ...