شاعری

حال پوچھنا اس کا میرا مسکرا دینا

حال پوچھنا اس کا میرا مسکرا دینا بس اسی تعلق پر زندگی بتا دینا عشق عشق کا حاصل عشق عشق کی منزل تم بھی دل کے ساحل پر کشتیاں جلا دینا قربتوں کے موسم تو اختلاف میں گزرے ٹھیک تھا محبت کو ہجر کا پتا دینا انگلیوں پہ کیا گزری انگلیوں سے کر معلوم تیرے نام کو لکھنا اور پھر مٹا دینا

مزید پڑھیے

دل ہمیں چاک گریباں نہیں ہونے دیتا

دل ہمیں چاک گریباں نہیں ہونے دیتا اور جنوں تنگئ داماں نہیں ہونے دیتا ایک سایا ہے جو مجھ میں کہیں پوشیدہ ہے ایک سورج ہے کہ تاباں نہیں ہونے دیتا ایک جالا ہے جو دانائی نے بن رکھا ہے میں جو چاہوں بھی تو ناداں نہیں ہونے دیتا تھام لیتا ہے کوئی دامن امکان سراب کیوں ہمیں صرف نگاراں ...

مزید پڑھیے

یاد رفتہ ترا غم منانے کے ہم

یاد رفتہ ترا غم منانے کے ہم رہ گئے صرف پر پھڑپھڑانے کے ہم مدتوں عہد نو سے الجھتے رہے اس جہاں میں پرانے زمانے کے ہم آدمی جس میں انساں بنائے گئے کاش ہوتے اسی کارخانے کے ہم آنسوؤں کچھ بھی مشکل نہیں ضبط غم تم کو لیکن نہیں آزمانے کے ہم بھولنے کی طرف ہے زمانے کی رو اب کسی کو نہیں ...

مزید پڑھیے

وہی شکستہ سائیکل وہی اداس زندگی

وہی شکستہ سائیکل وہی اداس زندگی ترے لیے تو کچھ نہیں ہمارے پاس زندگی یہ کوہ و دشت و رہ گزار ڈھونڈتے رہے تجھے کسے خبر کہ ہے کہاں ترا نواس زندگی عجیب مسئلوں میں ہے حیات جاوداں مری یقین لا وجودیت مگر قیاس زندگی تجھے تو سبز جنگلوں کی رنگ و بو سے واسطہ تری گرفت میں کہاں یہ سبز گھاس ...

مزید پڑھیے

بظاہر جو نظر آتے ہو تم مسرور ایسا کیسے کرتے ہو

بظاہر جو نظر آتے ہو تم مسرور ایسا کیسے کرتے ہو بتانا تو سہی ویرانئ دل کا نظارہ کیسے کرتے ہو تمہاری اک ادا تو واقعی تعریف کے قابل ہے جان من میں ششدر ہوں کہ اس کو پیار اتنا بے تحاشا کیسے کرتے ہو سنا ہے لوگ دریا بند کر لیتے ہیں کوزے میں ہنر ہے یہ مگر تم منصفی سے یہ کہو قطرے کو دجلہ ...

مزید پڑھیے

مرحلے سخت بہت پیش نظر بھی آئے

مرحلے سخت بہت پیش نظر بھی آئے ہم مگر طے یہ سفر شان سے کر بھی آئے اس سفر میں کئی ایسے بھی ملے لوگ ہمیں جو بلندی پہ گئے اور اتر بھی آئے صرف ہونے سے کہاں مسئلہ حل ہوتا ہے پس دیوار کوئی ہے تو نظر بھی آئے دل اگر ہے تو نہ ہو درد سے خالی کسی طور آنکھ اگر ہے تو کسی بات پہ بھر بھی آئے

مزید پڑھیے

ویراں بہت ہے خواب محل جاگتے رہو

ویراں بہت ہے خواب محل جاگتے رہو ہمسائے میں کھڑی ہے اجل جاگتے رہو جس پر نثار نرگس شہلا کی تمکنت وہ آنکھ اس گھڑی ہے سجل جاگتے رہو یہ لمحۂ امید بھی ہے وقت خوف بھی حاصل نہ ہوگا اس کا بدل جاگتے رہو جن بازوؤں پہ چارہ گری کا مدار تھا وہ تو کبھی کے ہو گئے شل جاگتے رہو ذہنوں میں تھا ...

مزید پڑھیے

سمندروں میں سراب اور خشکیوں میں گرداب دیکھتا ہے

سمندروں میں سراب اور خشکیوں میں گرداب دیکھتا ہے وہ جاگتے اور راہ چلتے عجب عجب خواب دیکھتا ہے کبھی تو رشتوں کو خون کے بھی فریب وہم و گمان سمجھا کبھی وہ نرغے میں دشمنوں کے ہجوم احباب دیکھتا ہے شناوری راس آئے ایسی سمندروں میں ہی گھر بنا لے کبھی تلاش گہر میں اپنے تئیں وہ غرقاب ...

مزید پڑھیے

کیا داستاں تھی پہلے بیاں ہی نہیں ہوئی

کیا داستاں تھی پہلے بیاں ہی نہیں ہوئی پھر یوں ہوا کہ صبح اذاں ہی نہیں ہوئی دنیا کہ داشتہ سے زیادہ نہ تھی مجھے یوں ساری عمر فکر زیاں ہی نہیں ہوئی گل ہائے لطف کا اسے انبار کرنا تھا کم بخت آرزو کہ جواں ہی نہیں ہوئی تا صبح میری لاش رہی بے کفن تو کیا بانوئے شام نوحہ کناں ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ تعلق زندگی جس میں رہا با لواسطہ میں

وہ تعلق زندگی جس میں رہا با لواسطہ میں اس سمیت اک دن سپرد طاق نسیاں ہو گیا میں بس یہی موسم تھا ایسا ہی سماں تھا یاد ہوگا طاق جاں میں شمع اک روشن ہوئی اور بجھ گیا میں ایک دن ایسا کہ تھی قربان اس پر جاں سی شے بھی ایک دن رونے لگا اک شخص سے باقاعدہ میں داستان غم مری سننے کو اک سامع ...

مزید پڑھیے
صفحہ 482 سے 4657