شاعری

اس نے دیکھا تھا کل انداز سے جاتے جاتے

اس نے دیکھا تھا کل انداز سے جاتے جاتے کہ مجھے چین نہ آیا کہیں آتے آتے ہم کو منظور نہیں ہے کہ بھرم ان کا کھلے ورنہ آئینہ دکھا دیتے ہم آتے جاتے وضع کہتی ہے وہ روٹھے ہیں تو جائیں روٹھیں دل کی خواہش ہے کہ ہم ان کو مناتے جاتے ہو گئے ہم ہی اندھیرے کے اب عادی ورنہ پردہ ان کے رخ روشن سے ...

مزید پڑھیے

دلوں میں لگ رہے پہرے کہیں تھے

دلوں میں لگ رہے پہرے کہیں تھے کسی کا تو فسانہ چل رہا ہے چلی جو بات الفت کی ہماری کہا سب نے دوانہ چل رہا ہے دوانہ بن پھرا میں در بدر تھا محبت میں نبھانا چل رہا ہے تمہاری مسکراہٹ کیا ہوئی تھی ہمارا گنگنانا چل رہا ہے کیا وعدہ تمہیں جو وہ صلہ تھا سبب پلکیں بچھانا چل رہا ہے

مزید پڑھیے

وہ ایک لڑکی جو خندہ لب تھی نہ جانے کیوں چشم تر گئی وہ

وہ ایک لڑکی جو خندہ لب تھی نہ جانے کیوں چشم تر گئی وہ ابھی تو بیٹھی سسک رہی تھی ابھی نہ جانے کدھر گئی وہ وہ لڑکی لگتی تھی اجنبی سی ذرا سے کھٹکے پہ چونکتی تھی یہ اس کے ساتھ حادثہ ہوا کیا کہ بیٹھے بیٹھے بکھر گئی وہ وہ کوئی شے اپنی کھو چکی تھی وہ ڈھونڈھتی اس کو پھر رہی تھی وہ شہر شہر ...

مزید پڑھیے

ضبط کی قید سخت نے ہم کو رہا نہیں کیا

ضبط کی قید سخت نے ہم کو رہا نہیں کیا درد پہ درد اٹھا مگر شور بپا نہیں کیا دنیا نے کیا نہیں کیا ہم نے گلہ نہیں کیا سب سے برائی لی مگر تم کو خفا نہیں کیا جو بھی مطالبہ ہوا عذر ذرا نہیں کیا اب تو نہیں کہو گے تم وعدہ وفا نہیں کیا عمر گزر گئی تمہیں اپنا نہیں بنا سکے سہنے کو کیا نہیں ...

مزید پڑھیے

کیا ہوا کیوں یہ سہانی بستیاں بیمار ہیں

کیا ہوا کیوں یہ سہانی بستیاں بیمار ہیں کیوں یہ دل کے شہر یہ آبادیاں بیمار ہیں ایک مدت سے چمن میں جانے پر بستہ ہیں کیوں گل ہی کچھ بے کیف ہیں یا تتلیاں بیمار ہیں یا کثافت ہے ہوائے تازہ کی تاثیر میں یا ہمارے گھر کے در اور کھڑکیاں بیمار ہیں ٹھہر اے شور بہاراں تھم ذرا ہنگام شوق ایک ...

مزید پڑھیے

میں کہاں کاروان شوق کہاں

میں کہاں کاروان شوق کہاں اب وہ تب سا جہان شوق کہاں کچھ تو دل بھی ہے ذوق سے خالی اور کچھ وہ زبان شوق کہاں کب رہی ہے متاع دل بھی ساتھ اور سوداگران شوق کہاں عشق بھی بے بسی سا لگتا ہے دل بھی اب ہم زبان شوق کہاں بے حسی پر ہے زندگی آزادؔ یار وہ نکتہ دان شوق کہاں

مزید پڑھیے

اک سکوت بے کراں شعلہ بیانی سے الگ

اک سکوت بے کراں شعلہ بیانی سے الگ ایک دنیا ہے مرے شہر معانی سے الگ موج خود ساکت کھڑی تھی یا کہ تھا یہ دام آب کیا تھا وہ ٹھہراؤ سا پیہم روانی سے الگ وہ بیاں آہنگ جس کا دل کو چھلنی کر گیا گرم گفتاری سے ہٹ کر بے زبانی سے الگ ساری خوشیاں جھوٹ ہیں ہر مسکراہٹ ہے فریب آؤ اک دنیا بسائیں ...

مزید پڑھیے

بے کراں وسعتوں میں تنہا ہوں

بے کراں وسعتوں میں تنہا ہوں خاک پر صورتیں بناتا ہوں بزم میں سوئے اتفاق کہ میں اس کے جانے کے بعد آتا ہوں پیاس ہے میری زندگی کا پتا میں بھی اے رہ گزار دریا ہوں اور کچھ پل مجھے گوارہ کر ڈوبتی شام کا تماشہ ہوں میرے سورج تجھے خبر بھی نہیں میں تری آس میں ہی زندہ ہوں ایک دفتر ہے میری ...

مزید پڑھیے

یادوں کے انبار لگے تھے

یادوں کے انبار لگے تھے خالی پیکٹ بھرے پڑے تھے جانے کون سا دکھ حاوی تھا جانے کیوں اتنا ہنستے تھے اس بیزار گلی سے ہو کر ہم اکثر آتے جاتے تھے خوابوں کے بوسیدہ منظر آنکھوں آنکھوں جھانک رہے تھے آوازوں کے گونگے لشکر رات کا سینہ چیر رہے تھے گل دانوں کو یاد نہیں اب پہلے کون سے پھول ...

مزید پڑھیے

یوں نہیں کوئی دعا باقی نہیں

یوں نہیں کوئی دعا باقی نہیں میرے حصے کی ہوا باقی نہیں تیرے ہونے کے تصور سے بھی دور یعنی تیرا آسرا باقی نہیں آنکھ ہے وابستۂ خواب اجل یارو کوئی رتجگا باقی نہیں سن رہا ہوں دور آواز جرس اور میرا قافلہ باقی نہیں عکس کی بے چارگی کو دیکھ کر میں یہ سمجھا آئنہ باقی نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 480 سے 4657