شاعری

تختیاں سب اتار دی گئی ہیں

تختیاں سب اتار دی گئی ہیں مرے گھر کا کہیں پتہ ہی نہیں ریگ بریاں پہ چل کے آئے ہیں پاؤں میں کوئی آبلہ ہی نہیں زخم دل کو تلاش مرہم تھی اور مرہم کہیں ملا ہی نہیں ہم نے دستک تو دی بہت لیکن پھر کوئی در کبھی کھلا ہی نہیں زندگی سے کبھی بنی نہ مری موت پر اختیار تھا ہی نہیں دھوپ بھی قہر ...

مزید پڑھیے

وقت کی دل لگی عروج پہ تھی

وقت کی دل لگی عروج پہ تھی رات بھر شاعری عروج پہ تھی رات بھر فکر نے لہو تھوکا اور مری بیکلی عروج پہ تھی زخم سارے ہی نوچ ڈالے تھے وحشت دل مری عروج پہ تھی عکس ان کا نکھر کے آ بیٹھا اور پھر شاعری عروج پہ تھی شور تھا رات بھر بہت مجھ میں رات بھر خامشی عروج پہ تھی سحرؔ آنکھوں سے نیند ...

مزید پڑھیے

عشق قصداً کیا نہیں جاتا

عشق قصداً کیا نہیں جاتا دل بھی قصداً دیا نہیں جاتا ہم نے آب حیات جانا تھا یہ ہلاہل پیا نہیں جاتا جسم زنداں میں روح قیدی ہے اس گھٹن میں جیا نہیں جاتا سانس لینے میں بھی تھکن ہے اب زخم دل اب سیا نہیں جاتا ہے گلا دل خراش چیخوں سے ماتم دل کیا نہیں جاتا کیسے لفظوں میں غم نظر ...

مزید پڑھیے

سنو مرا خیال ہے

سنو مرا خیال ہے یہ زندگی وبال ہے عجیب بے رخی سی ہے بڑا خراب حال ہے نہ گفتگو میں شوخیاں نہ سر رہا نہ تال ہے کبھی خدا کبھی صنم یہ کیسا گول مال ہے محبتوں کی آڑ میں ہوس کا ایک جال ہے بہار ہے گریز پا دلوں کا خستہ حال ہے گنوا دیا ہے سوز دل کہ پتھروں سا حال ہے زمانہ بے مثال تھا زمانہ ...

مزید پڑھیے

خلش زخم تمنا کا مداوا بھی نہ تھا

خلش زخم تمنا کا مداوا بھی نہ تھا میں نے وہ چاہا جو تقدیر میں لکھا بھی نہ تھا اتنا یاد آئے گا اک روز یہ سوچا بھی نہ تھا ہائے وہ شخص کہ جس سے کوئی رشتہ بھی نہ تھا کیوں اسے دیکھ کے بڑھتی تھی مری تشنہ لبی ابر پارہ بھی نہ تھا وہ کوئی دریا بھی نہ تھا دل وہ صحرا کہ جہاں اڑتی تھی حالات کی ...

مزید پڑھیے

وہی بے لباس کیاریاں کہیں بیل بوٹوں کے بل نہیں

وہی بے لباس کیاریاں کہیں بیل بوٹوں کے بل نہیں تجھے کیا بلاؤں میں باغ میں کسی پیڑ پر کوئی پھل نہیں ہوئے خشک بحر تو کیا ہوا مری ناؤ زور ہوا پہ ہے مرے بادباں ہیں بھرے ہوئے سو بلا سے ریت میں جل نہیں ہے دباؤ عشرہ حواس پر ہیں تمام عضو کھنچے ربر ہوں اتھل پتھل سے گھرا مگر مجھے اذن رد عمل ...

مزید پڑھیے

لہروں میں بھنور نکلیں گے محور نہ ملے گا

لہروں میں بھنور نکلیں گے محور نہ ملے گا ہر موج میں پانی بھی برابر نہ ملے گا گر جاتی ہے روز ایک پرت راکھ بدن سے جلنے کا سماں پھر بھی کہیں پر نہ ملے گا چشمک بھی جو رکھنی ہے تو چوتھائی زمیں سے شوریدہ زباں کیسے سمندر نہ ملے گا ہر سمت دماغوں کے ترنگوں کا ہے شب خوں تکنیک کی اس جنگ میں ...

مزید پڑھیے

لب منطق رہے کوئی نہ چشم لن ترانی ہو

لب منطق رہے کوئی نہ چشم لن ترانی ہو زمیں پھر سے مرتب ہو فلک پر نظر ثانی ہو ابھی تک ہم نے جو مانگا ترے شایاں نہیں مانگا سکھا دے ہم کو کن کہنا جو تیری مہربانی ہو خس بے ماجرا ہیں خار بے بازار ہیں تو کیا نمو شہکار ہم بھی ہیں ہماری بھی کسانی ہو ملیں گے دھوپ کی ماری چٹانوں میں بھی خواب ...

مزید پڑھیے

تنہا کر کے مجھ کو صلیب سوال پہ چھوڑ دیا

تنہا کر کے مجھ کو صلیب سوال پہ چھوڑ دیا میں نے بھی دنیا کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا اک چنگاری اک جگنو اک آنسو اور اک پھول جاتے ہوئے کیا کیا اس نے رومال پہ چھوڑ دیا پارہ پارہ خوشبو چکراتی ہے کمرے میں آگ جلا کے شیرہ اس نے ابال پہ چھوڑ دیا پہلے اس نے برسائے آکاش پہ سارے تیر پھر دھیرے ...

مزید پڑھیے

گھنے ارمان گاڑھی آرزو کرنے سے ملتا ہے

گھنے ارمان گاڑھی آرزو کرنے سے ملتا ہے خدا جاڑے کی راتوں میں وضو کرنے سے ملتا ہے ہوا کی دھن درختوں کا سخن نغمے ہیں لیکن فن دلوں کے چاک میں آنکھیں رفو کرنے سے ملتا ہے خدا ان کو شعور تشنگی دیتا تو اچھا تھا انہیں پیاسوں میں کیا شغل سبو کرنے سے ملتا ہے یقیں دنیا نہیں کرتی مگر ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 451 سے 4657