شاعری

کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے

کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے کہ سارا مرحلہ طے مجھ سے برملا ہوا ہے نشستیں پر ہیں چراغ و ایاغ روشن ہیں بس ایک میرے نہ ہونے سے آج کیا ہوا ہے اٹھا کے رکھ دو کتاب فراق کو دل میں کہ یہ فسانہ ازل سے مرا سنا ہوا ہے کبھی نہ خالی ملا بوئے ہم نفس سے دماغ تمام باغ میں جیسے کوئی چھپا ...

مزید پڑھیے

وہ اب نمائش سیر و سفر سے باہر ہے

وہ اب نمائش سیر و سفر سے باہر ہے یہ میرے ساتھ مگر رہ گزر سے باہر ہے وہی مقیم ہے جو اپنے گھر سے باہر ہے کہ جتنا سایہ ہے سارا شجر سے باہر ہے مرے خدا یہ تب و تاب صفحہ کیسی ہے جو لکھ رہا ہوں وہ کلک ہنر سے باہر ہے ضمیر خاک کو اب زہر ہی لکھو یعنی علاج اس کا کف چارہ گر سے باہر ہے چلو نماز ...

مزید پڑھیے

سکوت کب سے لب شوق پر ہے کیا کہئے

سکوت کب سے لب شوق پر ہے کیا کہئے کہ دشمن اپنا ہی ذوق نظر ہے کیا کہئے یہ کس کے غم میں رواں چشم تر ہے کیا کہئے ہر اشک دولت برق و شرر ہے کیا کہئے غم مآل محبت ارے معاذ اللہ چراغ شام کو خوف‌ سحر ہے کیا کہئے سنور تو جائیں زمانے کے پیچ و خم لیکن پھری پھری سی تمہاری نظر ہے کیا کہئے دیا ...

مزید پڑھیے

بزم ہستی کو بصد حسرت تعمیر نہ دیکھ

بزم ہستی کو بصد حسرت تعمیر نہ دیکھ شمع سے ربط بڑھا شمع کی تنویر نہ دیکھ سوز فطرت کہیں کاغذ پہ اتر سکتا ہے میرا دل دیکھنے والے مری تصویر نہ دیکھ تیری شرمندہ نگاہی کی قسم ہے تجھ کو کس کے سینے میں اترتی ہے یہ شمشیر نہ دیکھ توڑ سکتا ہے طلسم سحر و شام جنوں طوق گردن پہ نہ جا پاؤں کی ...

مزید پڑھیے

وہ اک نگاہ جو بے اختیار کرتی ہے

وہ اک نگاہ جو بے اختیار کرتی ہے دلوں کو درد کا امیدوار کرتی ہے وہی سلوک مرے دل سے تم بھی کیوں نہ کرو چمن کے ساتھ جو فصل بہار کرتی ہے نگاہ شوق کو دوں کونسی سزا یا رب یہ دل کا راز نہاں آشکار کرتی ہے سمجھ سکا نہ کوئی فطرت محبت کو یہ اس کو پھونکتی ہے جس کو پیار کرتی ہے مجھے تو چین ...

مزید پڑھیے

بے کسی رخ بدل ہی جاتی ہے

بے کسی رخ بدل ہی جاتی ہے آہ منہ سے نکل ہی جاتی ہے حسن ہو عیش ہو جوانی ہو دھوپ آخر کو ڈھل ہی جاتی ہے ہے غم عشق مستقل ورنہ ہر بلا سر سے ٹل ہی جاتی ہے پھول کرتے رہیں جتن لاکھوں بو چمن سے نکل ہی جاتی ہے جانتے ہم بھی ہیں مآل نشاط حسرت دل مچل ہی جاتی ہے میری مجبوریوں پہ ان کی نظر ہاتھ ...

مزید پڑھیے

دنیا کی جفائیں بھول گئیں تقدیر کا شکوہ بھول گئے

دنیا کی جفائیں بھول گئیں تقدیر کا شکوہ بھول گئے جب ان سے نگاہیں چار ہوئیں سب اپنا پرایا بھول گئے اک مست نظر نے ساقی کی رندوں پہ کچھ ایسا سحر کیا فکر مے و مینا کیا کہئے ذکر مے و مینا بھول گئے ہم اور کسی کی بزم طرب یہ راز سمجھ میں آ نہ سکا اے عشق کہیں ایسا تو نہیں وہ ہم کو بھلانا ...

مزید پڑھیے

پریشانی میں اظہار پریشانی سے کیا حاصل

پریشانی میں اظہار پریشانی سے کیا حاصل بھرے بازار میں خود اپنی ارزانی سے کیا حاصل مجھے ہر منزل مستی سے ہنس ہنس کر گزرنا ہے مٹا دے جو مری ہمت اس آسانی سے کیا حاصل بغیر جبر و قوت جھک نہیں سکتا جو اک سر بھی تو پھر ایسی جہانگیری جہاں بانی سے کیا حاصل ہجوم برق و باراں ہو نزول قہر و ...

مزید پڑھیے

غم دے کے غم گسار ہوئے بھی تو کیا ہوئے

غم دے کے غم گسار ہوئے بھی تو کیا ہوئے تڑپا کے بے قرار ہوئے بھی تو کیا ہوئے کرنا تھا داغ بن کے کسی دل میں روشنی شمع سر مزار ہوئے بھی تو کیا ہوئے ہونا تھا آپ اپنے چمن میں شگوفہ کار شرمندۂ بہار ہوئے بھی تو کیا ہوئے مٹتے کسی کے عشق میں اے دل تو بات تھی برباد روزگار ہوئے بھی تو کیا ...

مزید پڑھیے

آج کی رات یاد آئے گی

آج کی رات یاد آئے گی ایک اک بات یاد آئے گی چاندنی میں بہم نیاز و ناز یہ ملاقات یاد آئے گی چند لمحوں کی صحبت رنگیں اکثر اوقات یاد آئے گی عشق کو اپنی سادگی کے ساتھ حسن کی گھات یاد آئے گی دل کی ہر بوند بن گئی چھالا اب کے برسات یاد آئے گی ان سے ذکر وفا جو چل نکلا بات پر بات یاد آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4484 سے 4657