شاعری

بے سبب جو بھی مسکراتا ہے

بے سبب جو بھی مسکراتا ہے دل کے زخموں کو وہ چھپاتا ہے ساری دنیا اداس لگتی ہے جب کوئی اپنا روٹھ جاتا ہے دل کا رشتہ عجیب رشتہ ہے ایک لمحے میں ٹوٹ جاتا ہے جانے کیا بات ہے ہتھیلی پر نام لکھ کر مرا مٹاتا ہے چاندنی روح میں مہکتی ہے کوئی جس وقت یاد آتا ہے خواب بنتا ہے جب بھی ...

مزید پڑھیے

صرف عہد وفا نہیں باقی

صرف عہد وفا نہیں باقی ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی کتنا محروم آرزو ہوگا جو یہ کہہ دے خدا نہیں باقی میرا سجدہ بھی ہو علی کی طرح کیا کریں حوصلہ نہیں باقی ان سے ملنے کو روز ملتا ہوں التفات وفا نہیں باقی وہ مجھے مہرباں سے لگتے ہیں جیسے کوئی سزا نہیں باقی سب کے ہاتھوں میں آج کاسہ ...

مزید پڑھیے

یہ مسکراتے تمام سائے ہوئے پرائے تو کیا کرو گے

یہ مسکراتے تمام سائے ہوئے پرائے تو کیا کرو گے ہوا نے جب بھی مرے بدن کے دیے بجھائے تو کیا کرو گے تمہاری خواہش پہ عمر بھر کی جدائیاں بھی قبول کر لوں مگر بتاؤ بغیر میرے جو رہ نہ پائے تو کیا کرو گے وہ جن میں میرے عذاب تیرے سراب ابھرے یا خواب ڈوبے وہ سارے لمحے تمہاری جانب پلٹ کے آئے ...

مزید پڑھیے

اسیر بحر و بر کوئی نہیں ہے

اسیر بحر و بر کوئی نہیں ہے جہاں میں مختصر کوئی نہیں ہے ہے دھڑکا سا مرے سینے میں لیکن در امید پر کوئی نہیں ہے مرا سایا سمٹ آیا ہے مجھ میں مرا اب ہم سفر کوئی نہیں ہے حوادث بھی وہیں ہم بھی وہیں ہیں مگر اب چشم تر کوئی نہیں ہے نظر ہی بام پر میری نہیں یا نظر کے بام پر کوئی نہیں ہے بجز ...

مزید پڑھیے

تیری چاہت میں مر کے دیکھوں گا

تیری چاہت میں مر کے دیکھوں گا کام یہ بھی میں کر کے دیکھوں گا چھین سکتا ہے کون مجھ سے تجھے جاں ہتھیلی پہ دھر کے دیکھوں گا غیر ممکن ہے چاند کو لانا پھر بھی کوشش میں کر کے دیکھوں گا تیری آنکھوں میں خود کو پاؤں گا رخ پہ تیرے سنور کے دیکھوں گا رکھ کے آنکھوں میں ہجر کو تیرے پھر تصور ...

مزید پڑھیے

کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظر

کسی خاموش چہرے پر وہ اطمینان کا منظر جگر کو کاٹتا ہے اب بھی قبرستان کا منظر عذاب شدت کرب جدائی کو وہ کیا جانے کہ دیکھا ہی نہ ہو جس نے نکلتی جان کا منظر اٹھی کرسی کٹا سبزہ گرے پتے اڑی چڑیاں تمہارے بعد کیا سے کیا ہوا دالان کا منظر کہاں ہوں کون ہوں یہ پوچھتا پھرتا ہوں لوگوں سے کہ ...

مزید پڑھیے

ہر ایک رستۂ پایاب سے نکلنا ہے

ہر ایک رستۂ پایاب سے نکلنا ہے سراب عمر کے ہر باب سے نکلنا ہے سر عناصر کمیاب سے نکلنا ہے شمار نادر و نایاب سے نکلنا ہے طویل تر سے کسی خواب میں اترنے کو ہر ایک شخص کو اس خواب سے نکلنا ہے لہو لہو سر مژگاں طلوع ہونا ہے کنار خطۂ پر آب سے نکلنا ہے اسے بھی پردۂ تہذیب کو گرانا ہے مجھے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ہے کیسا پانی بند ہے کیوں آواز

آنکھوں میں ہے کیسا پانی بند ہے کیوں آواز اپنے دل سے پوچھو جاناں میری چپ کا راز اس کے زخم کو سہنا رہنا اس میں ہی محصور اس کے ظلم پہ ہنس کر کہنا تیری عمر دراز تیری مرضی خوشیوں کے یا چھیڑ غموں کے راگ تو میری سر تال کا مالک میں ہوں تیرا ساز دل کی ہر دھڑکن کا موجب دید شنید تری سینے ...

مزید پڑھیے

وہ درد وہ وفا وہ محبت تمام شد

وہ درد وہ وفا وہ محبت تمام شد لے دل میں تیرے قرب کی حسرت تمام شد یہ بعد میں کھلے گا کہ کس کس کا خوں ہوا ہر اک بیان ختم عدالت تمام شد تو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا اٹھتی تھی جو کبھی وہ عدالت تمام شد اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے پابندیٔ خیال کی عادت تمام شد جائز تھی یا ...

مزید پڑھیے

موجودگی کا اس کی یہاں اعتراف کر

موجودگی کا اس کی یہاں اعتراف کر اے کعبۂ جہاں مرے دل کا طواف کر کب تک فسوں میں موسم یکسانیت رہے اے رائج الجہان نیا انکشاف کر اس تلخیٔ حیات کے لمحوں کا ہر قصور میں نے معاف کر دیا تو بھی معاف کر پردہ پڑا ہے شہر کی جب آنکھ آنکھ پر تیرا بھی حق ہے سچ سے مرے اختلاف کر میں سچ ہوں اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 447 سے 4657