شاعری

اک مسافر کی طرح دور سے آیا ہوا میں

اک مسافر کی طرح دور سے آیا ہوا میں اب کہاں جاؤں ترے در سے اٹھایا ہوا میں یہ الگ بات کہ دیمک نے مجھے چاٹ لیا اک شجر تھا ترے ہاتھوں کا لگایا ہوا میں میرا ہونا تری دنیا میں نہ ہونے جیسا لوح ہستی پہ سے اک حرف مٹایا ہوا میں

مزید پڑھیے

خاک میں کیوں مری دستار ملائی ہوئی ہے

خاک میں کیوں مری دستار ملائی ہوئی ہے میں نے عزت بڑی مشکل سے کمائی ہوئی ہے چاند کاغذ پہ بنانا ہے ابھی ایک مجھے ابھی منظر میں فقط جھیل بنائی ہوئی ہے تتلیاں روز ہی آتی ہیں انہیں ملنے کو کس کی خوشبو ہے جو پھولوں نے چرائی ہوئی ہے جاگنا چاہتا ہوں دیر تلک ساتھ ترے میری آنکھوں میں مگر ...

مزید پڑھیے

سرائے دہر کا جلتا مکان چھوڑ گیا

سرائے دہر کا جلتا مکان چھوڑ گیا مگر وہ شخص کہ اپنا نشان چھوڑ گیا سکون کے وہ سبھی پل تو لے گیا ہے مگر مرے وجود میں اپنی تھکان چھوڑ گیا بھنور کے بیچ مرے ناخدا کو کیا سوجھی کہ ناؤ چھوڑ گیا بادبان چھوڑ گیا قفس میں تھا تو پرندہ چہکتا رہتا تھا مگر فلک پہ وہ اپنی اڑان چھوڑ گیا کسی بھی ...

مزید پڑھیے

چاند تو ڈوب گیا درد گوارہ کر کے (ردیف .. ا)

چاند تو ڈوب گیا درد گوارہ کر کے میری آنکھوں میں ابھرتے رہے تارے کیا کیا اب اگر ڈسنے لگے ہیں تو گلہ کیا کرنا آستینوں میں تو خود سانپ تھے پالے کیا کیا میں نے سوچا ہی تھا دنیا کی حقیقت کیا ہے سامنے آنے لگے لوگوں کے چہرے کیا کیا خواب آنکھوں میں اترتے تو اترتے کیسے خود سے بیزار ہوں ...

مزید پڑھیے

ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے

ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے مرا یقین کرو بے شمار پانی ہے کہ پیاس بجھ نہیں پائی ہے اس سے پیاسوں کی اسی لیے تو بہت شرمسار پانی ہے بجھے کچھ ایسے ندی میں چراغ بہتے ہوئے ہوائیں ہنسنے لگیں سوگوار پانی ہے تو ایک جھیل ہے سیف الملوک کے جیسی میں ایسا تھر کہ جہاں آر پار پانی ہے میں ...

مزید پڑھیے

لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے

لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے کسی نے کیوں نہیں سوچا شجر گراتے ہوئے یہ زندگی تھی جو دھتکارتی رہی مجھ کو میں بات کرتا رہا اس سے مسکراتے ہوئے بدن تھا چور مرا ہجر کی مشقت سے سو نیند آئی مجھے درد کو سلاتے ہوئے کوئی تو اس پہ قیامت گزر گئی ہوگی کہ آپ بیتی وہ رونے لگا سناتے ...

مزید پڑھیے

ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے

ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے چراغاں آنکھ میں کر لو اگر ارادہ ہے میں رہ گزر میں کہیں پر بکھر ہی جاؤں گا یہ میری روح پہ مٹی کا اک لبادہ ہے بہت دنوں کی مسافت کے بعد مجھ پہ کھلا کہ چل رہا ہوں میں جس پر اجاڑ جادہ ہے یہ تیرا ظرف نہیں تنگ و تار گھاٹی نہیں یہ میرے دل کا ہے رستہ بھی ...

مزید پڑھیے

ہیں شاخ شاخ پریشاں تمام گھر میرے

ہیں شاخ شاخ پریشاں تمام گھر میرے کٹے پڑے ہیں بڑی دور تک شجر میرے چراغ ان پہ جلے تھے بہت ہوا کے خلاف بجھے بجھے ہیں جبھی آج بام و در میرے ہزاروں سال کی تاریخ لکھی جائے گی زمیں کے بطن سے ابھریں گے جب کھنڈر میرے یہ دیکھنا ہے کہ اب ہار مانتا ہے کون ادھر ہے وسعت امکاں ادھر ہیں پر ...

مزید پڑھیے

اک جسم ہیں کہ سر سے جدا ہونے والے ہیں

اک جسم ہیں کہ سر سے جدا ہونے والے ہیں ہم بھی زباں سے اپنی ادا ہونے والے ہیں تعریف ہو رہی ہے ابھی تھوڑی دیر بعد خوش ہونے والے سارے خفا ہونے والے ہیں سنتے ہیں وہ انار کلی کھلنے والی ہے کہئے کہ ہم بھی موج صبا ہونے والے ہیں قربت میں اس کی اور ہی کچھ ہونے والے تھے اس سے بچھڑ کے دیکھیے ...

مزید پڑھیے

اور سی دھوپ گھٹا اور سی رکھی ہوئی ہے

اور سی دھوپ گھٹا اور سی رکھی ہوئی ہے ہم نے اس گھر کی فضا اور سی رکھی ہوئی ہے کچھ مرض اور سا ہم نے بھی لگایا ہوا ہے اور اس نے بھی دوا اور سی رکھی ہوئی ہے اس قدر شور میں بس ایک ہمیں ہیں خاموش ہم نے ہونٹوں پہ صدا اور سی رکھی ہوئی ہے وہ دعا اور ہے جو مانگ رہے ہیں کہ ابھی دل میں اک اور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4386 سے 4657