شاعری

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے

یوں ہی کب تک اوپر اوپر دیکھا جائے گہرائی میں کیوں نہ اتر کر دیکھا جائے تیز ہوائیں یاد دلانے آئی ہیں نام ترا پھر ریت پہ لکھ کر دیکھا جائے شور حریم ذات میں آخر اٹھا کیوں اندر دیکھا جائے کہ باہر دیکھا جائے گاتی موجیں شام ڈھلے سو جائیں گی بعد میں ساحل پہلے سمندر دیکھا جائے سارے ...

مزید پڑھیے

زخم کھانا ہی جب مقدر ہو

زخم کھانا ہی جب مقدر ہو پھر کوئی پھول ہو کہ پتھر ہو میں ہوں خواب گراں کے نرغے میں رات گزرے تو معرکہ سر ہو پھر غنیموں سے بے خبر ہے سپاہ پھر عقب سے نمود لشکر ہو کیا عجب ہے کہ خود ہی مارا جاؤں اور الزام بھی مرے سر ہو ہیں زمیں پر جو گرد باد سے ہم یہ بھی شاید فلک کا چکر ہو اس کو تعبیر ...

مزید پڑھیے

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو

آیا ہی نہیں کوئی بوجھ اپنا اٹھانے کو کب تک میں چھپا رکھتا اس خواب خزانے کو دیکھا نہیں رخ کرتے جس طرف زمانے کو جی چاہتا ہے اکثر اس سمت ہی جانے کو یہ شغل زبانی بھی بے صرفہ نہیں آخر سو بات بناتا ہوں اک بات بنانے کو اس کنج طبیعت کی ممکن ہے ہوا بدلے جھونکا کوئی آ جائے پتے ہی اڑانے ...

مزید پڑھیے

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم

ادھر سے آئے تو پھر لوٹ کر نہیں گئے ہم پکارتی رہی دنیا مگر نہیں گئے ہم اگرچہ خاک ہماری بہت ہوئی پامال برنگ نقش کف پا ابھر نہیں گئے ہم حصول کچھ نہ ہوا جز غبار حیرانی کہاں کہاں تری آواز پر نہیں گئے ہم منا رہے تھے وہاں لوگ جشن بے خوابی یہاں تھے خواب بہت سو ادھر نہیں گئے ہم چڑھا ہوا ...

مزید پڑھیے

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں

میں بند آنکھوں سے کب تلک یہ غبار دیکھوں کوئی تو منظر سیاہ دریا کے پار دیکھوں کبھی وہ عالم کہ اس طرف آنکھ ہی نہ اٹھے کبھی یہ حالت کہ اس کو دیوانہ وار دیکھوں یہ کیسا خوں ہے کہ بہہ رہا ہے نہ جم رہا ہے یہ رنگ دیکھوں کہ دل جگر کا فشار دیکھوں یہ ساری بے منظری سواد سکوت سے ہے صدا وہ ...

مزید پڑھیے

زمین دل میں محبت کی فصل بوئی گئی

زمین دل میں محبت کی فصل بوئی گئی سو اب کی بار مصیبت کی فصل بوئی گئی چلیں تو پیروں کے چھالے بھی بول اٹھتے ہیں سفر میں جیسے مشقت کی فصل بوئی گئی گلا زمیں سے کروں کیا کہ آسمان پہ بھی مرے جنم پہ شکایت کی فصل بوئی گئی تمہارا رزق تو آنا ہے آسماں سے مگر مرے لیے تو اذیت کی فصل بوئی ...

مزید پڑھیے

میں نہ کہتا تھا مرے بھائی نہیں ہو سکتی

میں نہ کہتا تھا مرے بھائی نہیں ہو سکتی آگ پانی میں شناسائی نہیں ہو سکتی تتلیاں پھول پرندے اسے لینے آئے اس سے بڑھ کر تو پذیرائی نہیں ہو سکتی میرے چہرے پہ یہ مانگی ہوئی آنکھیں نہ لگا ان میں جو ہے مری بینائی نہیں ہو سکتی اک کنواں ہے سو ہے معلوم مرے بھائیوں کو راستے میں تو کوئی ...

مزید پڑھیے

اب کہاں جاؤں گا اٹھ کر میں یہیں رہنے دے

اب کہاں جاؤں گا اٹھ کر میں یہیں رہنے دے وحشت خانہ بدوشی تو کہیں رہنے دے ہو گئی شاہ کو اب مات کہ میں کہتا رہا ارے رہنے دے پیادے کو وہیں رہنے دے لے کے جا سکتا ہے تو سر سے مرا چرخ کہن پر مرے پیروں تلے میری زمیں رہنے دے ترک ہجرت کا ارادہ بھی تو کر سکتا ہے کون ٹھہرے گا یہاں دل کے مکیں ...

مزید پڑھیے

جب ابتدا چراغ تھی جب انتہا چراغ

جب ابتدا چراغ تھی جب انتہا چراغ محفل کے اختتام پہ پھر کیا ہوا چراغ تو ہی بتا کہ انجمن آرائی کیا ہوئی اس انجمن میں تو بھی تو جلتا رہا چراغ میرے قریب آ کے بھی اتنا گریز کیوں میرے ندیم تھا کبھی میں بھی ترا چراغ پھر اس کے بعد حیرت وہم و گمان تھی جب بن گیا وجود میں اک آئنہ چراغ گزری ...

مزید پڑھیے

میرے اشجار عزادار ہوئے جاتے ہیں

میرے اشجار عزادار ہوئے جاتے ہیں گاؤں کے گاؤں جو بازار ہوئے جاتے ہیں ابھی ہجرت کا ارادہ بھی نہیں ہے میرا راستے کس لئے دشوار ہوئے جاتے ہیں جو فریقین کے مابین سلجھ سکتے تھے مسئلے سرخیٔ اخبار ہوئے جاتے ہیں صاحب عز و شرف ایک نظر ہم پر بھی تیری دنیا میں بہت خار ہوئے جاتے ہیں ایسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4385 سے 4657