شاعری

آسماں زاد زمینوں پہ کہیں ناچتے ہیں

آسماں زاد زمینوں پہ کہیں ناچتے ہیں ہم وہ پیکر ہیں سر عرش بریں ناچتے ہیں اپنا یہ جسم تھرکتا ہے بس اپنی دھن پر ہم کبھی اور کسی دھن پہ نہیں ناچتے ہیں اپنے رنگوں کو تماشے کا کوئی شوق نہیں مور جنگل میں ہی رہتے ہیں وہیں ناچتے ہیں تن کے ڈیرے میں ہے جاں مست قلندر کی طرح واہمے تھک کے جو ...

مزید پڑھیے

اک خواب ہے یہ پیاس بھی دریا بھی خواب ہے

اک خواب ہے یہ پیاس بھی دریا بھی خواب ہے ہے خواب تو بھی تیری تمنا بھی خواب ہے یہ التزام دیدۂ خوش خواب بھی ہے خواب رنگ بہار قامت زیبا بھی خواب ہے وہ منزلیں بھی خواب ہیں آنکھیں ہیں جن سے چور ہاں یہ سفر بھی خواب ہے رستہ بھی خواب ہے یہ رفعتیں بھی خواب ہیں یہ آسماں بھی خواب پرواز بھی ...

مزید پڑھیے

ہوں کہ جب تک ہے کسی نے معتبر رکھا ہوا

ہوں کہ جب تک ہے کسی نے معتبر رکھا ہوا ورنہ وہ ہے باندھ کر رخت سفر رکھا ہوا مجھ کو میرے سب شہیدوں کے تقدس کی قسم ایک طعنہ ہے مجھے شانوں پہ سر رکھا ہوا میرے بوجھل پاؤں گھنگھرو باندھ کر ہلکے ہوئے سوچنے سے کیا نکلتا دل میں ڈر رکھا ہوا اک نئی منزل کی دھن میں دفعتاً سرکا لیا اس نے ...

مزید پڑھیے

اگر ہوں گویا تو پھر بے تکان بولتے ہیں

اگر ہوں گویا تو پھر بے تکان بولتے ہیں مگر یہ لوگ لہو کی زبان بولتے ہیں زمیں جو پاؤں کے نیچے ہے اس کا مالک ہوں پہ میرے نام پہ کتنے لگان بولتے ہیں چھپا نہ قتل مرا احتیاط کے با وصف جو اس نے چھوڑے نہیں وہ نشان بولتے ہیں زمیں پہ جب کوئی مظلوم آہ بھرتا ہے ستارے ٹوٹتے ہیں آسمان بولتے ...

مزید پڑھیے

میری دہلیز تک جو آ نہ سکا

میری دہلیز تک جو آ نہ سکا میں ابھی تک اسے بھلا نہ سکا زندگی خاک میں ملائی گئی عاشقی خاک میں ملا نہ سکا جو مجھے مفلسی دکھاتا رہا میں اسے مفلسی دکھا نہ سکا بعد اس کے میں مسکراتا رہا بعد اس کے میں کھلکھلا نہ سکا تم مری بے بسی کو کیا جانو میں اسے خواب تک دکھا نہ سکا دکھ تو یہ ہے ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں میں جب جام نہیں تھا

ہاتھوں میں جب جام نہیں تھا شعر سنانا عام نہیں تھا ہم نے بھی تب عشق کیا جب کرنے کو کچھ کام نہیں تھا وہ بھی تھی اک عام سی لڑکی اپنا بھی تب نام نہیں تھا ایک زمانہ وہ بھی تھا جب مندر میں کوئی رام نہیں تھا میں نے اک نگری میں دیکھا خاص تھا سب کچھ عام نہیں تھا یہ تو جنون عشق ہے ...

مزید پڑھیے

اپنے نہ جل سکے تو ہمارے بجھا دیے

اپنے نہ جل سکے تو ہمارے بجھا دیے جتنے بھی تھے چراغ وہ سارے بجھا دیے اس بار دے ہی دیتا میں دشمن کو مات بھی لیکن یہ کس نے میرے سہارے بجھا دیے ان آنسوؤں کی بھیڑ سے ٹوٹا ہے حوصلہ بارش نے آج پھر سے ستارے بجھا دیے وحشت زدہ ہوا تھا تو آنکھوں کو چیر کر آتے تھے جتنے خواب تمہارے بجھا ...

مزید پڑھیے

تمہارا ہجر مناتے ہوئے یہ عمر کٹی

تمہارا ہجر مناتے ہوئے یہ عمر کٹی لہو کے دیپ جلاتے ہوئے یہ عمر کٹی تمہارے بعد زمانے سے یہ گئے پیچھے گھڑی پہ وقت ملاتے ہوئے یہ عمر کٹی کہا گیا تھا مجھے ایک دن وہ آئے گا پھر اپنا شہر سجاتے ہوئے یہ عمر کٹی تری خوشی تھی اسی میں سو تجھ کو چھوڑ دیا پھر اپنا آپ بناتے ہوئے یہ عمر ...

مزید پڑھیے

چیخ کر بولنے سے کیا ہوگا

چیخ کر بولنے سے کیا ہوگا دل مرا توڑنے سے کیا ہوگا آئنہ دیکھتے ہوئے لوگو آئنہ دیکھنے سے کیا ہوگا میں سمندر ہوں اور مجھے ایسے جا بہ جا روکنے سے کیا ہوگا اس سے پہلے کہ پاؤں تھک جائیں پوچھ لو راستے سے کیا ہوگا بھوک مٹتی نہیں دعاؤں سے سو خدا بیچنے سے کیا ہوگا

مزید پڑھیے

سنی ہے اس نے نہ اپنی کبھی سنائی ہے

سنی ہے اس نے نہ اپنی کبھی سنائی ہے ہمارے بیچ فقط اک یہی لڑائی ہے کسی نے خود سے تراشا ہے اس کو تھوڑا بہت کسی کے واسطے دنیا بنی بنائی ہے بھلے یہ سر ہی کٹے پر کہیں جبیں نہ جھکے ہمارے پرکھوں نے دولت یہی کمائی ہے یہ زندگی یہ خوشی اور غم بھی تم بانٹو تمہارے پاس تو ویسے بھی کل خدائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4387 سے 4657