عشق کر نہیں رہے
عشق کر نہیں رہے پھر بھی مر نہیں رہے میری بستیوں کے گھر میرے گھر نہیں رہے تیری بارشوں سے بھی مٹکے بھر نہیں رہے عادتاً خموش ہیں تجھ سے ڈر نہیں رہے چھٹی والے دن بھی ہم اپنے گھر نہیں رہے
عشق کر نہیں رہے پھر بھی مر نہیں رہے میری بستیوں کے گھر میرے گھر نہیں رہے تیری بارشوں سے بھی مٹکے بھر نہیں رہے عادتاً خموش ہیں تجھ سے ڈر نہیں رہے چھٹی والے دن بھی ہم اپنے گھر نہیں رہے
مانا میری ان سے باتیں ہوتی ہیں لیکن تصویریں تصویریں ہوتی ہیں لوگوں سے اچھی تصویریں ہوتی ہیں جتنی چاہو اتنی باتیں ہوتی ہیں جھوٹے دلاسے مت دو میں یہ جانتا ہوں بیماروں سے کیسی باتیں ہوتی ہیں ہجر کے دن ایسے دن ہوتے ہیں جن میں راتوں کے آگے بھی راتیں ہوتی ہیں
بچھڑ کے دونوں کے ذہنوں پہ بوجھ پڑتا ہے رہیں جو ساتھ تو آنکھوں پہ بوجھ پڑتا ہے پھلوں کے ہونے سے شاخیں فقط لچکتی ہیں پھلوں کے گرنے سے شاخوں پہ بوجھ پڑتا ہے تمہارے ذکر کی عادت ہوئی ہے ایسی انہیں کچھ اور بولیں تو ہونٹوں پہ بوجھ پڑتا ہے بس ایک چہرے کو سپنے میں دیکھنے کے لئے تمام عمر ...
اگر وہ پوچھے کوئی بات کیا بری لگی ہے زیادہ سوچنا مت بول دینا جی لگی ہے بری لگی تری موجودگی کلاس میں آج کہ میرے بولے بنا تیری حاضری لگی ہے اسے مناتے مناتے میں روٹھنے لگا تھا پھر اس نے پوچھ لیا فلم کون سی لگی ہے اے موت ٹھہر ذرا صبر کر قطار میں دیکھ کہ تجھ سے آگے بہت آگے زندگی لگی ...
صرف زندہ ہی نہیں ہوش سنبھالے ہوئے ہیں آپ کو دشت میں یعنی ابھی ہفتے ہوئے ہیں کون چاہے گا درخت اس کے ثمر بار نہ ہوں تو بنے اس لیے ہم خود کو مٹائے ہوئے ہیں یہ جو بچے ہیں فقط جھولا نہیں جھول رہے شاخ پے پھول کی مانند یہ لٹکے ہوئے ہیں ان درختوں کے فوائد کا تمہیں علم نہیں ان کو مت کاٹو ...
مرا ہم سفر کبھی وہم تھا کبھی خواب تھا کبھی کیا رہا میں عجیب حال میں مست تھا سو مرا مذاق بنا رہا مری مشکلوں نے عیاں کیا مرا یار دوست کوئی نہیں سو قبیل حرص و ہواس میں میں اکیلا ڈٹ کے کھڑا رہا مرے آشیاں کو جلا گئیں مرے خام سوچ کی حدتیں مرا سر حیا سے نہ اٹھ سکا میں ندامتوں میں پڑا ...
منظر کے ساتھ ساتھ بدلنے لگا ہوں میں روشن ہوئے چراغ تو جلنے لگا ہوں میں پو پھوٹنے میں وقت ہے جانا ہے مجھ کو دور سورج سے پہلے گھر سے نکلنے لگا ہوں میں حیرت نے میری آنکھ میں اک خواب رکھ دیا چشم ستارہ ساز میں کھلنے لگا ہوں میں میرا کمال دیکھیے اس دھوپ دشت میں اک آئنے کا جسم اجلنے ...
مرا وجود ہی جب خار و خس کے اندر تھا میں اس سمے بھی تری دسترس کے اندر تھا میں دیکھتا تھا برابر عمل کا رد عمل دبی ہوئی تھی سڑک شور بس کے اندر تھا مجھے سمجھتے تھے کچھ لوگ برگزیدہ شجر ہوس پرست نہیں تھا ہوس کے اندر تھا میں کس طرح سے محبت کی بات کر پاتا وہ خوش مزاج پرندہ قفس کے اندر ...
خواب تو کھلتے تھے مجھ پر در کوئی کھلتا نہ تھا آسماں سب کھل چکے تھے پر کوئی کھلتا نہ تھا سامنے سے سارے منظر صاف دکھتے تھے مگر ایک منظر ایسا کہ اندر کوئی کھلتا نہ تھا جانے کیسے شہر میں اپنے قدم پڑنے لگے بند دل کے لوگ تھے کھل کر کوئی کھلتا نہ تھا گو مگو کے دن تھے وہ مسجد کوئی چلتی ...
بدن کے دشت کو آباد کیوں نہیں کرتے ہوس بھی ہے تو کچھ ایجاد کیوں نہیں کرتے ہر اک خیال کو باندھا ہوا ہے لفظوں سے نہ جانے تم انہیں آزاد کیوں نہیں کرتے جلاتے کیوں نہیں اس قبر پر چراغ کوئی مرا خیال مرے بعد کیوں نہیں کرتے اگر ملا ہے تمہیں درد تو بتاؤ ہمیں کراہتے نہیں فریاد کیوں نہیں ...