شاعری

فائدہ ہے یا خسارہ ہم کو سب معلوم ہے

فائدہ ہے یا خسارہ ہم کو سب معلوم ہے کیوں کریں ہم استخارہ ہم کو سب معلوم ہے لوگ کیوں خود کو بتاتے ہیں ہمارا خیر خواہ کون ہے کتنا ہمارا ہم کو سب معلوم ہے کس کے گھر میں تیرگی کا راج تھا کل رات کو چاند کس کے گھر اتارا ہم کو سب معلوم ہے زندگی ہے نام جس کا زندگی ہرگز نہیں کر رہے ہیں سب ...

مزید پڑھیے

میرے ماتھے پہ لکھو بخت سے ہارا ہوا ہے

میرے ماتھے پہ لکھو بخت سے ہارا ہوا ہے اک زبردست زبردست سے ہارا ہوا ہے ہارتے ہارتے سب ہار گیا عشق میں میں سب سمجھتے ہیں مگر دشت سے ہارا ہوا ہے دیکھنا چاہتا ہے پیڑ پہ پھلتے ہوئے پھول ایک پتا جو ترے تخت سے ہارا ہوا ہے اب جو ہجراں میں مجھے دیتا ہے تاویلیں بہت ذہن وہ جو دل کم بخت سے ...

مزید پڑھیے

تجھ سے مل کر یقیں ہوا ہے مجھے

تجھ سے مل کر یقیں ہوا ہے مجھے عشق اب تک نہیں ہوا ہے مجھے خاک ہی خاک ہے جہاں دیکھوں آسماں بھی زمیں ہوا ہے مجھے خون آنکھوں سے کیوں نہیں ٹپکا درد دل کے قریں ہوا ہے مجھے نقص لاتا ہے سامنے میرے آئنہ نکتہ چیں ہوا ہے مجھے یہ جو احساس زندگی ہے یہ شاعری کے تئیں ہوا ہے مجھے میں کڑی دھوپ ...

مزید پڑھیے

کیوں کے بارے میں کیا کے بارے میں

کیوں کے بارے میں کیا کے بارے میں عقل چپ ہے خدا کے بارے میں جب صعوبت میں سانس گھٹنے لگے سوچیے کربلا کے بارے میں سب کو تفتیش ہو رہی ہوگی دوسرے نقش پا کے بارے میں خامشی سادھ لی گئی یک دم سخن نارسا کے بارے میں انتہا ہو چکی محبت کی کچھ کہو ابتدا کے بارے میں میری اپنی ہی ایک رائے ...

مزید پڑھیے

یہ وسعت و امکان کی حد ہے مرے نزدیک

یہ وسعت و امکان کی حد ہے مرے نزدیک وہ خود ہی ازل خود ہی ابد ہے مرے نزدیک اس وقت فلک زینے سے بڑھ کر نہیں مجھ کو اس وقت ترا قامت و قد ہے مرے نزدیک چپ ہوں کہ مرا خواب ہے ادراک سے باہر خوش ہوں کہ مری آنکھ سند ہے مرے نزدیک دریوزہ گر عشق ہوں کاسہ ہے مری جاں ہر لمحہ مری ذات کا رد ہے مرے ...

مزید پڑھیے

وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا

وہ اک سوال ستارہ کہ آسمان میں تھا تمام رات یہ دل سخت امتحان میں تھا سکوں سراب زمیں میں جھلس گیا تھا بدن نہ جانے کون دھنک رنگ سائبان میں تھا ذرا سا دم نہ لیا تھا کہ مند گئیں آنکھیں میں اس سفر سے نکل کر عجب تکان میں تھا وہ جاتے جاتے اچانک مڑا تھا میری طرف مجھے یقیں ہے کہ وہ پھر کسی ...

مزید پڑھیے

سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں

سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں بس اک ستارۂ وحشت اثر کو دیکھتے ہیں کسی کے آنے کی جس سے خبر بھی آتی نہیں نہ جانے کب سے اسی رہ گزر کو دیکھتے ہیں خدا گواہ کہ آئینۂ نفس ہی میں ہم خود اپنی زندگیٔ مختصر کو دیکھتے ہیں تو کیا بس ایک ٹھکانا وہی ہے دنیا میں وہ در نہیں تو کسی اور در کو ...

مزید پڑھیے

یہ جو دھواں دھواں سا ہے دشت گماں کے آس پاس

یہ جو دھواں دھواں سا ہے دشت گماں کے آس پاس کیا کوئی آگ بجھ گئی سرحد جاں کے آس پاس شور ہوائے شام غم یوں تو کہاں کہاں نہیں سنیے تو بس سنائی دے درد نہاں کے آس پاس بجھ گئے کیا چراغ سب اے دل عافیت طلب کب سے بھٹک رہے ہیں ہم کوئے زیاں کے آس پاس ان کو تلاش کیجیے ہم تو ملیں گے آپ ہی اپنی ...

مزید پڑھیے

اس سے رشتہ ہے ابھی تک میرا

اس سے رشتہ ہے ابھی تک میرا وہ علاقہ ہے ابھی تک میرا کس توقع نے جگایا تھا مجھے خواب تازہ ہے ابھی تک میرا کیا بتاؤں میں لب دریا سے کچھ تقاضا ہے ابھی تک میرا کہیں یک دشت ہوا چمکتی تھی شہر اندھا ہے ابھی تک میرا اک ذرا خود کو سمیٹوں تو چلوں کام پھیلا ہے ابھی تک میرا وہی صحرا ہے وہی ...

مزید پڑھیے

اٹھئے کہ پھر یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا

اٹھئے کہ پھر یہ موقع ہاتھوں سے جا رہے گا یہ کارواں ہے آخر کب تک رکا رہے گا زخموں کو اشک خوں سے سیراب کر رہا ہوں اب اور بھی تمہارا چہرہ کھلا رہے گا بند قبا کا کھلنا مشکل بہت ہے لیکن لیکن کھلا تو پھر یہ عقدہ کھلا رہے گا سرگرمیٔ ہوا کو دیکھا ہے پاس دل کے اس آگ سے یہ جنگل کب تک بچا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4383 سے 4657