شاعری

مگر یہ کس کی تمنا نے ڈس لیا اس کو (ردیف .. ا)

مگر یہ کس کی تمنا نے ڈس لیا اس کو جو ایک چہرہ جدا سا دکھائی دیتا تھا یہ حادثہ تھا کہ قسمت نے ایک کروٹ لی وگرنہ بخت سنورتا دکھائی دیتا تھا وہ اک شکست بڑی دور تک نبھائی تھی ملال جس کا توانا دکھائی دیتا تھا جو سینت سینت کے رکھا ہوا اثاثہ تھا فشار بن کے رہے گا دکھائی دیتا تھا

مزید پڑھیے

یہ بات کیوں نہیں لگتی بہت عجیب تمہیں (ردیف .. ے)

یہ بات کیوں نہیں لگتی بہت عجیب تمہیں کوئی کسی کو پکارے جواب تک نہ ملے بس اک خلش کا مقدر سنوارنے کے لیے سوال کیا کیا نکھارے جواب تک نہ ملے پس نوشتۂ تقدیر ماجرا کیا تھا بجھائے کس نے ستارے جواب تک نہ ملے اگرچہ ہم نے صدائیں کئی سنی تھیں مگر پکارنے پہ ہمارے جواب تک نہ ملے نہ ہم ...

مزید پڑھیے

یہ ہرے پیڑ جو پانی پہ جھکے ہوتے ہیں (ردیف .. ی)

یہ ہرے پیڑ جو پانی پہ جھکے ہوتے ہیں شام ہوتے ہی گنوا دیتے ہیں بینائی بھی گو کہ خاموش ہی رہتی ہے عموماً لیکن چیخ اٹھتی ہے کبھی ہجر میں تنہائی بھی وہ ترے خواب تھی آباد جہاں اک دنیا کیا وہ دنیا مجھے کھو کر تجھے راس آئی بھی سرمئی رات میں اک زخم کھلا رہتا ہے وہ گیا وقت میسر تھی ...

مزید پڑھیے

اک تسلسل سے ایک اذیت کو جانب دل اچھالتا ہے کوئی

اک تسلسل سے ایک اذیت کو جانب دل اچھالتا ہے کوئی ایک مشکل سے نیم جاں ہو کر خود کو کیسے سنبھالتا ہے کوئی بجھتی پلکوں سے تاکتی وحشت شکر کر ہم تجھے میسر ہیں ہمیں جو روگ ہو گئے لاحق دیکھ وہ بھی اجالتا ہے کوئی امتحاں میں پڑے ہوئے یہ لوگ اک تأسف سے دیکھتا ہے جہاں ہائے ایسے خراب حالوں ...

مزید پڑھیے

ہر گلی کوچے میں لشکر دیکھو

ہر گلی کوچے میں لشکر دیکھو دوستو شہر کا منظر دیکھو ہم نہ کہتے تھے کہ گھر جاؤ گے کس جگہ پہنچے ہو آخر دیکھو کتنی خوش حال ہے ساری دنیا کتنا ویران ہے یہ گھر دیکھو بند کمروں میں مقفل لوگو! کھڑکیاں کھول کے باہر دیکھو کس طرح زندہ ہیں خوش ہیں کتنے جانے والو! کبھی آ کر دیکھو

مزید پڑھیے

علم بھی آزار لگتا ہے مجھے

علم بھی آزار لگتا ہے مجھے آدمی اخبار لگتا ہے مجھے چیختی سڑکیں دھواں پٹرول بو شہر تو بیمار لگتا ہے مجھے اس قدر محفوظ رہتا ہے کہ وہ رام کا اوتار لگتا ہے مجھے روز نظمیں کہنا چھپوانا کہیں ایک کاروبار لگتا ہے مجھے شاعری اچھی بری معلوم ہے باقی سب بے کار لگتا ہے مجھے

مزید پڑھیے

وہ ہے بھگوان وہ پتھر میں نہیں رہ سکتا

وہ ہے بھگوان وہ پتھر میں نہیں رہ سکتا وہ کسی اور کے پیکر میں نہیں رہ سکتا دھرتی آکاش سمے کچھ بھی نہیں اس کے لیے وہ کسی وقت مقرر میں نہیں رہ سکتا وہ ہے لا انتہا محبوس نہیں ہوگا وہ عکس اس کا کسی منظر میں نہیں رہ سکتا دن کا راجا ہوں اجالا ہے سنگھاسن میرا میرا دم گھٹتا ہے میں گھر میں ...

مزید پڑھیے

نئے منظر کی جستجو بھی کروں

نئے منظر کی جستجو بھی کروں میں اسے اپنے روبرو بھی کروں سب سے امید بھی رکھوں اچھی اور ایک ایک کو عدو بھی کروں حسن اس کا مجھے عبادت سا اپنی آنکھیں ذرا وضو بھی کروں اس کے دل کو پسیجنا ہے مجھے اپنے آنسو کبھی لہو بھی کروں ساری مخلوق ستر‌ پوش نہیں حسن کو رشک آبرو بھی کروں لے لوں ...

مزید پڑھیے

لفظ میں تصویر میں پتھر میں قید

لفظ میں تصویر میں پتھر میں قید سب نے اس کو کر دیا منظر میں قید دل تو بیچارہ یوں ہی بدنام ہے جو بھی ہے وہ سب کا سب ہے سر میں قید صرف اچھا ہونا ہی سب کچھ نہیں قدر ہے انسان کی اب زر میں قید آج کا دن شر پسندوں کا ہے پھر شہر سارا ہو گیا ہے گھر میں قید آسماں کی وسعتیں کروا مجھے اور کب تک ...

مزید پڑھیے

اب بھی آئے ہے وہ گلی میری

اب بھی آئے ہے وہ گلی میری اس کو ہونا ہے آج بھی میری جانتی ہے وہ میری اک اک بات اس نے پڑھ لی ہے ڈایری میری تیز رفتار ہو گیا ہوں میں آگے چلنے لگی گھڑی میری سونے چاندی کے ایک پنجرے میں قید ہے آج کل پری میری خواہشوں کا غلام ہوں میں بھی کام آئی نہ آگہی میری آپ تو بات میری سن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4368 سے 4657