شاعری

ایک رنگین خواب ہے دنیا

ایک رنگین خواب ہے دنیا یا نشاط سراب ہے دنیا غور سے پڑھ سکو تو سمجھو گے ایک دل کش کتاب ہے دنیا الجھنوں نے یہ کر دیا ثابت اک مسلسل عذاب ہے دنیا بھائی بھائی کا خون کرتا ہے سوچو کتنی خراب ہے دنیا ہے سزا ہی سزا ہمارے لئے کس قدر پر عتاب ہے دنیا دل لگاؤ نہ اس سے اے احسنؔ ایک بے فیض ...

مزید پڑھیے

ہوتا ہے دن رات یہاں اب جھگڑا بھائی بھائی میں

ہوتا ہے دن رات یہاں اب جھگڑا بھائی بھائی میں روز ہی اٹھتی ہیں دیواریں ہر گھر کی انگنائی میں شاعر وہ جو فکر کی گہرائی سے گوہر لے آئے اس کوشش میں جانے کتنے لوگ گرے اس کھائی میں فٹ پاتھوں پر رہنے والے تھر تھر کانپتے رہتے ہیں دولت والے سوتے ہیں جب کمبل اور رضائی میں اب تو خود ہی ...

مزید پڑھیے

مجھ کو خوشیاں نہ سہی غم کی کہانی دے دے

مجھ کو خوشیاں نہ سہی غم کی کہانی دے دے جس کو میں بھول نہ پاؤں وہ نشانی دے دے مجھ کو بوڑھا نہ کہے میرے زمانے والا اے خدا مجھ کو وہ اعجاز جوانی دے دے رات بھر جاگتا رہتا ہوں کہ جینا ہے عذاب آنکھیں جو چاہتی ہیں نیند سہانی دے دے سن کے غزلوں کو مری جھوم اٹھے ہر کوئی مرے اشعار کو وہ حسن ...

مزید پڑھیے

خیال وہ بھی مرے ذہن کے مکان میں تھا

خیال وہ بھی مرے ذہن کے مکان میں تھا جو آج تک نہ مکین گماں کے دھیان میں تھا وہ دیکھتا رہا حسرت سے آسماں کی طرف چھپا ہوا وہ پرندہ جو سائبان میں تھا زمیں پہ کوئی سماعت تھی منتظر میری صدا کی شکل معلق میں آسمان میں تھا مرا نصیب تو خوشیوں کی بھیڑ میں اکثر چراغ کی طرح روشن کسی دکان میں ...

مزید پڑھیے

عصر حاضر کا جو انسان نظر آتا ہے

عصر حاضر کا جو انسان نظر آتا ہے بس پریشان پریشان نظر آتا ہے نفرت‌ و بغض کی مسموم ہوا ایسی چلی کوچۂ جاناں بھی ویران نظر آتا ہے مری ہستی کی عمارت بھی گرا سکتا ہے اس کی آنکھوں میں جو طوفان نظر آتا ہے زندہ انسان بھی جلتے ہیں چتاؤں میں جہاں ملک یہ ایسا ہی شمشان نظر آتا ہے حادثہ ...

مزید پڑھیے

اب زلیخا ہے یعقوب کی آہ میں (ردیف .. ے)

اب زلیخا ہے یعقوب کی آہ میں میرے یوسف کبھی تو دکھائی بھی دے خانہ دل سے موڑیں مہاریں اگر تو مجھے اپنے غم سے رہائی بھی دے میں تمنا کو کیسے لکھوں تیرگی پھر یہ دل تیرگی کی دہائی بھی دے حسن نظریں جھکائے ہوئے رو بہ رو اس تماشے تلک پر رسائی بھی دے رات مدت سے آنکھوں میں کٹتی ہوئی اور ...

مزید پڑھیے

پہلے کیا گیا مجھے یکتائے رنگ و بو (ردیف .. ے)

پہلے کیا گیا مجھے یکتائے رنگ و بو پھر رنج کی تہوں میں اتارا گیا مجھے تو اضطراب میں ہی لیا ہوگا میرا نام ورنہ کبھی سکوں میں پکارا گیا مجھے ماتھے پہ لکھ دیا گیا اس خوش ادا کا ہجر اور ہجر کے دروں میں سنوارا گیا مجھے پیروں کو روکتی رہی آواز رفتگاں صحرائے خاک و خوں میں اتارا گیا ...

مزید پڑھیے

تھی تو یہ ایک بات ہی پر سنگ میل تھی (ردیف .. ا)

تھی تو یہ ایک بات ہی پر سنگ میل تھی کھونے کا خوف اسے بھی ہراساں کیے رہا بادل بھرا بھرایا نہ برسا تو رنج کیا اس دھوپ کے سفر کو تو آساں کیے رہا یہ ایک شے الگ سے رگ جاں پہ بار تھی اک لمحۂ فراق پریشاں کیے رہا کیا موڑ تھا کہ ضبط کا یارا نہیں رہا حالانکہ عمر بھر دل ناداں کیے رہا اس غم ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے نقش آئنے میں ابھرے یہ کون راحت ہے جھلملائی (ردیف .. ے)

یہ کس کے نقش آئنے میں ابھرے یہ کون راحت ہے جھلملائی کہ اس کا جادو جنوں میں گھلتے ہوؤں کو بے حال کر گیا ہے ہمارے حصے میں لاؤ دے دو تمام وحشت وہ سب اذیت تمہارے ہاتھوں میں جو تھما کر کوئی نہ جانے کدھر گیا ہے تمہیں کسی زخم کی خبر تک نہ دیں گے ہم کہ عزیز جاں ہو نہ یہ بتائیں گے سکھ کا ...

مزید پڑھیے

کہ جن سے لہجہ بدل کے تو بولتا ہے وہ لوگ (ردیف .. ن)

کہ جن سے لہجہ بدل کے تو بولتا ہے وہ لوگ ملال اس کا سہیں گے مگر کہیں گے نہیں رعایتوں میں لکھیں گے ہمیش نام ترا بہ نام جرم وفا تہمتیں دھریں گے نہیں ہمارا وقت تو ہنس کر گزرنے والا تھا مگر یہ رنج تو اب راہ سے ہٹیں گے نہیں اے عشق تیرے مزاجوں کی خیر ہو اب کے دئے ہیں زخم جو تو نے کبھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4367 سے 4657