شاعری

لفظوں کے بت ٹوٹ چکے ہیں (ردیف .. ے)

لفظوں کے بت ٹوٹ چکے ہیں کورا کاغذ پڑا ہوا ہے گدھ نے کب زندوں کو نوچا شیر نے کب مردوں کو چھوا ہے اپنی اپنی بین سنبھالو سنا ہے شہر میں ناگ آیا ہے گونگے بول رہے ہیں پتھر سناٹا ریزہ ریزہ ہے گھر کا کنواں بھی بے مصرف سا ساگر میں تیزاب بھرا ہے سونپ گئی ہے خود کو مجھے وہ ہرا بھرا دن ...

مزید پڑھیے

میرا دکھ بھی کبھی سنے گا کیا

میرا دکھ بھی کبھی سنے گا کیا بات مجھ سے بھی وہ کرے گا کیا آج کا دن مجھے قیامت ہے اور یہ دن کبھی ڈھلے گا کیا ہو چکا ہوں میں جل کے راکھ یہاں راکھ کا ڈھیر پھر جلے گا کیا اب بھی انگلی پکڑ کے وہ میری سوچتا رہتا ہوں چلے گا کیا سامنے میرے کل جو بیٹھا تھا وہ دوبارہ کبھی ملے گا کیا مدتوں ...

مزید پڑھیے

میں جان گیا ہوں وہ مرا غم نہ کرے گا

میں جان گیا ہوں وہ مرا غم نہ کرے گا اچھا ہے مرے بعد وہ ماتم نہ کرے گا کیا کوئی کرے گا مرے زخموں کا مداوا جب میرا لہو خود مجھے مرہم نہ کرے گا جادو اسے آتا ہے یہ معلوم ہے سب کو جادو سے کسی شے کو وہ درہم نہ کرے گا اب شیخ سے امید مروت کی نہ رکھنا نذرانہ نہیں دو گے تو وہ دم نہ کرے ...

مزید پڑھیے

زندگی کی راہ میں تنہائیاں رکھ دے گا وہ

زندگی کی راہ میں تنہائیاں رکھ دے گا وہ اپنی یادوں کی فقط پرچھائیاں رکھ دے گا وہ آخری دم تک جو گونجے گی خیالوں میں ترے درد کی کچھ اس طرح شہنائیاں رکھ دے گا وہ اس کے لہجے میں انا اور تلخیاں گفتار میں کڑوی باتوں میں مگر سچائیاں رکھ دے گا وہ اس کو آتا ہے مزاجوں کو بدلنے کا ہنر فطرت ...

مزید پڑھیے

غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ

غم کے بادل ہیں یہ ڈھل جائیں گے رفتہ رفتہ دیپ ہر گام پہ جل جائیں گے رفتہ رفتہ آبلہ پائی ہی کافی ہے ترا رخت سفر خار خود گل میں بدل جائیں گے رفتہ رفتہ طور پر آ کے ذرا آپ اٹھائیں تو نقاب سنگ دل بن کے پگھل جائیں گے رفتہ رفتہ چشم ساقی سے کہاں پی ہے کہ گر کر نہ اٹھیں جام سے پی ہے سنبھل ...

مزید پڑھیے

جنوں کی رسم زمانے میں عام ہو نہ سکی

جنوں کی رسم زمانے میں عام ہو نہ سکی ہوس تھی چاہ وفا کی غلام ہو نہ سکی لکھے تھے دار و رسن جس کسی کی قسمت میں پھر اس کی زلف کے سائے میں شام ہو نہ سکی مری اداسی کا باعث شب فراق نہیں بسر یہ رات بصد اہتمام ہو نہ سکی مری نگاہ اٹھی ہی رہی سوئے جاناں تجلیوں میں گھری ہم کلام ہو نہ سکی روا ...

مزید پڑھیے

دل کو بہ نام عشق سجانا پڑا ہمیں

دل کو بہ نام عشق سجانا پڑا ہمیں پھر اک فریب دل میں بسانا پڑا ہمیں یہ کس کا حال کس کو سنانا پڑا ہمیں اور دل کا حال دل سے چھپانا پڑا ہمیں جل کر بھی تیرے نام کی خوشبو بکھیر دے پھولوں میں ایسی آگ لگانا پڑا ہمیں دامن یہ خار سے نہیں پھولوں سے تار ہے جانے یہ کیسا قرض چکانا پڑا ہمیں جب ...

مزید پڑھیے

ترے پاس رہ کر سنور جاؤں گا میں

ترے پاس رہ کر سنور جاؤں گا میں جدا ہو کے تجھ سے بکھر جاؤں گا میں ذرا سوچنے دے میں اٹھنے سے پہلے ترے در سے اٹھ کر کدھر جاؤں گا میں ترے ساتھ جینے کی امید لیکن ترا ساتھ نہ ہو تو مر جاؤں گا میں ترے پیار کے سائے میں چند لمحے ذرا جی تو لوں پھر گزر جاؤں گا میں سمٹ کر ہی رہنے دے آنچل سے ...

مزید پڑھیے

وہ تو مجھ میں ہی نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

وہ تو مجھ میں ہی نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا خون بن کر وہ رواں تھا مجھے معلوم نہ تھا اتنے مجروح تھے جذبات ہمارے جس پر چرخ بھی محو فغاں تھا مجھے معلوم نہ تھا پیاس شدت کی تھی صحرا بھی تڑپ جاتا تھا امتحاں سر پہ جواں تھا مجھے معلوم نہ تھا پیر تو پیر یہاں روح کے چھالے نکلے دور اتنا ...

مزید پڑھیے

عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا

عشق میں برباد ہونے کے سوا رکھا نہ تھا غم کو سہنے کے علاوہ کوئی بھی چارہ نہ تھا یاد رہ رہ کر کسی کی ہے ستاتی رات بھر صبح ہوتے بھول جانا یہ تجھے شیوہ نہ تھا یہ تری الفت مجھے رکھتی ہے بیتابی میں گم یہ سبھی کو تھی خبر لیکن کوئی چرچا نہ تھا آئینہ دیکھوں تو کیوں تو ہی نظر آئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4369 سے 4657