دل کے رہنے کے لیے شہر خیالات نہیں
دل کے رہنے کے لیے شہر خیالات نہیں سر بہ سر ہے نفی اس میں کہیں اثبات نہیں رنج گر واں سے تو راحت بھی وہیں سے آوے کون کہتا ہے یہاں وحدت آیات نہیں مجھ سے کہتے ہیں حوائج سے سروکار نہ رکھ میری تعریف بجز قصۂ حاجات نہیں کوئی بتلاؤ شب و روز پہ کیا گزری ہے رات خاموش نہیں دن میں کوئی بات ...