شاعری

دل کے رہنے کے لیے شہر خیالات نہیں

دل کے رہنے کے لیے شہر خیالات نہیں سر بہ سر ہے نفی اس میں کہیں اثبات نہیں رنج گر واں سے تو راحت بھی وہیں سے آوے کون کہتا ہے یہاں وحدت آیات نہیں مجھ سے کہتے ہیں حوائج سے سروکار نہ رکھ میری تعریف بجز قصۂ حاجات نہیں کوئی بتلاؤ شب و روز پہ کیا گزری ہے رات خاموش نہیں دن میں کوئی بات ...

مزید پڑھیے

خود سے کتنا کیا دغا میں نے

خود سے کتنا کیا دغا میں نے ابھی سیکھی نہیں وفا میں نے نکلا چوہا پہاڑ کو کھودا جو کیا جو کہا سنا میں نے کھولیے کیوں دکھوں کے دفتر کو سوچنا بند کر دیا میں نے ہاں لگایا ہے ذکر عظمت پر زور سے ایک قہقہہ میں نے حاصل زیست ہے کہ دیکھا ہے سنبل و سبزہ و صبا میں نے زندگی زہر تھا اسے ...

مزید پڑھیے

خالی ہے ذہن طاقت گفتار کیا کرے

خالی ہے ذہن طاقت گفتار کیا کرے ہے آنکھ بند روزن دیوار کیا کرے ہم عقل دل کے سامنے رکھتے رہے ولے دریا کے آگے ریت کی دیوار کیا کرے جی میرا اب تو میری بھی صحبت سے تنگ ہے ہر رشتہ یاں ہے باعث آزار کیا کرے ہر سو ہے کائنات میں اپنے لہو کا رنگ ہو چشم دل سے دور تو دیدار کیا کرے کہتا ہوں ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی فکر راستی کیا ہے

ہر گھڑی فکر راستی کیا ہے اک مصیبت ہے زندگی کیا ہے گھپ اندھیرا ہے میرے چاروں اور اس میں تھوڑی سی روشنی کیا ہے بہت الجھا ہوا حساب ہے یہ میرا کھاتا ہے کیا بہی کیا ہے نام ہیں نفس کی پرستش کے دوستی کیا ہے دشمنی کیا ہے شہر میں رہ کے دیکھیے اک دن دور جنگل میں راہبی کیا ہے ساری باتوں ...

مزید پڑھیے

عشق کا شور کریں کوئی طلب گار تو ہو

عشق کا شور کریں کوئی طلب گار تو ہو جنس بازار میں لے جائیں خریدار تو ہو ہجر کے سوختہ جاں اور جلیں گے کتنے طور پر بیٹھے ہیں کب سے ترا دیدار تو ہو شدت درد دو پل کے لیے کم ہوتا کہ غم کے الفاظ کے سنگار میں اظہار تو ہو کب سے امید لگائے ہوئے بیٹھے ہیں ہم نے سہی گر نہیں اقرار سو انکار تو ...

مزید پڑھیے

مبدۂ حسن سے کیسے یہ جدا ہے یکسر

مبدۂ حسن سے کیسے یہ جدا ہے یکسر کہ زمان اور مکاں ایک ادا ہے یکسر یہ جو دی ہے ہمیں آزادئ افکار و عمل کوئی بتلاؤ جزا ہے کہ سزا ہے یکسر وقت ہے تیشہ و شمشیر کا جس میں کب سے وہ ہتھیلی ابھی مصروف دعا ہے یکسر مرحبا جشن جبلت کہ نہیں ہم پابند مرحبا زیست کہ آزاد حیا ہے یکسر بات کہنے کو ...

مزید پڑھیے

ہمارے پاس ہے حکمت نہ راز کیا کیجے

ہمارے پاس ہے حکمت نہ راز کیا کیجے سوائے درد دل جاں گداز کیا کیجے عنایتیں ہیں اگرچہ ہزار ہا لیکن بنے نہ بات تو بندہ نواز کیا کیجے نہ ضرب و تار سے رشتہ نہ دل فریبئ دم مرے خیال کو عالم ہے ساز کیا کیجے ز روئے فقہ جو سب سے زیادہ ہے معتوب ہماری اس سے بھی ہے ساز باز کیا کیجے جو جانتے ...

مزید پڑھیے

اخترؔ کو تو ریئے میں بھی ہے عار کیا کرے

اخترؔ کو تو ریئے میں بھی ہے عار کیا کرے بیٹھا ہوا ہے دیر سے بے کار کیا کرے یک ہجوم درد اور اور ای تمام دل زیر پر لگائے ہے منقار کیا کرے تاریخ کہ رہی ہے کہ مٹتا نہیں ہے ظلم مختار کل بتا ترا سنسار کیا کرے کھینچے ہے سب کو دست فنا ایک سا تو پھر ایک سادہ لوح کرے یہاں عیار کیا کرے کوئی ...

مزید پڑھیے

اک عجب ہم نے ماجرا دیکھا

اک عجب ہم نے ماجرا دیکھا درد برداشت سے سوا دیکھا دل بے چین کو کہاں لے جائیں اک جہاں سے اسے لگا دیکھا وائے اختر خدا کو بھول گئے جب کہیں کوئی آسرا دیکھا زہر محرومیٔ مسا چکھا قہر مسمومیٔ صبا دیکھا کوئی امید ہے تو غیروں سے بارہا خود کو آزما دیکھا پھول گلشن میں مور جنگل میں سیم ...

مزید پڑھیے

ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر

ہے نسیم صبح آوارہ اسی کے نام پر بوئے گل ٹھہری ہوئی ہے جس کلی کے نام پر کچھ نہ نکلا دل میں داغ حسرت دل کے سوا ہائے کیا کیا تہمتیں تھیں آدمی کے نام پر پھر رہا ہوں کو بہ کو زنجیر رسوائی لیے ہے تماشا سا تماشا زندگی کے نام پر اب یہ عالم ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں سر مار ڈالا ایک بت نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4272 سے 4657