شاعری

ابھی تو پر بھی نہیں تولتا اڑان کو میں

ابھی تو پر بھی نہیں تولتا اڑان کو میں بلا جواز کھٹکتا ہوں آسمان کو میں مفاہمت نہ سکھا دشمنوں سے اے سالار تری طرف نہ کہیں موڑ دوں کمان کو میں مری طلب کی کوئی چیز شش جہت میں نہیں ہزار چھان چکا ہوں تری دکان کو میں نہیں قبول مجھے کوئی بھی نئی ہجرت کٹاؤں کیوں کسی بلوے میں خاندان کو ...

مزید پڑھیے

آنکھ کھلنے پہ بھی ہوتا ہوں اسی خواب میں گم

آنکھ کھلنے پہ بھی ہوتا ہوں اسی خواب میں گم دیر تک رہتا ہوں اک لذت نایاب میں گم سوچ ہی سوچ میں طوفان اٹھا دیتا ہوں اور ہو جاتا ہوں اک موجۂ گرداب میں گم اک ستارہ جو چمکتا ہے لب بام کہیں دیکھتے دیکھتے ہو جاتا ہے مہتاب میں گم بچ رہے سانس تو جانا ہے انہیں گلیوں میں اور ہونا ہے اسی ...

مزید پڑھیے

خاک سے خواب تلک ایک سی ویرانی ہے

خاک سے خواب تلک ایک سی ویرانی ہے میرے اندر مرے باہر کی بیابانی ہے کوئی منظر کہیں موجود ہے پس منظر میں ورنہ کیا چیز ہے جو باعث حیرانی ہے کہہ کے دیکھیں گے بہ ہر طور مگر پہلے بھی دل خود سر نے کوئی بات کہاں مانی ہے کسے معلوم ہے رکنا کہ گزر جانا ہے شام ہے ٹھہری ہوئی بہتا ہوا پانی ...

مزید پڑھیے

کوئی ہنر تو مری چشم اشکبار میں ہے

کوئی ہنر تو مری چشم اشکبار میں ہے کہ آج بھی وہ کسی خواب کے خمار میں ہے کسی بہار کا منظر ہے چشم ویراں میں کسی گلاب کی خوشبو دل فگار میں ہے عجب تقاضا ہے مجھ سے جدا نہ ہونے کا کہ جیسے کون و مکاں میرے اختیار میں ہے نشان راہ بھی ٹھہرے گا بارشوں کے بعد ابھی یہ نقش کسی راہ کے غبار میں ...

مزید پڑھیے

یوں ہی رکھوگے امتحاں میں کیا

یوں ہی رکھوگے امتحاں میں کیا نہیں آئے گی جان جاں میں کیا کیوں صدا کا نہیں جواب آتا کوئی رہتا نہیں مکاں میں کیا اک زمانہ ہے روبرو میرے تم نہ آؤ گے درمیاں میں کیا وہ جو قصے دلوں کے اندر ہیں وہ بھی لاؤ گے درمیاں میں کیا کس قدر تلخیاں ہیں لہجے میں زہر بوتے ہو تم زباں میں کیا دل کو ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں خواب تازہ ہے دل میں نیا خیال بھی

آنکھوں میں خواب تازہ ہے دل میں نیا خیال بھی اور جو مہرباں رہے گردش ماہ و سال بھی ملنے کی اہتمام تک ہم ترے منتظر رہے اب تو نہیں رہا مگر ملنے کا احتمال بھی وقت کہاں رکا بھلا پر یہ کسے گمان تھا عمر کی زد میں آئے گا تجھ سا پری جمال بھی اس نے دیئے تھے پھول جو اب اسے کیا دکھائیے رکھتا ...

مزید پڑھیے

اب دل بھی دکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی

اب دل بھی دکھاؤ تو اذیت نہیں ہوتی حیرت ہے کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی اب درد بھی اک حد سے گزرنے نہیں پاتا اب ہجر میں وہ پہلی سی وحشت نہیں ہوتی ہوتا ہے تو بس ایک ترے ہجر کا شکوہ ورنہ تو ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی کر دیتا ہے بے ساختہ بانہوں کو کشادہ جب بچ کے نکل جانے کی صورت نہیں ...

مزید پڑھیے

اگر ہر چیز میں اس نے اثر رکھا ہوا ہے

اگر ہر چیز میں اس نے اثر رکھا ہوا ہے تو پھر اب تک مجھے کیوں بے ہنر رکھا ہوا ہے تعلق زندگی سے مختصر رکھا ہوا ہے کہ شانوں پر نہیں نیزے پہ سر رکھا ہوا ہے زمانے سے ابھی تک پوچھتے ہیں اس کی باتیں اسے ہم نے ابھی تک بے خبر رکھا ہوا ہے اب ایسی بے ثمر ساعت میں اس کی یاد کیسی یہ دکھ اچھے ...

مزید پڑھیے

ستارہ آنکھ میں دل میں گلاب کیا رکھنا

ستارہ آنکھ میں دل میں گلاب کیا رکھنا کہ ڈھلتی عمر میں رنگ شباب کیا رکھنا جو ریگزار بدن میں غبار اڑتا ہو تو چشم خاک رسیدہ میں خواب کیا رکھنا سفر نصیب ہی ٹھہرا جو دشت غربت کا تو پھر گماں میں فریب سحاب کیا رکھنا جو ڈوب جانا ہے اک دن جزیرۂ دل بھی تو کوئی نقش سر سطح آب کیا رکھنا الٹ ...

مزید پڑھیے

اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے

اردی و دے سے پرے سود و زیاں سے آگے آؤ چل نکلیں کہیں قید زماں سے آگے اس خرابے میں عبث ہیں غم و شادی دونوں میری تسکین کا مسکن ہے مکاں سے آگے آہ و نالہ ہی سہی اہل وفا کا مسلک اک مقام اور بھی آتا ہے فغاں سے آگے دار تک صاف نظر آتا ہے رشتہ دیکھیں پھر کدھر جاتے ہیں عشاق وہاں سے آگے خون ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4271 سے 4657