شاعری

بڑھتی جاتی ہے پیاس آنکھوں کی

بڑھتی جاتی ہے پیاس آنکھوں کی بات سمجھو اداس آنکھوں کی اک اشارا ہے مست نظروں کا اک نشانی ہے خاص آنکھوں کی تیرے چھالے مجھے بتاتے ہیں تو نے چکھ لی مٹھاس آنکھوں کی سب کو ہر وقت گھورتی ہیں یہ کوئی تو لے کلاس آنکھوں کی اشک ریزی میں کرتا رہتا ہوں تاکہ نکلے بھڑاس آنکھوں کی تم ذرا اس ...

مزید پڑھیے

دکھ میں لپٹا ہوا ستائے بدن

دکھ میں لپٹا ہوا ستائے بدن میں پکارا چلوں کہ ہائے بدن یہ بدن اپنے ساتھ لے جائے اور اپنا وہ چھوڑ جائے بدن پہلے گوندھا گیا خمیر ان کا پھر خدا نے کہیں بنائے بدن روح پرواز کر گئی میری اور کہتی رہی کہ ہائے بدن اک پرندہ کسی کی ہجرت کا نوچ کر لے گیا قبائے بدن تیری الفت کی داستاں ہم ...

مزید پڑھیے

کسی چراغ کی خواہش نہ جستجو مجھ کو

کسی چراغ کی خواہش نہ جستجو مجھ کو میں خود میں جلتا رہوں یہ ہے آرزو مجھ کو یہ اپنا آپ سمیٹا ہے میں نے مشکل سے بکھر نہ جاؤں کہیں اس طرح نہ چھو مجھ کو کسی کو فکر نہیں تھی میرے سوا تیری وگر نہ بھول نہ جاتی کبھی کی تو مجھ کو صلیب و نوک سناں شوک خود سری ہے مرا ڈرا رہا ہے انہیں سے مرا عدو ...

مزید پڑھیے

جہاں کوئی نہیں ہوتا ہے وہاں چیختا ہے

جہاں کوئی نہیں ہوتا ہے وہاں چیختا ہے یہ مرا دوست مرے ساتھ کہاں چیختا ہے چپ ہی رہنے کی تمنا ترے درویش کو ہے ورنہ جس شخص کو ملتا ہے زیاں چیختا ہے بعض اوقات جو سگریٹ میں کچل دیتا ہوں ادھ جلے سوختہ سگریٹ کا دھواں چیختا ہے جب کبھی شعر میں لانے کی تجھے کوشش ہو لفظ سسکاریاں بھرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

کہیں پر ظلم کے شعلے کہیں پر خود پرستی ہے

کہیں پر ظلم کے شعلے کہیں پر خود پرستی ہے چمن کی آبرو خطرے میں ہے یہ بات سچی ہے وہ گھولا زہر نفرت کا سیاست نے فضاؤں میں گلوں کی آنکھ سے شبنم لہو بن کر ٹپکتی ہے بغاوت پر اگر ہم لوگ اتر آئے تو کیا ہوگا ابھی تو ہم نے رسی صبر کی یہ تھام رکھی ہے وہاں انصاف کی امید لے کر جا رہے ہو تم جہاں ...

مزید پڑھیے

ایسا ممکن ہی نہیں درد میں ہر فرد نہ ہو

ایسا ممکن ہی نہیں درد میں ہر فرد نہ ہو کوئی چہرہ تو دکھا خوف سے جو زرد نہ ہو تیرا شفاف بدن خاک نہیں پتھر ہے کیسے ممکن ہے بدن خاک کا ہو گرد نہ ہو ایسا احساس ہے جینے میں نہ مر جانے میں دل میں ٹھنڈک بھی رہے اور بدن سرد نہ ہو کوئی تعویذ بتا جس کے اثر سے مرشد زخم پر زخم تو آ جائے مگر ...

مزید پڑھیے

میں تجھ پہ کر نہیں سکتا نثار اور چراغ

میں تجھ پہ کر نہیں سکتا نثار اور چراغ ہوائے لمس کے جھونکے نہ مار اور چراغ اٹھا کے طاق سے اک روز پھینک دے گا کوئی مرا وجود ترا انتظار اور چراغ سفر کو یاد رہے گا ہمارا رخت سفر یہ سرخ آبلے گرد و غبار اور چراغ تو جان لینا کہ پھر امتحان دوستی ہے اگر بجھایا گیا ایک بار اور چراغ تری ...

مزید پڑھیے

مرے سپرد کیا ہے نہ خود لیا ہے مجھے

مرے سپرد کیا ہے نہ خود لیا ہے مجھے کسی نے حیرت امکاں میں رکھ دیا ہے مجھے بچا نہیں میں ذرا بھی بدن کے برتن میں ترے خیال نے بے ساختہ پیا ہے مجھے تو ایک شخص ہے لیکن تری محبت میں دل و دماغ نے تقسیم کر دیا ہے مجھے میں اپنی سمت بھی دیکھوں تو کفر لگتا ہے خدا نے یاد بڑی چاہ سے کیا ہے ...

مزید پڑھیے

مجھے شعور بھی خواہش کا داغ لگنے لگا

مجھے شعور بھی خواہش کا داغ لگنے لگا جہاں بھی دل کو لگایا دماغ لگنے لگا تلاش اتنا کیا روشنی کو جنگل میں تھکن کے بعد اندھیرا چراغ لگنے لگا کمال درجے کی شفافیت تھی آنکھوں میں خود اپنا عکس مجھے ان میں داغ لگنے لگا پلک پرندہ تھا لب پھول اور زلف شجر وہ چہرہ پہلی نظر میں ہی باغ لگنے ...

مزید پڑھیے

امید جس سے لگی ہے اسی کا دھیان نہیں

امید جس سے لگی ہے اسی کا دھیان نہیں لویں پکار رہی ہیں ہوا کے کان نہیں بڑے سکون سے زندہ ہیں نا مکمل لوگ کسی کی آنکھ نہیں ہے کسی کے کان نہیں مکاں مکاں میں پڑے ہیں کراہتے بوڑھے ہمارے شہر کا کوئی جواں جوان نہیں بتوں کے شہر میں پیدا کیا گیا ہے مجھے کسی میں سوچ نہیں ہے کسی میں جان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4219 سے 4657