شاعری

پہلے بھی کون ساتھ تھا

پہلے بھی کون ساتھ تھا اب جو کوئی نہیں رہا وقت ستم ظریف تھا وقت کا پھر بھی کیا گلہ کیسی عجیب شام تھی کیسا عجیب واقعہ کہنے کو کہہ رہے ہیں لوگ میں نے تجھے بھلا دیا قصہ یہ ہے کہ میں تجھے دل سے کہاں بھلا سکا ترک تعلقات کا باقی ہے ایک مرحلہ باقی ہے اب بھی ذہن میں خوابوں کا ایک ...

مزید پڑھیے

اہل دل فسانوں میں ذکر یار کرتے ہیں

اہل دل فسانوں میں ذکر یار کرتے ہیں مسکرا کے محفل کو اشک بار کرتے ہیں بد نصیب دھرتی کی داستاں ہی ایسی ہے اس کے چاہنے والے اس پہ وار کرتے ہیں دھجیوں کے سودا گر آئیں آ کے لے جائیں ہم خوشی سے دامن کو تار تار کرتے ہیں حادثوں کے کندھوں پر جسم و جاں کو لے آؤ اسپتال کے کمرے انتظار کرتے ...

مزید پڑھیے

گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا کون صحرا میں دے گیا ہے صدا میں نے جب اس کی خیریت پوچھی اس نے باتوں میں مجھ کو ٹال دیا کتنے پنکھے لگا دئے چھت میں پھر بھی گرمی کا زور کم نہ ہوا اونچی اونچی عمارتوں میں کہاں جو سکوں دل کو جھونپڑے میں ملا ساتھ چلتے ہیں لوگ پل دو پل طے ہوا ہے ہر اک سفر ...

مزید پڑھیے

وہ کوئی جادوئی تخلیق نظر آتی ہے

وہ کوئی جادوئی تخلیق نظر آتی ہے دور سے بھی مجھے نزدیک نظر آتی ہے جس سے کھلتا ہے بیاباں میں گلوں کا موسم حسن جاناں میں وہ تحریک نظر آتی ہے ہے محبت میں اجالا ہی اجالا لیکن یہ گپھا دور سے تاریک نظر آتی ہے آپ کیوں ہجر کے ٹاپک پہ پریشاں ہو جی کیا کہیں پر کوئی تشکیک نظر آتی ہے نظم ہو ...

مزید پڑھیے

خط جلائے تری تصویر جلا دی میں نے

خط جلائے تری تصویر جلا دی میں نے آج سگریٹ تری یادوں کی بجھا دی میں نے اڑ گیا ہے میری آنکھوں کا پرندہ کب کا وہ جو سرسبز تھی اک شاخ گرا دی میں نے جو مجھے جان سے پیاری تھی بھری دنیا میں اس حسیں لڑکی کی اب یاد بھلا دی میں نے رات بھر جاگتے رہنے کی مجھے عادت ہے تھپکی اب سینے پہ حسرت تو ...

مزید پڑھیے

آنکھ کے گوشے ہو کر نم آباد ہوئے

آنکھ کے گوشے ہو کر نم آباد ہوئے دل کی بستی کے سب غم آباد ہوئے جیسے اک دریا چومے صحراؤں کو تیرے لمس پہ ایسے ہم آباد ہوئے کس نے چھو کر ہم کو ہوش دلایا ہے کس کے چھونے سے پھر ہم آباد ہوئے دیواریں دروازے اور ہم دیوانے سن کر پائل کی چھم چھم آباد ہوئے دل نے تیرا نام لیا سرشاری ...

مزید پڑھیے

درخت مجھ کو نئی کہانی سنا رہے ہیں

درخت مجھ کو نئی کہانی سنا رہے ہیں کہ یہ پرندے گئے دنوں میں خدا رہے ہیں میں کچھ دنوں میں خدا سے ملنے کو جا رہا ہوں مجھے لکیروں کو پڑھنے والے بتا رہے ہیں تمام شہروں کو دشمنوں نے بچا لیا ہے مرے سپاہی بس اپنی جانیں بچا رہے ہیں سسک رہے ہیں تمام وعدہ نبھانے والے کہ ہم یہ کیسی اذیتوں ...

مزید پڑھیے

میں نے تیری یاد بھلا دی شہزادی

میں نے تیری یاد بھلا دی شہزادی تاج محل کو آگ لگا دی شہزادی میل دلوں کا کر کے اپنے مالک نے بیچ میں اک دیوار اٹھا دی شہزادی ہم بھی خوب ہنسے دنیا کی حالت پر دنیا نے بھی خوب سزا دی شہزادی تیرے جوبن نے میری ان آنکھوں کی ساری پونجی خرچ کرا دی شہزادی تجھ کو کھو کر کھانا پینا چھوڑ ...

مزید پڑھیے

میں جو چاہوں بھی تو ایسا نہیں ہونے دے گی

میں جو چاہوں بھی تو ایسا نہیں ہونے دے گی تو مجھے اور کسی کا نہیں ہونے دے گی تری آواز جگائے گی سماعت میں فسوں تیری صورت مجھے اندھا نہیں ہونے دے گی باپ کوئی بھی مصیبت نہیں آنے دے گا ماں مرے دل میں اندھیرا نہیں ہونے دے گی روز آ جاتا ہے مجھ کو کوئی میسج اس کا یعنی وہ غم کا ازالہ نہیں ...

مزید پڑھیے

کم سے کم عارضی نہیں ہوگی

کم سے کم عارضی نہیں ہوگی موت اتنی بری نہیں ہوگی اتنی چھوٹی ہے کائنات مجھے کھل کے آوارگی نہیں ہوگی دین میں جبر کو روا رکھنا مذہبی خود کشی نہیں ہوگی سب پہ تنقیص کر رہا ہے وہ اس سے اب شاعری نہیں ہوگی حفظ کر لوں گا میں بدن اس کا جیب میں ڈایری نہیں ہوگی سب تمنائیں پوری کرنی ہیں تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4218 سے 4657