آتش زخم سے جب سینہ پگھلتا تھا مرا
آتش زخم سے جب سینہ پگھلتا تھا مرا منہ سے آواز نہیں خون نکلتا تھا مرا سرخ انگارے دہکتے تھے مری آنکھوں میں تیری توہین پہ جب رنگ بدلتا تھا مرا اتنی مانوس تھی احساس کی لو دھوپ کے ساتھ جسم سورج کے اتر جانے سے جلتا تھا مرا کم نہ تھی موت کی رفتار سے رفتار سفر سانس رک جاتے تھے جب قافلہ ...