شاعری

آتش زخم سے جب سینہ پگھلتا تھا مرا

آتش زخم سے جب سینہ پگھلتا تھا مرا منہ سے آواز نہیں خون نکلتا تھا مرا سرخ انگارے دہکتے تھے مری آنکھوں میں تیری توہین پہ جب رنگ بدلتا تھا مرا اتنی مانوس تھی احساس کی لو دھوپ کے ساتھ جسم سورج کے اتر جانے سے جلتا تھا مرا کم نہ تھی موت کی رفتار سے رفتار سفر سانس رک جاتے تھے جب قافلہ ...

مزید پڑھیے

کیا یہ مقتول کی اولاد کی توہین نہیں

کیا یہ مقتول کی اولاد کی توہین نہیں ایک بھی شخص بھرے شہر میں غمگین نہیں دوستی وجہ اذیت بھی ہوا کرتی ہے جیسے میں تیرے لیے باعث تسکین نہیں میں نے دن رات کو ہر رنگ میں ڈھلتے دیکھا کوئی رخ وقت کی تصویر کا رنگین نہیں اجنبی سوچ کے آنا مری مٹی کی طرف کرۂ ارض کا ہر ملک فلسطین نہیں روز ...

مزید پڑھیے

سفر بخیر ہو انجام تک پہنچ جائیں

سفر بخیر ہو انجام تک پہنچ جائیں خدا کرے یہ قدم شام تک پہنچ جائیں سخن کا سارا سفر اس لیے کیا میں نے کہ میرے ہونٹ ترے نام تک پہنچ جائیں نئے جنوں کی اذیت بھی محترم ہے مجھے گزشتہ زخم تو آرام تک پہنچ جائیں مکان حسن سے باہر بھی دیکھ ایسا نہ ہو شریف لوگ در و بام تک پہنچ جائیں خبر نہیں ...

مزید پڑھیے

ابھی ملے ہی نہیں تھے مجھے سراغ مرے

ابھی ملے ہی نہیں تھے مجھے سراغ مرے ہوائے وقت نے گل کر دیے چراغ مرے فلک شعور پہ غالب زمیں جبلت پر خلا سمیٹے ہوئے ہیں دل و دماغ مرے سنبھال رکھے گی اولاد آخرش کب تک قلم دوات کتابیں بجھے چراغ مرے گرا دیا تری تعمیر نے مرا سب کچھ نہ گاؤں گاؤں رہا اور نہ باغ باغ مرے قدم قدم پہ ملیں گے ...

مزید پڑھیے

سواد شوق و طلب غم کا باب ایسا تھا

سواد شوق و طلب غم کا باب ایسا تھا جلا کے خاک کیا اضطراب ایسا تھا بہت ہی تلخ تھا یعنی شراب ایسا تھا سوال یاد نہیں ہے جواب ایسا تھا تمازتوں نے غم ہجر کی اجاڑ دیا بدن تھا پھول سا چہرہ کتاب ایسا تھا میں کانپ کانپ گیا ہوں بنام سود و زیاں شمار زخم ہنر کا جواب ایسا تھا سلگ رہے تھے مرے ...

مزید پڑھیے

اے نیش عشق تیرے خریدار کیا ہوئے

اے نیش عشق تیرے خریدار کیا ہوئے تھی جن کے دم سے رونق بازار کیا ہوئے بول اے ہوائے شام وہ بیمار کیا ہوئے مونس ترے رفیق ترے یار کیا ہوئے اے جرم عشق تیرے گنہ گار کیا ہوئے اے دوست تیرے ہجر کے بیمار کیا ہوئے رسم وفا کا ذکر تو اب ذکر رہ گیا وہ پیکر وفا وہ وفادار کیا ہوئے اے کم شناس وقت ...

مزید پڑھیے

حسین خواب سفر کے دکھا گیا ہے کون

حسین خواب سفر کے دکھا گیا ہے کون بدن میں آگ سی یارو لگا گیا ہے کون اداس رات میں تارے ابھر کے ڈوب گئے یہ آج بزم طرب سے چلا گیا ہے کون پڑی ہوئی تھی جو بنجر زمین مدت سے ہنر کے پیڑ یہ اس میں اگا گیا ہے کون نہ اب کے موسم گل کا بھی انکشاف ہوا دیے جلا کے یہ آنکھیں بجھا گیا ہے کون دل و نظر ...

مزید پڑھیے

مجھے خواب سراب عذاب دئے مری روح کا نغمہ چھین لیا

مجھے خواب سراب عذاب دئے مری روح کا نغمہ چھین لیا آشوب ملال عشرت جاں وجدانؔ سے کیا کیا چھین لیا اک رنج سفر کی دھول مرے چہرے پہ گرد ملال ہوئی اک کیف جو سنگی ساتھی تھا اس کیف کا سایہ چھین لیا مرے ہاتھ بھی زخم دل کی طرح میں ٹوٹ گیا ساحل کی طرح اے درد غم ہجراں تو نے کیا مجھ کو دیا کیا ...

مزید پڑھیے

میں لوح ارض پر نازل ہوا صحیفہ ہوں

میں لوح ارض پر نازل ہوا صحیفہ ہوں دلوں پہ ثبت ہوں پیشانیوں پہ لکھا ہوں پرانی رت مرا مژدہ سنا کے جاتی ہے نئی رتوں کے جلو میں سدا اترتا ہوں میں کون ہوں مجھے سب پوچھنے سے ڈرتے ہیں میں روز ایک نئے کرب سے گزرتا ہوں میں ایک زندہ حقیقت ہوں کون جھٹلائے جو ہونٹ بند رہیں آنکھ سے چھلکتا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے وقت میں اپنی ردا میں رہتا ہوں

میں اپنے وقت میں اپنی ردا میں رہتا ہوں اور اپنے خواب کی آب و ہوا میں رہتا ہوں کبھی زمین کبھی سیرگاہ ماہ و نجوم کبھی میں عکس نظر آشنا میں رہتا ہوں سماعتوں پر اترتا ہوں مثل صوت یقیں دلوں کے واہمۂ برملا میں رہتا ہوں میں اڑتی گرد ہوں اہل ہنر کے تیشے کی اور اہل درد کی بھی خاک پا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4220 سے 4657