شاعری

آرزو نے جس کی پوروں تک تھا سہلایا مجھے

آرزو نے جس کی پوروں تک تھا سہلایا مجھے خاک آخر کر گیا اس چاند کا سایہ مجھے گھپ اندھیرے میں بھی اس کا جسم تھا چاندی کا شہر چاند جب نکلا تو وہ سونا نظر آیا مجھے آنکھ پر تنکوں کی چلمن ہونٹ پر لوہے کا قفل اے دل بے خانماں کس گھر میں لے آیا مجھے کس قدر تھا مطمئن میں پیڑ کے سائے ...

مزید پڑھیے

موسم سرد ہواؤں کا

موسم سرد ہواؤں کا میرے گھر سے نکلا تھا چپ طاری تھی دنیا پر ایک فقط میں رویا تھا وہ جو دل میں طوفاں تھا قطرہ قطرہ برسا تھا دکھ کے طاق پہ شام ڈھلے کس نے دیا جلایا تھا اب کے موسم برکھا کا برقعہ پہن کے نکلا تھا ساٹھویں سال کے آنے پر پہلی بار میں ہنسا تھا آگ لگی تھی دریا میں لیکن ...

مزید پڑھیے

سفینہ لے گئے موجوں کی گرم جوشی میں

سفینہ لے گئے موجوں کی گرم جوشی میں ہزیمت آئی نظر جب کنارا کوشی میں نشہ چڑھا تو زباں پر نہ اختیار رہا وہ منکشف ہوئے خود اپنی بادہ نوشی میں بنا لیا اسے ثانی پھر اپنی فطرت کا سکوں جو ملنے لگا ان کو زہر نوشی میں قبول رب کریم و رحیم نے کر لی مری زباں پہ جو آئی دعا خموشی میں کھلی ...

مزید پڑھیے

سانسوں میں مل گئی تری سانسوں کی باس تھی

سانسوں میں مل گئی تری سانسوں کی باس تھی بہکی ہوئی نظر تھی کہ پھر بھی اداس تھی بے شک شکست دل پہ وہ مبہوت رہ گیا لیکن شکست دل میں بھی زندہ اک آس تھی گر تو مرے حواس پہ چھایا ہوا نہ تھا ہستی وہ کون تھی جو مرے دل کے پاس تھی بارش سے آسمان کا چہرہ تو دھل گیا دھرتی کے ہونٹ پر ابھی صدیوں ...

مزید پڑھیے

وہ پوچھتی ہے مرے لیے تم نے کیا کیا ہے

وہ پوچھتی ہے مرے لیے تم نے کیا کیا ہے یہ سب سخن تیرے واسطے تو لکھا ہوا ہے سب آ کے کہتے ہیں مجھ کو بیٹا پڑھائی کر لو پڑھائی کرکے کس آدمی کا بھلا ہوا ہے سبھی نئے رشتے اس کے زیادہ چلے نہیں ہیں سو واپسی کا یقین اب بھی بنا ہوا ہے وہ جیسا بھی ہے تم اس کو ویسا قبول کر لو وہ جونؔ کی شاعری ...

مزید پڑھیے

اس قدر تڑپوں گا تیرے ہجر میں سوچا نہ تھا

اس قدر تڑپوں گا تیرے ہجر میں سوچا نہ تھا اور مجھے یہ لگ رہا تھا تجھ پہ دل آیا نہ تھا اپنے زخموں کو کریدا ہے بڑے ہی شوق سے زخم کا بھرنا ہمارے واسطے اچھا نہ تھا ہاں میں تیرے ہجر میں تڑپا ہوں لیکن یہ بھی سن شاعری کرنے لگوں میں اتنا بھی اجڑا نہ تھا اور پھر اک دن مجھے خود کو رلانا پڑ ...

مزید پڑھیے

تیرے زخموں کی عیادت نہیں کرنے والے

تیرے زخموں کی عیادت نہیں کرنے والے اب دکھاوے کی محبت نہیں کرنے والے تو نے یہ حسن جنہیں سونپ دیا ہے وہ لوگ تیری آنکھوں کی حفاظت نہیں کرنے والے ہم کو تدبیر سے ان مشکلوں میں ڈالا گیا جب بھی ٹھانی کہ عبادت نہیں کرنے والے ہاں وہی لوگ بنے پھرتے ہیں اب شاہ سخن وہ جو کہتے تھے محبت نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ جو بکھرے ہیں انہیں کوئی دعا مل جائے

یہ جو بکھرے ہیں انہیں کوئی دعا مل جائے اب حمایت نہ سہی ان کو عزا مل جائے میری خواہش ہے کہ تو آئے عیادت کرنے اور تجھے میرا کوئی زخم ہرا مل جائے جیتے جی ہم کو کوئی گھر تو میسر نہ ہوا کسی کے دل میں تو رہنے کو جگہ مل جائے زخم کھائیں گے مگر عشق نہیں چھوڑیں گے عشق کرنے کی بھلے کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

جو دل میں تھا کہا ہوتا

جو دل میں تھا کہا ہوتا تو دونوں کا بھلا ہوتا اگر تو بے وفا ہوتا تو کوئی تو گلا ہوتا تجھے کیوں ڈھونڈھتی پھرتی تو گر مجھ میں ملا ہوتا اگر ہم ساتھ چل پاتے تو یہ بھی قافلہ ہوتا قضا سے قبل آنا تھا مرا دل جی رہا ہوتا تبسمؔ ہے تو سب کچھ ہے نہیں ہوتی تو کیا ہوتا

مزید پڑھیے

جب نگاہوں کے اشارے رقص کرتے ہیں

جب نگاہوں کے اشارے رقص کرتے ہیں تب دلوں میں بھی شرارے رقص کرتے ہیں عاشقی میں سب بچارے رقص کرتے ہیں عشق میں برباد سارے رقص کرتے ہیں وصل کی اس اک گھڑی کے جشن میں اکثر آسماں پر سب ستارے رقص کرتے ہیں راستے سے جب بھی گزرے یار میرا تب میرے گھر کے سب منارے رقص کرتے ہیں ڈوبتی کشتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4083 سے 4657